Home / شمارہ ستمبر 2017 / تعصب کے نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

تعصب کے نفسیاتی محرکات اور ان کا حل

جب آپ کسی بھی رائے پر  درست اور غلط کے مخمصے میں پھنس جاتے ہیں تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے چیزوں کو اپنے تئیں پہلے سے ہی درست اور غلط ٹھہرا لیا ہوتا ہے جس کی بنیادی وجہ درحقیقت آپ کے اپنے قائم کردہ ”توقعات“ ہوتی ہیں یعنی ایسا ہونا چاہیے ۔۔ویسا ہونا چاہیے ۔۔ یہاں آپ درحقیقت اپنے مخصوص تناظر ہی کو درست متعین کر لیتے ہیں اور اپنی خوشی کے لیے بعض چیزوں کو غلط اور بعض کودرست قرار دے رہے ہوتے ہیں ۔ یہ سراس ر ایک حماقت ہو سکتی ہے کیونکہ اس تناظر میں غلط اور درست کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ اس صورت میں بعض غلط چیزوں کو بھی آپ درست سمجھ لیتے ہیں اور بعض درست چیزوں کو غلط۔ ایسے معاملات میں  سیاہ یا سفید ، ہاں یا نہیں ، دائیں یا بائیں ہی پر اصرار کے بجائے  پہلے اچھی طرح معاملے کی نوعیت کو جانچ لیجیے ۔

 اگرچہ چند چیزیں ایسی بھی ہوتی  ہیں جن میں واضح طور پر درست یا غلط کی تخصیص کی جا سکتی ہے لیکن بہت سے معاملات ، بہت سی چیزیں ایسی  ہوتی ہیں جن پر  درستی کے اطلاق میں ایک سے زیادہ رائے  بھی  مناسب اور قابلِ قبول ہو سکتی ہیں ۔ اور زیادہ تر ایسی ہی چیزوں پر بحث و مباحثہ کرنے اور اپنے مخصوص تناظر ہی کو درست ثابت کرنے کی جدوجہد سے گریز کی راہ اختیار کرنا آپ کےتعصب کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد گار ہو گا ۔ دین کے معاملے میں اس کی مثال اکثر و بیشتر فروعی و اجتہادی معاملات  ہیں ۔

اپنی سوچ کےاس کمزور خطے سے نکالیے  کہ اگر آپ ہی کی رائے کو تسلیم کیا جاے تو ہی آپ معتبر ہوں گے اور ایسے  معاملات پر اپنی برتری ثابت کرنے کی   بجائے معتدل اور درست رویہ اپنایے یعنی دوسروں پر اپنی رائے کو  مسلط کرنے کی خواہش  کو ترک کیجیے ، ان کی مختلف رائے کا بھی احترام کرنا سیکھئے، مختلف فیصلوں اور ان کے نتائج کے متعلق سوچئے اور ان کے غلط یا درست ہونے پر ہی فوکس کرنے کی بجائے اس کے مختلف ہونے کے امکان  کو بھی ذہن میں رکھیے۔

 ہمیشہ یاد رکھیے کہ ہر انسان کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہتا ہے انتخاب کرے،  خواہ آپ اس پر کتنا ہی کڑھتے رہیں ۔ایسے معاملات میں۔وہ عمل ضرور اپنائیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے طے کرنا چھوڑ دیں کہ انہیں کیا اپنانا چاہیے۔

بسا اوقات نہ صرف ہم خود تعصب میں مبتلاء ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی تعصب میں مبتلا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسا بالعموم اس وقت ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی معاملے میں مزاحمت کو درست طریقے سے ہینڈل نہ کریں۔ کسی بھی معاملے پر اختلاف کرتے ہوئے آپ کے رابطے یا رویے میں لچک کا نہ ہونا بھی  آپ کی شخصیت اور معاشرے میں تعصب کو فروغ دیتا ہے ۔اپنی رائے پیش کرتے وقت آپ کا اسلوب، گفتگو اور مکالمے کا انداز ہی اکثر و بیشتر مزاحمت کی بڑی وجہ بن جاتی ہے ۔ ایسی صورت حال میں آپ مثبت الفاظ یا تراکیب کا استعمال  کر تے ہوے بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں ۔یاد رکھیں کہ اس کے لیے آپ کا دوسرے فرد کی رائے سے متفق ہونا ہی لازم نہیں بلکہ آپ مختلف رائے رکھنے کے باوجود بھی کسی فرد کے احساسات کو سراہ سکتے ہیں ۔اسے احترام تو دے سکتے ہیں اس سے آپ کے اندر خود کو پرفیکٹ سمجھنے کی نفسیات کا بھی خاتمہ ہو گا ۔

 مثال کے طور پر کوئی شخص آپ سے یہ کہتا ہے کہ تم سراسر غلط ہو تو اس کے جواب میں یہ کہنے کی بجائے کہ “نہیں میں غلط نہیں  ہوں” ،  آپ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں   ”میں اس بارے میں آپ کے جذبات کوسمجھتا ہوں اور ان کی قدر کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ میرا موقف بھی سن لیں تو شاید آپ کو کچھ مختلف محسوس ہو “ یا آپ بات کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کی نیت پر حملہ آور ہونے کی بجائے اسے سراہتے ہوئے اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں ۔۔اس طرح آپ خود کو صرف اپنی رائےکے خول میں مقید کرنے کی بجاے دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے بھی آمادہ کر سکتے ہیں۔ یہ عمل آپ کو تعصب سے محفوظ رکھنے کا ایک بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے اگر آپ ایمانداری کے ساتھ  دوسرے لوگوں سے حسنِ ظن رکھنے کی عادت کو  اپنی شخصیت میں راسخ کر لیں ۔

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *