Home / شمارہ دسمبر 2017 / تبصرہ کتاب

تبصرہ کتاب

ابن ریاض اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا ابھرتا ہوا نام ہے۔ ان کی پہلی کتاب اسی برس” شگوفہ سحر” کے عنوان سے شایع ہوئی ہے اور فی الواقع  اس قابل ہے کہ اردو ادب ، بالخصوص طنز و مزاح سے دلچسپی رکھنے والا ہر صاحب ذوق  اس کا مطالعہ کرے۔بنیادی طور پر یہ مزاحیہ مضامین پر ہی مشتمل کتاب ہے۔لیکن صاحب کتاب چونکہ تدریس سے بھی تعلق رکھتے ہیں  تو  چندمضامین علمی و سنجیدہ نوعیت کے بھی ہیں شامل کردیے گئے ہیں۔معاشرے کے موجودہ  تلخ حالات میں  سوچوں میں شیرینی گھولتا اچھا مزاح پڑھنے کے لیے ابن ریاض کی یہ کتاب بہترین ہے۔اختصار،حقیقت،طنز و مزاح سبھی کچھ اس طرح روانی  سے اس میں  ضم   ہےکہ کچھ بھی ٹھونسا ہوا محسوس نہیں ہوا۔

“ہمارے ناول اور جہاد باقلم”،”سعودی عرب میں رمضان” ،” کامیاب تحریر کے گر”،”عینک ہے بڑی چیز” ان کے کمال کے لکھے گئے مضامین میں سے چند کے عنوانات ہیں ۔ان کی تحریروں میں ابن انشاءکا رنگ جھلکتا ہے۔جس کا اعتراف  وہ خود ہی پیش لفظ میں اس طرح پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ہمارے قارئین کو ہماری تحریروں میں ابن انشاء کا رنگ نظر آئے۔ابن انشاء ہمارے پسندیدہ مصنف و مزاح نگار ہیں۔انہیں ہم نے بہت ذیادہ پڑھا اور ان کی شاید ہی کوئی تحریر ہو جو ہماری نظر سے نہ گزری ہو تو اس رنگ کا آنا قدرتی بات ہے۔ہم جیسے نا آموز کے لیے یہ بڑی سعادت اور عزت افزائی ہے اور باعث طمانیت بھی کہ  اتنے بڑے ادیب کا رنگ ہماری ادنیٰ سی تحریر میں جھلکتا ہے۔

ابن ریاض کے یہ جملے جہاں ابن انشاء کا تعارف ہیں،وہیں ابن ریاض کی اپنی شخصیت کا بیان ہیں ۔ایک سچے مصنف و تخلیق کار کی پہلی نشاندہی یہی ہے کہ وہ انکسار اور عاجزی کو اپنا وطیرا بنائے رکھتا ہے ۔،کچھ آگے چل کر رقمطراز  ہیں۔َہمارے کچھ قارئین کا یہ فرمانا ہے کہ ہمارے کالم سے انہیں نیند آ جاتی ہے۔حالانکہ یہ کام کورس کی کتابوں کا ہوتا ہے۔مگر اس کتاب کی اضافی خوبی یہ ہے کہ کورس میں شامل نہ ہونے کے باوجود بھی اس میں وہی خوبیاں ہیں جو کہ ایک کورس کی کتاب میں ہوتی ہیں یعنی کہ یہ کم خوابی کے مریضوں کے لیے اکثیر ہے۔مہنگی مہنگی دوائیں لینے سے کہیں اچھا یہ نسخہ ہے کہ یہ کتاب پڑھیں اور نیند کی آغوش میں چلے جائیں۔

“شگوفہ سحر” نامی اس کتاب  کے تعارف میں  احتشام جمیل شامی  نے  “ابن انشاء کا جانشین۔۔ابن ریاض “کے نام سے تعارفی سطور لکھی ہیں جن میں وہ رقم طراز ہیں ابن ِ ریاض کا ہر مضمون ،ہر کالم ،ہر پیرا اور ہر جملہ باکمال ہے۔مزاح کا ایسا انداز بہت کم پڑھنے کو ملتا ہے۔ان کے کالم پڑھ کر آپ ایک نئے لطف سے آشنا ہوں گے۔بعض جگہ ممکن ہے آپ خود کو کنڑول نہ کرسکیں اور ایک زور دار قہقہہ لگانا پڑ جائے۔

یہاں مجھے اردو مزاح نگاری کا ایک اور معتبر حوالہ پطرس بخاری یاد آگئے، پطرس  بخاری ایک کالج میں زیر تعلیم ہوتے ہیں اور کتابیں خریدتے رہتے ہیں البتہ ان کتابوں کے مطا لعہ کی نوبت کبھی نہیں آئی،ان کی ایک کلاس فیلومیبل ان سے وہ کتابیں مطالعہ کے لئے لے جاتی ہے اور پھر یہ دونوں ان کتابوں کے محتوبات پر تبصرہ کرتے ہیں ،کچھ عرصہ بعد پطرس کو اپنے گناہ کا احساس ہوتا ہے وہ میبل کو حقیقت بتاتا ہے کہ اس نے ابھی تک کوئی کتاب نہیں پڑھی،بس ایویں ہی تبصرہ کرتا رہا ہےاور آئندہ وہ باقاعدہ مطالعہ کرے گا پھر کوئی رائے پیش کرئے گا۔

میبل وہ معذ رت قبول کر لیتی ہے،پطرس واپس آکر میبل کی مطالعہ کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ایسی حیرانی ہوتی کہ ان کتابوں کے بعض صفحات ابھی تک جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔آپ دوستوں سے شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ خوبصورت کتاب” شگوفہء سحر” آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کے صفحات جڑے نہ رہنے دیجئے گا مکمل پڑھیے گا آپ کو ہر صفحہ بھرپور مزا دے گا۔

ابن ِریاض کے کالم یقیناً ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں۔کالم کی کلید اور اکائی سچ ہے اور سچ ہی خوبصورتی ہے۔امید ہے یہ خوبصورتی آپ کو کالموں کے باطن میں بھی نظر آئے گی۔

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *