Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل

تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل

تحریر:راجا اشتیاق احمد

شخصیت سازی اور کردار سازی ہر مذہب، ہر معاشرے اور ہر علم کا مقصد رہی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ اللہ نے بنی نوع اِنسان کی اپنی مرضی کی کردار سازی کے لیے  تمام انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام اجمعین بھیجے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اللہ ہم سب کو بطورِ انسان کیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہماری شخصیت کو کن اعلی ترین اخلاقی اقدار پر کاربند دیکھنا چاہتے ہیں یہی پیام تمام انبیاء و رسل نے تمام انسانوں تک پہنچایا اور اس پیغام الٰہی کی صد فی صد نظریاتی اور عملی تکمیل خاتم الانبیاء و رسل جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی۔اللہ سبحانہ وتعالٰی فرماتے ہیں؛

کَمَاۤ  اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ  اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ  ﴿2:151﴾

 ترجمہ؛جس طرح ﴿تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ﴾ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے ، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے ۔

یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا ، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن وحدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے، پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا،جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا ،جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا ،دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے، تکلف میں تھوڑے، دلوں کے پاک اورزبان کے سچے بن گئے۔دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے،

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔ ﴿3:164﴾

ترجمہ: بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے،یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ۔﴿14:28﴾

ترجمہ: کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا ۔

یہاں اللہ کی نعمت سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اسی لئے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا ،تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔

ہم سب اللہ کے اس احسان عظیم کی دل سے قدر کرنے والے بن جائیں اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی زندگی کا مقصد و محور بنا کر اپنا تزکیہ نفس یعنی تعمیر  شخصیت کریں۔ تعمیر شخصیت کا ایسا معیار دنیا میں یا کائنات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے موجود نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی پسندیدہ اور آئیڈیل تخلیق ہیں۔ یعنی اللہ ہم سب انسانوں سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکمل فالو کریں۔

تعمیر شخصیت درحقیقت ایک ایسا پلان ہے جو انسان کو ذہنی، روحانی اور جسمانی طور پر مکمل فٹ کر کے، منفی اور شیطانی   اعمال کو خود سے دور کر کے اللہ کے بتائے ہوئےمثبت  اعمال کو اپنانے کا لائحہ عمل ہے۔اگر اس پلان پر کوئی انسان بھی عمل پیرا ہوگا تو اسے بہت بہترین جزا دی جائے گی۔ یہ سب اللہ کے انسانوں سے متعلق پلان کا حصہ ہے۔ وہ الخالق و المالک ہیں،  جیسے چاہیں ہم سے کام لے سکتے ہیں۔انسانی شخصیت کی تعمیر و ترقی کے لیے بہت ضروری اور لازم ہے،  یعنی جس کے بغیر یہ کام ہو ہی نہیں سکتا، وہ یہ ہے کہ،سب سے پہلے انسان اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے، پھر مکمل سپردگی اور سر تسلیم خم کرکے قرآن و سنت کو مکمل فالو کرے، اور اس کے لیے لازم ہے کہ،قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، تفکر کرے اور من و عن عمل کرے۔دراصل قرآن و سنت ہی وہ پیرامیٹرز ہیں جن کی بنیاد پر بہترین اور فائدہ مند انسانیت  کا تصور کام کرتا ہے۔ یعنی اسفل السافلین میں گرے ہوئے اور جانوروں کی روٹین پر عمل پیرا انسان کو اندھیری کھائیوں سے باہر نکال کر بہترین کردار  دیا جائے تاکہ وہ اپنے انسان ہونے کا بھرپور فائدہ خود اپنی ذات کے لیے بھی اٹھائے اور دوسروں تک بھی پہنچائے۔ دوسروں تک اس منصوبے کےتصور  کو پہنچانےکے لیے  اسکی تعلیم و تدریس آگے پھیلائے۔

تکمیل دین اسلام سے قبل جتنی بھی الہامی کتب تھیں،  ان میں فقط اصول و ضوابط دئیے گئے تھے۔ لیکن یہ امتیاز اللہ نے قرآن مجید اور رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا کہ آپ اصول و ضوابط اور قوائد و قوانین کے ساتھ حکمت بھی لے کر آئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انفرادی طور پر انسانوں کے لیے  بلکہ اجتماعی طور پر ایک خاندان، برادری، گلی محلہ، پڑوسی، قبیلہ، پورے معاشرے اور ملک، بین الممالک، بین الاقوامی اور اس سے بھی آگے کے اخلاقی، مذہبی ، معاشرتی، سماجی اور عائلی قوانین، اخلاقیات، اوامر و نواہی نہ صرف تھیوریٹکلی بیان فرمائے بلکہ مکمل طور پر عملی نمونہ بھی کر کے دکھایا۔ اور حیات و موت و ما بعد کے تمام امور و احوال پر جامع ترین روشنی ڈالی۔ یہ وہ حکمت تھی جو کسی اور نبی و رسول کو بھی حاصل نہ ہوئی تھی، پہلے انبیاء ورسل مخصوص علاقے اور مخصوص لوگوں کیلئے تشریف لاتے تھے لیکن رسول کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین بنا کر بھیجے گئے۔

 سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم، کتاب اور حکمت کا جامع ترین پیکر ہے۔ اس پر عمل کر کے ہم بھی علم،حکمت اور دانائی کی اصل راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ سیرت النبی کی اتباع کر کے ہم ہماری ذات سے مقصود وہ کردار حاصل کر سکتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے۔

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مکمل پیکج ہے جس سے انسان میں موجود منفی خیالات، نفسانی گمرہی اور شیطانی اکساہٹ سے بچا جا سکتا ہے اور ایک بہترین انسان  بنا جاسکتا ہے۔

About راجا اشتیاق احمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *