تقویٰ

تحریر:سحر شاہ

“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی (پرہیزگار) بنو.” القرآن

تقویٰ سے مراد اللہ کا خوف رکھتے ہوئے گناہوں سے بچنا یا پرہیز گاری اپنانا ہے۔

قرآن میں جگہ جگہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ماہ رمضان میں روزے فرض کرنے کو  تقویٰ سے خصوصی نسبت دی گئی ہے۔ اگر روزے سےتقویٰ کا حصول نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ کو ہمارے بھوکا پیاسا رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گناہوں سے کیسے بچا جائے، عام حالات میں یقیناً ایسا کرنے میں انسان کو دقت پیش آ سکتی ہے کیونکہ انسانی نفس کے علاوہ شیطانی ذریات بھی وسوسہ انگیزی کرکے اپنا کام سرانجام دے رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ماہ رمضان میں آپ کو ان شیاطین سے محفوظ رکھنے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف نفس پہ قابو پانے کا عظیم موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ جب ہر شخص رضائے الہٰی کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو وہ بھوک پیاس اور چند ظاہری اعمال پہ قابو تو بآسانی پا لیتا ہے۔ تاہم تقویٰ کے حصول کے لیے دل میں خالص خوف خدا رکھتے ہوئے گناہوں سے پرہیز کرنا ہی درحقیقت اصل جنگ ہے جو انسان کو خود اپنے نفس سے کرنا پڑتی ہے۔ پورا سال انسانی نفس کی من مانیاں ماہ رمضان میں ختم کرکے صحیح معنوں میں عبد اللہ بننے کے نادر موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

چونکہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے تو اس کے لیے تمام تر توجہ اس کے حصول پر رکھنی چاہیے۔ تقویٰ کو تین حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے؛

دل سے، زبان سے، جسم سے۔

1: دل سے

دل سے گناہوں سے بچنا ہی بنیادی کام ہے۔ اگر دل پرہیزگار ہوگیاتو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

کوشش کریں کہ دل میں نفرت، غصہ، غرور، ریاکاری، حسد، بدگمانی، بغض، دوسروں کےلیے برا چاہنے یا ان کو حقیر سمجھنے جیسے جذبات نہ رکھے جائیں۔

کچھ افراد کے معاملے میں دل صاف کرنا اگر آپ کے لیے دشوار ہے تب بھی صرف یہ سوچیں کہ دل کو گناہوں سے بچانا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو آپ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ لہٰذا دل کو اللہ کے لیے خالص کیجیے، برے جذبات سے دل کو آلودہ کرنے سے ہر حال میں پرہیز کرتے ہوئے دل سے تقویٰ کا حصول ممکن بنائیں۔

2: زبان سے

زبان سے جو بھی الفاظ ادا کیے جائیں وہ بہت سوچ سمجھ کے ادا کیے جائیں۔ جن گناہوں سے بچنا ہے ان میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، سخت بات کہنا، الزام تراشی کرنا، گالی دینا ، طنز کرنا، بڑا بول بولنا شامل ہیں۔ اگر ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ زبان سے جو لفظ ادا کر رہے ہیں وہ لکھا جا رہا ہے تو زبان سے ادا کیے جانے والے تمام گناہوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اور آج کے دور میں جبکہ موبائل، کیمرے، ٹیپ ریکارڈر جیسے آلات سے کسی واقعے کو ریکارڈ کرنا ازحد آسان ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ کے فرشتوں کا لکھا ہوا اعمال نامہ آپ کے لیے کیا قیامت ڈھا سکتا ہے۔ بولا گیا ہر لفظ لکھا جا رہا ہے۔ انسانی ریکارڈنگ سے ڈرنے والے لوگ  اپنے اعمال کا خدائی ریکارڈ رکھے جانے سے بے خوف کیسے ہو سکتے ہیں؟ زبان سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے محفوظ رہنے کے لیے اس پر ہر حال میں قابو پانا سیکھیں اور ماہ رمضان میں زبان سے بھی متقی بنیں تاکہ یہ آپ کی عادت بن جائے۔

3: جسم سے

جسم اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم  کسی ایک عضو کا شکر بھی مکمل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ شکر گزاری کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی دی گئی نعمتوں کو اس کی نافرمانی کے کاموں میں ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔  جسم کا تقویٰ یہ ہے کہ بری چیزیں دیکھنے اور سننے سے پرہیز کیا جائے، برے کام نہ خود کریں نہ ہی ایسے کاموں میں دوسروں کی مدد کریں۔ قطع تعلقی، تشدد، مار پیٹ، برا سلوک ان سب گناہوں سے بچا جائے۔ اس سلسلے میں صرف ایک تعبیر “ظلم” سے پرہیز اختیار کر لیا جائے تو آپ ہر گناہ سے بچ جائیں گے۔ اسلام عین عدل ہے ،اس کا متضاد ظلم ہے خواہ وہ خود پر کیا جائے یا دوسروں پر۔ ظلم کا مفہوم یہ ہے کہ آپ حقوق و فرائض کی ایک مقرر حد سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی کی غیبت کی ، یہ ظلم ہے کیونکہ آپ نے اس شخص کی عزت کو اس کی لاعلمی میں نقصان پہنچایا۔ آنکھ، ناک، کان، زبان، دل، ہاتھ پاؤں سب جسم کا حصہ ہیں۔ جسم کا تقویٰ پورے جسم کی ظاہری و باطنی حفاظت ہے۔ حقوق و فرائض کی حد کو پار نہ کریں، آپ ظلم سے بچ جائیں گے اور پرہیزگار لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔

ہر شخص سے خصوصی رحمت و نرمی کا معاملہ رکھیں،  انصاف کے معاملے میں اپنے پرائے کا فرق نہ کریں۔ آپ پر اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی عائد ہوتے ہیں، تقویٰ کا تقاضا ہے کہ آپ ان تمام لوگوں کی حق تلفی نہ کریں ورنہ یہ ظلم میں شمار ہوگا۔ اپنے گھر کے افراد کے معاملے میں خصوصی احتیاط برتیں۔ بسا اوقات مرد حضرات والدہ کے حقوق کے نام پر بیوی سے ناانصافی کر جاتے ہیں اور انہیں خبر بھی نہیں ہوپاتی کہ وہ ظلم کر رہے ہیں۔ اسی طرح بیوی کی نازبرداری میں والدین کو بھول جانا، اولاد میں فرق کرنا، دوسروں کو اپنے قائم کیے نظریات پہ پرکھنا، کسی کے دین و ایمان ، ذاتیات پہ حملے کرنا، اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنا، غرض ہر وہ عمل یا رویہ جو آپ خود کے لیے روا رکھے جانا برا سمجھتے ہیں اسے دوسروں کے لیے اختیار کرنا بھی گناہ ہے۔ ماہ رمضان میں  اپنا احتساب کرتے ہوئے اپنی عادات پہ نظر ثانی کریں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں، اگر خلوص نیت شامل حال رہی تو یقیناً آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ اور ماہ رمضان کے دوران اختیار کیا جانے والا  تقویٰ بقیہ پوری زندگی آپ کا زاد راہ ہوگا۔ سب سے اہم بات ہمہ وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی ہدایت کی خصوصی دعا طلب کرتے رہیں۔

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *