Home / شمارہ اپریل 2018 / روح کے زخموں کا مرہم

روح کے زخموں کا مرہم

تحریر: ام حبیبہ

ضمیر انسان کے اندر خدا کی پوشیدہ مگر واضح آواز ہے ۔(محمد علی باکسر) میرا ضمیر زندہ ہے اس لئے میں لکھ رہی ہوں، مگر ایک نظر میں اپنے اطراف میں ڈالوں تو حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ احساس اور شعور سے ماورا ماحول ،ظالم معاشرہ ، بیمار سوچ اور بےحس رویے ، ہماری زندگی صرف سانس لینے کا نام رہ گئی ہے۔

 سوشل میڈیا کے تناظر میں کچھ دلسوز سچی خبروں پر بات کرتے ہیں۔ایک چوبیس سالہ نوجوان انجنیئر نے بےروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔تحقیق سے معلوم ہوا تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانہ سے تعلق تھا ۔والدہ ایک مستند اسکول کی پرنسپل ہیں۔فہم قاصر ہے کہ کیا کمی رہ گئی تھی جو جوان زندگی سے منہ موڑ گیا۔پرنسپل کے عہدے تک پہنچنے والی قابل ماں کی نظروں سے اپنے جگر کے گوشےکا ڈپریشن کیوں اوجھل رہا یا اولاد کی ذہنی حالت گوناگو مصروفیات کے سامنے اہم نہیں ہے۔

دوسری سچی خبر ،لاہور کے مشہور گرامر اسکول کی ہونہار اٹھارہ سالہ طالبہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئی۔والدہ کا بیان ہے اسکول پرنسپل ،اساتذہ کا بےجا دباؤ تھا تمھارا داخلہ نہیں بھیجیں گے۔ حالانکہ طالبہ انتہائی ذہين تھی ۔دماغ ماؤف کہ قوم کے معمار ادارے موت بانٹ رہے ہیں۔

چلیں ایک سروے رپورٹ کو ذرا دیکھ لیں ،جس کا ذکر ٹی وی اور سوشل میڈیا پرخوب ہوا کہ پرائیوٹ اسکول بالخصوص اسلام آباد میں منشیات کا کھلے عام استعمال اور خريد و فروخت ہوتی ہے ۔سگریٹ نوشی ،شیشہ اور ڈانس پارٹی بھی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔پرائیوٹ مشہور تعلیمی ادارے ہر طرح کی بےراہ روی کا گڑھ بن چکے ہیں۔ اساتذہ بھی اس بے اس گھناؤنے کاروبار کا حصہ ہیں۔

 عقل پوچھتی ہے یہ اندھیر نگری ہے۔ ایک بھیانک انکشاف کہ پاکستان میں طلاق کی شرح پچاس فی صد تک پہنچ چکی ہے اور خانگی جھگڑوں کے یہ واقعات جن کی اصل وجہ بھی نفسیاتی مسائل ہیں ابھی اخبارات کی زینت بہت ذیاده نہیں بنے ہیں۔ مگر کسی فیملی کورٹ یا یونین کونسل کا ریکارڈ چیک کریں تو اندازہ ہوگا شادیاں دنوں میں ختم ہورہی ہیں۔بیشتر فریقین کا تعلق بظاہر مذہبی ،مہذب ،امیر وکبیر،تعلیم یافتہ ، سیاسی خاندانوں سے ہے۔مرد حضرات ہر نئے تجربے کی بنیاد ایک طلاق پر رکھ رہے ہیں۔بیبیاں بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں ۔ایک نہیں تین چار بچوں کے بعد بھی مردوزن مطمئن نہیں ہیں ۔بدقسمتی سے جو اولاد وجود میں آتی اس کا الميہ الگ ہے ۔ذہنی ہم آہنگی کو بنیاد بناکر ہم طلاق کو معمولی اہميت دے رہے ہیں۔خاندان کے باقی افراد کا کردار ثالثی کی حیثیت سےکم اپنے ذاتی مفاد سے ذیاده وابستہ ہوتا ہے۔

سوال ذہن میں آتے کوئی تربیت ، تعلیم ان پر اثر کر سکی کہ یہ شتر بےمہار معاشرہ ہے جہاں اخلاقی اور معاشرتی اقدار پامال کرنے کی کوئی سزا نہیں ہے؟ آپا بانو قدسیہ مرحوم کہتی تھیں محبت اور مروت سے انسانوں میں رابطہ پیدا ہوتا ہے -آج اس کے لئے وقت نہیں ہے۔لوگ انسانوں کی بات کرنے کے بجائے انفارمیشن کی بات کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے مل نہیں پاتے۔ Professional Excellence کی دوڑ میں ہم بے روح اولاد جوان کررہے ہیں۔ پورا معاشرہ جہاں دوسرے مسائل کا شکار ہے وہاں ہر شخص ایک بےنام اذیت اور درد کی کیفیت میں ہے اور اس کا ادراک بھی نہیں ہے۔جن کو ہے وہ اس کرب سے نکلنے کے بجائے خود کو شراب ،جوا،عورت ،بےہنگم فیشن میں ڈوبو لیتے ہیں۔ترقی اور تباہی کی تعریف ایک سی لگتی ہے۔ معذرت کے ساتھ نتائج جو ایک سے ہیں۔

جس تکلیف دہ صورتحال کا اعادہ اس تحریر میں کیا گیا وہ اس نتیجہ تک لاتی ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم ایک زخمی روح اور اپاہج سوچ رکھتے ہیں۔قطع نظر کہ کتنی مادی ترقی ہم نے کرلی اور معاشی طور پر عورت کوجتنا مرضی خودمختار ہم نے کر لیا ہے ۔افسوس ! ہم اپنی نسل کو تیار نہیں کرسکےکہ جب تم ڈگری لو گے اور نوکری نہ ملے تو کیا کرنا ہے۔جب تمھارے بچے کو کینسر ہو جائے تو کیا کرنا ہے۔نوکری چھوٹ جائے تو کس طرف دیکھناہے ۔چاروں طرف جب خوبصورت لڑکیاں ہوں تو ایک کے ساتھ کیسے باوفا رہنا ہے۔ جب طلاق ہو جائے تو کس طرح زندہ رہناہے۔ اگر ایکسڈینٹ میں معذور ہو جاؤ تو فعال زندگی کی طرف کیسے آنا ہے۔ خواہشات اور عدم تحفظ کی یلغار ہو تو کردار کی پختگی تک کیسے پہنچا جائے۔بےاولادی کی آزمائش آجائے تو خیر و خوشی بانٹنے کی طرف کیسے جانا ہے۔معاشرتی ناہمواریوں اور مصیبتوں کو کیسے ڈیل کرنا،کس ہتھیار سے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ہماری نصاب کا حصہ یہ علم ضرور ہونا چاہیے۔ ایسا علم کہ جو روحانی اور قلبی سکون دے ۔اس کی بنیاد ہونی چاہیے،” ففروا الیٰ اللہ ” ترجمہ: “پھر اللہ کی طرف دوڑو۔” فلاح اور کامیابی کا یہ سچا تصور ان کی سوچ کو ایسی جلا بخش دے کہ وہ روح کے ہر زخم کا مرہم خود تلاش کر سکیں۔ دوسرا اہم کام ذہنی انتشار، دباؤ ،مختلف ذہنی امراض کا شعور عام کریں ۔آگے بڑھیں لوگوں کو حوصلہ دیں۔ ذہنی امراض اور بیمار رویوں کا علاج بہت ضروری ہے۔یہ پرسکون زندگی کی روح ہے۔ قیمتی جانوں اور رشتوں کو بچائیں۔ اپنی ذاتی ذمہ داری نبھائیں۔اس کے پیسے نہیں لگتے۔ میں زندہ ہوں اس لیے لکھ رہی ہوں۔ یہ میرے اندر کے زخموں کا مرہم اور روح کی روشنی ہے۔

About ام حبیبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *