Home / شمارہ نومبر 2017 / تعصب کے نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

تعصب کے نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

(حصہ دوم)

!بات سننے کی عادت بنائیے 

ایسے افراد جن سے آپ کسی نظریاتی اختلاف کی بِنا پر بات کرنے سے کتراتے ہوں ، ہمت کر کے ان سے بات کیجیے ۔ ان کی بات کو فراخ دِلی اور غیر جانبداری کا رویہ اپناتے ہوئے سنیے اور مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کیجیے ۔ جلد ہی آپ کو محسوس ہو گا کہ بہت سے خدشات جو  اب تک آپ کو گفتگو سے روکنے اور غلط فہمیوں کا باعث تھے وہ رفع ہو گئے ۔

!روایت کی رکاوٹ کو توڑیے 

آپ کو اپنے معاشرے میں بہت سی مروجہ روایات اور قوانین سے واسطہ پڑتا ہے ۔ ان بے فائدہ روایات کو توڑ کر با فائدہ روایات کو اختیار کرنے میں آپ کو بعض اوقات شدید مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بنا پر آپ ان آراء کو اختیار کر لیتے ہیں اور پھر ان کے دفاع کی خاطر   تعصب کے فروغ میں بھی پیش پیش رہتے ہیں ۔ بِلا تجزیہ ہی معاشرے  کے افراد کی توقعات پر اپنا  رویہ تشکیل دینا آپ کے اندر ایک بہت بڑے بیمار خطے کو جنم دیتا ہے  اور زمانے کے ساتھ چلنے کی دھن آپ کو شدید ترین  تعصب میں مبتلا کیے رکھتی ہے ۔ایک مطالعے کے مطابق ہمارے معاشرے میں پچھتر فیصد سے زیادہ لوگ اپنی  آراء اور رویوں کی تشکیل میں اندرونی سے زیادہ بیرونی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں ۔  اس کا حل یہ ہے کہ اپنے کنٹرول کے محور (locus of control)پر غور کیجیے۔ مثلا اگر آپ سے آپ کی رائے  کی بنیاد کے بارے میں سوال کیا جائے اور آپ کا جواب کچھ یوں ہو کہ فلاں فلاں شخصیات یا اکثریت وغیرہ کا یہی نقطہ نظر ہے تو  یہ آپ کا بیرونی محور ہے اور اگر آپ کی رائے کی بنیاد  آپ کی دریافت اور غور و فکر کے مطابق دلائل پر مبنی ہو تو یہ آپ کا اندرونی محور ہے ۔ چنانچہ تعصب سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی آراء کو  اپنے اندرونی محورِ کنٹرول پر پرکھتے رہیے ۔

درست انڈرسٹینڈنگ

اختلافِ رائے کرتے ہوے اپنی ذات اور معاشرے میں تعصب کے فروغ کا ایک اہم سبب اگلے کی رائے کو درست طریقہ سے نا سمجھنا ہے ۔   مخالف کا نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش کیے بغیر ہی  اپنی بات پر اصرار اختلاف کو طول دینے کی بڑی وجہ ہے ۔ اس کے حل کے لیے تین باتیں قابلِ غور ہیں :

1۔ مخالف کی گفتگو کے دوران اکثر آپ دماغی طور پر بے چینی محسوس کرتے ہیں  جس بنا پر اس کی بات پر سے ارتکاز  concentration محو ہو جاتا ہے ۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا مخالف کی طرف سے کسی ایسی دلیل کا خوف جس کا آپ کے پاس جواب نا بن پائے ۔ یعنی ساری توجہ آپ کی جوابی ردِ عمل کی فکر میں رہتی ہے ۔ چنانچہ  اس بے چینی کی کیفیت سے صرفِ نظر کرتے ہوے مخالف کی بات پر توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کیجیے ۔

2۔ مخالف کی بات پوری ہونے تک خاموشی  اور قرار سے  مکمل بات سنیے  اور درمیان میں اسے بار بار ٹوکنے کی کوشش مت کیجیے ۔

3۔ جو بھی دلائل مخالف کی طرف سے آئیں   فوری طور پر ان کا جواب سوچنے کی بجائے پہلے ان دلائل کے بارے میں غور و فکر کیجیے  ۔ بے شک آپ کو اس کے لیے وقت لینا پڑے ، جواب دینے میں جلدی کرنے کی بجائے   غور و فکر کی نشست تک اسے ملتوی کر دیجیے اور اسے ہار جیت کا نفسیاتی مسئلہ ہر گز نہ بنائیے ۔

About امِ مریم

One comment

  1. ماشاء اللہ
    اللہ علم وعمل میں اضافہ فرمائیں آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *