Home / شمارہ نومبر 2017 / ترقی کی جستجو

ترقی کی جستجو

انسانی ذات اپنے آغاز سے انجام تک مسلسل ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے اور انسان میں آگے بڑھنے، ترقی کرنے کی جستجو ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ترقی کرنا ہر انسان کا حق ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ترقی آخر کسے کہتے ہیں ؟ کیا صرف مال و دولت کی فراوانی کا نام ترقی ہے ؟ یا اپنے موجودہ عُہدے سے بلند عُہدے پر فائز ہونے کا نام ترقی ہے ؟

ترقی کی اس الجھن کو سلجھانے سے پہلے انسان کو اپنے مقصدِ حیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی چاہت کیا ہے؟ وہ اپنی زندگی کو کس مقصد کے حصول کے لیے صَرف کر رہا ہے؟ کیونکہ انسان کے اپنے مقصد حیات تک پہنچنے کا نام ہی اس کی ترقی ہے۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ انسان کی اپنی سوچ سمجھ اور خواہش کے مطابق کی گئی ترقی ایک جرم ہو۔

 جیسے ایک چور کی خواہش ہے کہ وہ بینک لوٹے اور کروڑ پتی بن جائے۔ اس نے ایک پلان تیار کیا جس میں اسے مہینوں یا سالوں لگ گئے۔ پوری طرح سوچ بچار کے بعد تیار کیے گئے پلان پر عمل پیرا ہو کر ایک دن بینک لوٹنے اور پھر فرار ہونے میں ”کامیاب“ ہوگیا۔ اور اس طرح ایک عام چور دولت لوٹ کر غریب آدمی سے کروڑ پتی بن گیا۔ کیا پوری سوچ بچار سے کیا گیا یہ عمل اور اس عمل کے “کامیاب نتیجے” کو ترقی گردانا جائے گا؟ یقینا ہر باشعور اس کی نفی کرے گا۔

 مگر چور آخر ایک انسان ہے اس کے جذبات و احساسات ہیں وہ اپنا مستقبل بہتر بنانا چاہتا ہے تو پھر ایک ”کامیاب چوری“ کر کے امیر ہونے کے عمل کو ترقی کیوں نہیں سمجھاجا سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ایک قانونی جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔ اور جرم ایک عملِ احسن نہیں بلکہ عملِ مُذلت ہے۔ اور قانون شکن چور مستحقِ سزا۔ مگر اب یہاں پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جرم کیا صرف قانونی اور معاشرتی ہوتے ہیں؟ کیونکہ قانونی جرم تو وہی ہے جو ثابت ہو جائے جو ثابت نہ ہو سکے اس پر تو کوئی سزا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ الزام لگانے والا ہتکِ عزت کا مجرم ٹھہر سکتا ہے۔

تو اب جب چور اپنی منصوبہ سازی میں کامیاب ہو گیا اور کامیابی کے بعد نہ خود پکڑا گیا نہ ہی اس کا جرم۔ تو مجرم کہاں اور کس کی نظر میں ٹھہرا؟ اسی نقطے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ترقی کا بھید اسی میں چھپا ہے۔ انسان کا معاشرتی تعلقات کے ساتھ ساتھ ایک تعلق اپنے خدا سے بھی ہے اور یہی تعلق، تعلقِ حقیقی اور تعلقِ اول ہے۔ جو انسان کو بندگی سکھلا کر بندہ بناتا ہے۔ ایک مسلمان صرف کسی ملک کے قانون یا آئین کی رو سے ہی نہیں بلکہ حکم خداوندی سے پابند ہو کر چوری نہیں کر سکتا۔ وگرنہ خدا کی کچہری کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

اور اسی بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ انسان کی ترجیح اول کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی مرضی یا اپنی خواہش؟ بندے کی ترجیح کا چناؤ ہی اس کا مقصد اس پر کھول دیتا ہے، جس کا نتیجہ زندگی کے اختتام پر برآمد ہو جائے گا۔ لہذا ایک مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے علاوہ ترقی کا اور کیا مفہوم ہو سکتا ہے؟ دوسرے سانس کا پہلے سے بہتر ہونا ہی ترقی ہے۔ بندے کے لیے راہِ بندگی پر چلنا ہی اس کا شرف ہے اور اس بندگی پر قائم رہ کر اللہ کی خوشنودی کو پانا مقصدِ حیات۔ اور اس مقصدِ حیات میں کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

 ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور کیے انہوں نے نیک عمل، ان کے لیے ہیں بہشت کے باغ، بہہ رہی ہوں گی جن کے نیچے نہریں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی “

(سورة البروج آیت ۱۱)

مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے دو باتوں کا ذکر کیا ہےجن میں ایک کا تعلق اعتقاد اور دوسری کا صالح عمل سے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لیے لازم ہے کہ اپنی زندگی کو ہر ممکن حد تک رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے قریب لائے۔ عمل وہی صالح ہے جس پر تصدیق کی مہر رسول اللہ ﷺ اور ان کے تربیت یافتہ اصحابؓ کی لگی ہو۔ اپنے ہاتھ کو امانت دار اور زبان کو برائیوں سے پاک کرنا اور پاک رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اور مسلمان کی عملی پہچان ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کہیں پر دولت کمانے یا کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے سے منع نہیں کیا۔ مگر حلال و حرام کی قدغن ضرور ہر جگہ قائم کر رکھی ہے۔ جس کی حدود کو پھلانگنا بغاوت کے مترادف ہے اور بغاوت تو کوئی عام بادشاہ بھی اپنی سلطنت میں برداشت نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے تقرب کو پانے کی کامل جستجو عطا فرمائے۔ جو ایک مومن کی شان اور حقیقی ارتقاء ہے۔ جس کا نتیجہ ”فوزُ الْکبیر“ یعنی بہت بڑی کامیابی ہے۔

About محمد اویس حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *