Home / شمارہ اپریل 2018 / رجحانِ طبیعت کاغلبہ

رجحانِ طبیعت کاغلبہ

تحریر: ساجد محمود

بہت سے رجحانات  و میلانات کا جائزہ تو  قدرے معمول کی بات معلوم ہوتی ہے  لیکن محبت کا جائزہ اور وہ بھی جوانی  کی محبت !  اس کی اپنی مشکلات ہوتی ہیں  اور  جائزہ لینا کوئی آسان کام تو نہیں ۔ سب سے مشکل کام ہی  محبت کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ آدمی اگر جسارت کر ہی بیٹھے تو معلوم ہوتا ہے اب دل و دماغ کی دنیا تہ و بالا ہو جائے گی۔  یہ محبت کسی سوچ، فکر، نظرئیے، اور نقطہ نظر  کے ساتھ ہو جائے اور وہ بھی جوانی میں تو پھر تو اس کا جائزہ لینا انتہائی کٹھن  ہو جاتا ہے۔  آپ  خود جس مقام پر کھڑے ہوں آپ خیال کرتے ہیں کہ آپ   تعصبات سے بالاتر ہوکر کھڑے ہیں۔ لیکن  جس جگہ آپ  کھڑے ہیں  اس پر کچھ سوالات پیدا ہو جائیں تو  تمام تر تعصبات سے بالا تر ہو کر سوچنے کا کام یعنی جائزہ لینا ایک کٹھن کام ہے۔

اپنے نقطہ نظر کا جائزہ

جب آپ کے مقام پر کچھ سوالات پیدا ہو جائیں ، یعنی آپ کے مخصوص سوچ ،فکر ،نقطہ نظر  اور مسلک و نظرئیے  پر سوالات اٹھ جائیں  تو جائزے کا مطلب ہے کہ آپ کے نقطہ نظر کی جانب سے   بات جو کہی جا رہی ہے اب اسے چھان پھٹک کر دیکھا جائے کہ بات کیا کہی جا رہی ہے۔ یہ بات قرآن مجید قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ حدیث کی بنیاد پر بات کہی جا رہی ہے تو حدیث اسے قبول کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ اگر عقلی بنیادوں پر کچھ  علمِ کلام وجود پزیر ہو رہا ہے تو   اس میں عقل کی دنیا میں کوئی جان و وزن ہے کہ نہیں ؟

یہاں خیال رہے کہ کسی سوچ فکر اور نقطہ نظر کی جانب میلان ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ۔ مثال کے طور پر یاد کیجیے کہ منصور نے امام مالک سے کہا تھا کہ ابن عباس کی رخصتوں سے، ابن عمر کے تشددات سے، اور ابن مسعود کے تفردات سے بچ کر دین مرتب کر دو۔  اس سے معلوم ہوا کہ  طبیعت و مزاج میں کسی رجحان  کا پیدا ہونا اور ان کی جانب میلان ہوجانا دورِ اول میں بھی رہا ہے۔

رجحان و میلان کا غلبہ

žآج کے دور میں آپ کی طبیعت پر  اس رجحان نے غلبہ پا لیا ہے  کہ دین تو دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہی کا نام ہے  اوراس  غلبے نے  حدود آشنائی نہیں سیکھی تو بڑھتے بڑھتے بریلویت بن جائے گی۔

žاور اگر آپ کی طبیعت پر اس چیز کا غلبہ ہو گیا ہے کہ دین تو دراصل ان لطیف حقائق  کے ادراک کا نام ہے  کہ جن کے ادراک کے

بغیر انسان کچھ ظاہری سا لگتا ہے  تو بات شروع یہیں سے ہوگی لیکن بڑھتے بڑھتے تصوف تک پہنچ  کر رہے گی۔ روکا نہیں جا سکے گا۔

žاور اگر اس چیز کا غلبہ ہو گیا ہے کہ جو بات بھی اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب ہو کر ہمیں مل گئی ہے اسے جوں کا توں لے لیا جائے ، قرآن مجید کے ساتھ اس کا موازنہ بالکل نہ کیا جائے۔   تو شروع یہیں سے ہوگی  لیکن آپ اہل حدیث ہو کر رہیں گے۔ ممکن نہیں ہوگا کہ  آپ اس سے بچ سکیں۔

žاور اگر یہ رجحان غالب آگیا ہے کہ یہ دنیا ظلم و عدوان سے بھر گئی ہے اسے ہم  عدل و انصاف سے بھردیں ۔  یہ دنیا اللہ نے بنائی ہے تو اس میں حکمرانی  بھی اللہ ہی کی قائم ہونی چاہیے ۔ یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت۔ اور اس میں اللہ کا دین ہی ہے جو انسانوں کو اس ظلم سے نکال سکتا ہے،   شریعت کا غلبہ ہونا چاہیے، تو آپ انقلابی ہو کر رہیں گے۔

رجحانِ طبیعت   پر قابو کیسے پایا جائے؟

اب دیکھتے ہیں کہ پھر  وہ راستہ کیا ہے کہ آدمی اپنے رجحان پر قابو پا کر جائزہ لے سکے کہ وہ جہاں کھڑا ہے کسی تعصب سے پاک ہے کہ نہیں ؟ یہ ایک اہم مسلہ ہے کہ انسان کے لیے اپنے رجحان پر قابو پا لینا کوئی آسان کام تو نہیں ۔

اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ آپ جب قرآن مجید کے پاس جائیں تو اپنا کوئی رجحان کوئی نقطہ نظر لے کر نہ جائیں ۔ قرآن مجید عجیب کتاب ہے۔ کوئی رجحان   کوئی  میلان لے کر چلے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب تو اسی کی تائید کے لیے نازل ہوئی ہے۔ قدم قدم پر آپ کو اسی رجحان کے اشارات ملتے چلے جائیں گے۔ اور خالی ذہن لے کر چلے جائیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید کے سِوا  پوری  راست روی  کے ساتھ ہدایت دینے والی کوئی کتاب اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ یعنی یہ طے کر کے چلے جائیے کہ تمہیں سمجھنا ہے تم سے پانا ہے راہنما تم ہو تمہیں کچھ بتانے  کے لیے نہیں  بلکہ لینے کے لیے آئے ہیں  تم بتاو کیا چاہتے ہو؟

آپ کہیں گے کہ سب لوگ ایسے ہی جاتے ہیں

 لیکن یہ حقیقیت ہے ، اور حقیقیت  سورج کی روشنی سے زیادہ روشن اور واضح ہے کہ ایسا نہیں ہے۔   لوگ  قرآن مجید کے پاس ایسے

نہیں جاتے کہ اپنے رجحانات ایک طرف رکھ کر کتاب اللہ کے پاس  چلے جائیں ۔  ایسے بالکل نہیں جاتے ۔  تمام مکاتب فکر کا انسان ایک خاص قسم کا نقطہ نظر  ذہن میں بنا چکا ہوتا ہے  اور اس کے بعد ہی وہ قرآن مجید کی جانب رجوع کرتا ہے ۔  یہیں منصور کی  امام مالک سے کہی گئی وہ بات  یاد کر لیجیے کہ ان رجحانات سے بچ کر دین مرتب کر دو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے !

چراغ تلے اندھیرا

یہ انتہائی مشکل کام ہے کہ آدمی اپنے رجحانات و نظریات ایک طرف دروازے کے پیچھے رکھ کر کتاب اللہ کے پاس چلا جائے اور اس سے پوچھے کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟  آپ پر جب یہ بات واضح ہو گئی، تو  اس کا بھی فہم حاصل ہوتا چلا جائے گا   کہ قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں یہ کیوں کہا گیا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ؟ اور پھر اس میں معیار کیا ہے جس کی بنیاد پر آدمی کو  ہدایت ملتی ہے یا آدمی گمراہی میں چلا جاتا ہے۔  وہ ایک ہی چیز ہے۔  اور وہ ہے کہ آپ کچھ پانے کے لیے گئے ہیں یا اپنے پاس  موجود کسی چیز کے اسباط کے لیے گئے ہیں ۔ جو آپ لے کر جائیں گے اسی کے لحاظ سے  قرآن مجید آپ کی راہنمائی کرے گا۔ یعنی اگر آپ کے سامنے مسلہ ہی یہ تھا کہ اس قرآن مجید کو بتانا چاہیے نا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر  تھے  ہی نہیں نور تھے بس۔ تو آپ  جیسے ہی اس مقام پر پہنچتے ہیں قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ تو آپ کہتے ہیں کہ بس میں اصل بات پر  پہنچ گیا  اور میں نے اپنی بات کی دلیل بھی قرآن مجید سے ڈھونڈ نکالی ۔

دھیمے دھیمے

اس طرح جتنے بھی دیگر مکاتب فکر ہیں ان کے یہاں چند مخصوص آیات  منتخب شدہ ہیں ، ایک دو چار مسلے منتخب ہیں ۔ اور وہ علامت بن چکے ہیں کہ سارے دین کی اساسات انہی آیات اور انہی مسائل پر قائم ہیں ۔  اور انہی کو لے کر ہر ہر آیت، ہر ہر حدیث ، ایک ایک چیز بیان ہوتی چلی جائے گی۔ الفاظ کا خون ہو جائے، ہو جائے۔ نظم درہم برہم ہو جائے ۔ ہو جائے۔ سیاق و سباق کا حشر نشر ہو جائے ، ہو جائے۔  اس سے ان مکاتب فکر کو  کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ چیز شروع میں دھیمے دھیمے ہوتی ہے لیکن اسی  رویہ کی بنیاد پر جب  ایک عصبیت  وجود میں آ جاتی ہے تو بہت بڑھ جاتی ہے۔ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ آدمی بظاہر بہت قرآن مجید پڑھنے پڑھانے والا ہوتا ہے لیکن جب وہ مقامات آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دلچسپی کے اصل مقامات وہی ہیں ۔

دلچسپی کے مقامات

  آپ مختلف مکاتب فکر کے مدارس میں چلے جائیں ۔  تو وہاں عام طور پر حدیث کا دورہ ہوتا ہے تو وہ دورہ اس طرح ہوتا ہے کہ نہ استاد

کو دلچسپی ہے کہ وہ کیا سن رہا ہے اور نہ طلبا کو معلوم ہے کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں ۔ جیسے گاڑی کے لیے ایک اسٹیشن مقرر کر دیا گیا ہے اب اس نے راستے بھر   رواں دواں  رہتے ہوئے وہیں جا کر ٹہرنا ہے۔   مثلا اگر اہل حدیث کی مسجد یا   مدرسے میں رفع الیدین کا باب آ جائے  تو  پھر گاڑی اس طرح نہیں چلتی ۔ وہ رک جاتی ہے۔  اسی طرح احناف کے مختلف مسائل ہیں ۔ بریلوی حضرات کے اپنے مختلف مسائل ہیں ۔  یعنی باقی پورا دین تو جیسے پویاں چل رہا ہوتا ہے ۔ اس کا دورہ ہو رہا ہوتا ہے ۔ لیکن دلچسپی کے وہ مقامات آ جائیں تو ان پر دنوں کیا بسا اوقات مہینوں بسر ہو جائیں گے ۔  ایسے ہی انقلابی تحریکوں کے یہاں کہیں قرآن سنایا جا رہا ہو  تو وہ مقامات آ جانے دیجیئے  بس اس کے بعد دیکھیے ۔  معلوم ہوگا کہ ساری کی ساری تگ و دو کا حاصل یہی آیات ہیں باقی تو سارا  کا سارا قرآن مجید  گویا اللہ تعالی نے یوں ہی نازل  کر دیا ہے ۔  یہ چیز اتنا غلبہ پالیتی ہے کہ جب دعوت و تبلیغ کا مرحلہ آتا ہے یعنی اپنی بات دوسروں تک پہنچانی ہے تو تعلیم و تعلم کا بھی یہ حال ہو جاتا ہے   کہ بات انہی مسائل انہی آیات و احادیث تک  رہ جاتی ہے ۔

ایک مثال

مثال کے طور پر آپ  اہل حدیث حضرات کی کسی مسجد میں چلے جایئے۔ مسجد میں جب آپ داخل ہوں گے اور آپ اجنبی آدمی ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ پہلے سے  اس مسجد کے دین سے واقف نہیں ہیں  بس آپ یوں ہی مسجد دیکھنے چلے گئے  اور آپ غائر نگاہ سے چیزوں کو دیکھنے والے ہیں اور آپ نے گھنٹہ بھر مسجد میں بسر کیا ہے تو آپ یہ تاثر لے کر واپس آئیں گے کہ ایک تو فاتحہ خلف الامام کا مسلہ دین میں بڑا ہی اہم ہے۔ دوسرا رفع الیدین کا مسلہ بڑا  اہم ہے۔ یہ تاثر لے کر آپ آئیں گے۔ اس لیے  کہ اسی کے وہاں چارٹ لگے ہوں گے ۔  اور اگر کہیں رمضان المبارک کے آس پاس چلے جائیں  تو پھر تراویح کی آٹھ اور بیس رکعت پر آپ کو چارٹ ملیں گے۔ ہو سکتا ہے ان پر کوئی چیلنج بھی چھپا ہوا مل جائے ۔

دیگر مکاتبِ فکر

اس طرح کی صورت حال آپ کو انقلابی و تحریکی لوگوں کے یہاں بھی مل جائے گی ۔ یعنی باقی سارا دین بغیر کسی تردد کے بس گزرتا چلا جائے گا ۔ لیکن جوں ہی وہ خاص مقامات آئیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان کی ساری دلچسپیاں وہی مقامات ہیں ، ساری  توانائیاں وہیں خرچ  ہو رہی ہیں ۔

پھر جائیں تو کدھر جائیں ؟

تو پھر جو انسان  دین کو بحیثیت دین سمجھنے کے لیے  قدم اٹھانا چاہے تو وہ پھر کدھر جائے ؟ ہر طرف مزہبی فرقے اور مزہبی تحریکیں

ہیں ۔ کیسے چیزوں کو سمجھے؟ کس طرح وہ صحیح راستے پر پہنچے گا ؟  اس پر چند اصولی باتیں آپ کی خدمت میں عرض کر کے اپنی بات کو

ختم کر رہا  ہوں۔

پہلی چیز: اس میں جس چیز کو بڑی غیر معمولی حیثیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی ایک دائرے میں کبھی بند نہ کیجیے ۔ یہ ہو

سکتا ہے کہ فی الجملہ آپ کو کسی ایک نقطہ نظر کے ساتھ زیادہ دلچسپی ہو ، اپنی دلچسپی وہاں قائم  رکھیے، کام بھی کیجیے ، اس لیے کہ آدمی خلا میں تو نہیں بیٹھا ہوا ہوتا۔ لیکن اس دائرے میں خود کو بند نہ کیجیے ۔

دوسری چیز: دوسری چیز یہ ہے کہ   جو آپ مانتے  ہوں اگر کہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اس پر نقد ہو رہا ہے تنقید ہو رہی ہے  تو آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر تنقید کرنے والے کا نفسیاتی تجزیہ نہ کیجیے ۔ بلکہ اس بات کی کوشش کیجیے کہ اپنے تصورات و نظریات کو ایک طرف رکھ کر اس کی تنقید کو سنا اور سمجھا جائے ۔ جانا جائے کہ مسلہ کیا ہے ؟  اور یہ خیال کیا جائے کہ اسے کسی بھڑ نے نہیں کاٹا ،  بلکہ اب مسلے کو جانا جائے  گا۔

تیسری چیز: تیسری چیز یہ ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ ایک براہ راست تعلق ہو۔ آپ عالم ہیں تو عالم کی حیثیت سے، ورنہ قرآن مجید کا ترجمہ ہی پڑھتے رہنے کی حد تک  تعلق  ضرور  رکھیں ۔ اور جب کبھی بھی قرآن مجید کی تلاوت   و ترجمہ پڑھنے  بیٹھیں  اور آپ کو بھلے سو فیصد ہی اطمینان کیوں نہ ہو کہ آپ ایک مخصوص اور درست  نقطہ نظر  پر زندگی بسر کر رہے ہیں ، لیکن قرآن مجید پڑھتے وقت  ، بھلے ترجمہ پڑھنے کے لیے بیٹھیں  تو اپنا وہ نقطہ نظر تکیے کے نیچے رکھ کر  کتاب اللہ کے پاس جائیں ، جب فارغ ہوں پھر وہ جیب میں ڈال لیں لیکن کتاب اللہ کو اس نقطہ نظر سے بالکل بلند ہو کر پڑھیئے ۔  یہیں سے ہدایت کے وہ سرچشمے پھوٹیں گے جو اللہ رب العالمین کو مطلوب ہیں اور جس ہدایت کو  بندوں کا معبود ہدایت کہتا ہے وہ ہدایت ملنی شروع ہو جائے گی۔

About ساجد محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *