Home / رمضان سپیشل / تم روزےکیوں نہیں رکھتے؟

تم روزےکیوں نہیں رکھتے؟

عظیم ۔۔ تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟”

یہ سوال مجھ سے ایک انگریز دوست نے پچھلے رمضان کے آخری روزوں میں پوچھا تھا۔ وہ میرے ساتھ میری کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس دن میں اپنی بریک میں اسٹاف کینٹین میں چلا آیا۔ وہ وہاں پہلے سے موجود تھا اور جیسے میرا ہی انتظار کر رہا تھا۔ ہیلو ہائے کے فوری بعد ہی اس نے مجھ سے پوچھا کہ اگر میں برا نہ مانوں تو وہ ایک سوال پوچھ سکتا ہے ؟ میں نے حسب عادت کہا کہ ضرور پوچھو تو وہ مخاطب ہوا ۔

 “عظیم ۔۔ تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟” ۔

سوال ایسا غیر متوقع تھا کہ میں سٹپٹا کر بولا “نہیں نہیں ۔۔۔ میں روزے رکھتا ہوں” ۔ اس نے شدید حیرت سے پوچھا ۔ “واقعی ؟ اس مہینہ کتنے روزے رکھے ؟” ۔

میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ “سارے ۔۔ میں نے اب تک تمام روزے رکھے ہیں” ۔ یہ سن کر اس کا چہرہ حیرت اور پریشانی سے ٹوٹنے لگا ۔ اس کی یہ حیرت دیکھ کر میں خود شش و پنج میں پڑ گیا کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟

اس نے کچھ توقف کیا ، پھر بے چینی سے پہلو بدلا اور کہا ۔ “تم روزے کیسے رکھ سکتے ہو؟ میں نے تو تمہارے کام میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا؟ نہ تم نے کبھی شکایت کی کہ تمھیں کمزوری ہورہی ہے ، نہ تم نے فلاں اور فلاں کی طرح چھٹیاں کی ، نہ تمہارے چہرے سے کبھی ایسا لگا کہ تم نے کچھ کھایا نہیں ہے ۔۔۔ یہ فرق کیسے ؟‘‘

 مجھے اب بات سمجھ آچکی تھی اور یہ بھی واضح تھا کہ یہ دعوت کا بہترین موقع ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ روزے کی روح یہ نہیں ہے کہ ہم اسے رکھ کر خود کو مظلوم دکھانے لگیں یا دوسروں سے شکایت کریں یا اپنے کام کرنا چھوڑ دوں۔ نہ ہی روزے کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف کھانا پینا ترک کردیں بلکہ یہ تومسلسل تربیت ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے برا دیکھنا چھوڑ دیں، کانوں سے برا سننا ترک کر دیں ، اپنی بری عادتوں سے پیچھا چھڑالیں ، ایک بہتر انسان بن جائیں ، ایک ایسا انسان جس کی اپنی عادات بھی صالح ہوں اور وہ دوسروں کے لئے بھی درد دل رکھتا ہو۔ سارا وقت ، میرا وہ بھلا دوست مجھ سے سوال پوچھتا رہا اور پہلے روزوں اور بعد میں دین اسلام کی حکمت کو جانتا رہا۔ وہ مجھے مسکرا کر بتا رہا تھا کہ اسے آج تک یہ باتیں سمجھ نہ آئی تھی اور وہ اب پوری طرح سے روزے کے فلسفہ کا معترف ہے۔غیر مسلم ممالک میں بسنے والے دوست با لخصوص یہ یاد رکھیں کہ مسلم کا کیا ہر ہر عمل اپنے وجود میں دین کا ترجمان ہوتا ہے۔ رمضان میں ہر غیر مسلم ایک اندرونی حیرت کا شکار ہوتا ہے کہ کوئی کیسے پورے مہینے اپنی مرضی سے بھوکا پیاسا رہ سکتا ہے؟ یہ وہ موقع ہے جب آپ اپنے اچھے عمل سے دین کے ایک بہترین داعی بن سکتے ہیں یا پھر اپنی لرزش سے اسلام کی غلط تصویر پیش کرسکتے ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہے ۔

About عظیم الرحمٰن عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *