Home / رمضان سپیشل / تماشائے شمع و پروانہ اور حقیقت شناسی

تماشائے شمع و پروانہ اور حقیقت شناسی

آپ نے ہزارہا بار زندگی میں جلتے ہوئے چراغ اور ان کے گرد دیوانوں کی طرح رقص کرتے ہوئے پروانوں کا ہجوم تو دیکھا ہی ہو گا ، لیکن ذرا اس تماشائے شمع و پروانہ پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سے شناسا کرتا ہے ۔ پروانے کا جذبہ الفت و فدویت تو دیکھیے ، اور اس کے دل کی لذت سوز و گداز کو ملاحظہ کیجیے کہ جل کر خاکستر تو ہو جاتا ہے لیکن شمع کے حضور حاضری کی تمنا سے باز نہیں رہتا۔اپنے شبستانوں میں غفلت کی نیند سونے والے انسان کے لیے یہ افسوس کا مقام ہے کہ شب و روز رب کریم کی نعمتوں سے فیض یاب تو ہوتا ہے مگر پروانے جیسی تمنا  روشنی کے ذرہ برابر بھی اسے اپنے عظمت مآب پروردگار کے حضور حاضری کا خیال نہیں آتا ۔ پروانے کی طرح لذت سوز و گداز سے منور انسانی قلوب کے لیے اپنے رب کی اطاعت پر قائم رہنا اپنی جان سے بھی بڑھ کر قیمتی ہونا چاہیے ۔ قرآن کریم خبر دیتا ہے  والذين آمنوا أشد حبا لله ،یعنی ایک مومن کی سب سے بڑی پہچان ہی یہ ہے کہ اسے سب سے زیادہ محبت اللہ رب العزت سے ہوتی ہے ۔ چنانچہ تماشائے شمع و پروانہ ہمیں حقیقی فلسفہ حیات کی خبر دیتا ہے ۔

” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں” (الذاريات)

عبادت کا مفہوم درحقیقت توحید باری تعالی  کی معرفت کے شعور ، اور اس کے حضور حاضری سے لیکر اپنی زندگی کے ہر ہر معاملے میں اسی کی رضا کے مطابق عمل اختیار کرنا ہے ۔  دنیا کے ہر گوشے میں جہاں نسل انسانی آباد ہوئی ، اللہ کے پیغمبروں نے آ کر لوگوں کو اسی معرفت الہی اور عبادت خداوندی کا درس دیا۔ دنیا میں بے شمار اور ان گنت علوم و فنون پائے جاتے ہیں لیکن دلوں کا سکون اور اطمینان اسی معرفت اور عبادت الہی کے علم و شعور میں مضمر ہے ۔ رب تعالی کی توحید کا راز اور مظاہر فطرت کی حقیقت سمجھ آ جانے پر مثل پروانہ ، انسان کے مرکز وجود سے بھی رب العزت کے لیے  محبت اور فدویت کے یہی چشمے ابلنے لگتے ہیں۔  مخلوق اور خالق کائنات کے درمیان ایک حسین میل ، محبت پیدا ہو کر انسان کی زندگی فطرت کے ہموار اور مستقیم خطوط پر استوار ہونے لگتی ہے ۔دنیا کے خم و پیچ سے گزرتے ہوئے بھی اطمینان قلب کا باعث اطاعت خداوندی سے بھرپور محبت ہی ہے ،  جس کے بغیر امارت و دولت ، دنیا کو انسانیت کے لیے امن و امان اور خوش حالی کا گہوارہ بنانے کے تمام سامان ہیچ ہیں۔  یہی طرز زندگی درحقیقت پر مسرت اور پر سکون دنیاوی اور اخروی حیات کا ضامن ہے جو پروانے کی مانند انسان کو بھی اپنے پروردگار کی رضا و خوشنودی کے حصول کی خاطر بے دریغ جدوجہد کی طرف مائل کر دے

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *