Home / شمارہ ستمبر 2017 / توازن ہی خوب صورتی ہے

توازن ہی خوب صورتی ہے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو  بڑے احسن طریقے پر پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر ایسی گونا گوں خاصیتیں پوشیدہ کر دیں ہیں  جو اس کی شخصیت کو نیرنگی بھی عطا  کرتی ہے اور اسے پیچیدہ بھی بنا تی ہے۔  اس کی مثال ایک عالمِ  صغیر کی سی ہے۔ اس میں ایک پوری دنیا آباد ہے۔ایک ایسی دنیا  جس کا صحیح ادراک خود حضرتِ انسان کو نہیں ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ  اپنے نفس کی کیفیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے اور جس قدر ممکن ہو ان  کا تزکیہ کرے کیوں کہ انسان کی فلاح اس کے اپنے تزکیہ میں ہی مضمر ہے۔انسان کی شخصیت کی  مختلف پرتیں ہیں جن  کی تعمیر میں تین چیزیں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں:

اول: وہ جینیاتی  میٹیریل جو والدین کی طرف سے اسے ملا

دوم: وہ ماحول جس میں اس کی پرورش ہوئی ، اور

سوم:  تعلیم وتربیت ( والدین اور اساتذہ کے ذریعہ)

چوں کہ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کا کوئی شعوری ادراک موجود  نہیں ہے لہٰذا  وہ عموماً اسی  عصری ماحول کے زیرِ اثر پرورش پاتے ہیں جو اس وقت موجود ہو، اس بات سے قطعِ نظر کہ وہ اچھا ہے یا برا۔  انسا ن کی شخصیت کا خام مواد معاشرہ   کے کوزہ گر کے ہاتھوں زمانے کے چاک پر جس طرح کی چاہے شکل اختیار کر لے۔  ہمارے یہاں عموماً  تعلیم  کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے اور اس بات کا شعور نہیں کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کس قدر ضروری ہے۔ تربیت کے لیے  نہایت ضروری ہے کہ اس بات کا  ادراک  شعوری سطح پر موجود ہو کہ انسان کی  شخصیت کےمندرجہ ذیل  مختلف  dimensions  ہیں :

۱۔دانش (Intellect)

۲۔اخلاقی  (Moral)

۳۔معاشی  (Economic)

۴۔روحانی  (Spiritual)

۵۔معاشرتی   (Social)

۶۔جسمانی  (Physical)

۷۔ جذباتی  (Emotional)

ان کےinteraction سے انسانی شخصیت کے خدّ و خال ابھرتے ہیں۔بہت ممکن ہے کہ کچھ لو گ مندرجہ بالا میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ  جہت میں بہتر ہوں مگر کسی میں کم ہوں اور کسی میں بہت ہی کم ۔ اس طرح سے جو شخصیت ابھر کر سامنے آئی گی اس میں ایک طرح کے توازن کا فقدان ہو گا۔ خوبصورتی اسی وقت  پیدا ہوتی ہے جب توازن ہو اور  ایک متوازن شخصیت ہی ایک کامیاب شخصیت ہوتی ہے۔ غیر متوازن شخصیت کی مثال اس بچے کی سی ہے جو مثلاً لمبا تو ہوتا چلا جائے مگر اس کے جسم کی چوڑائی میں متناسب اضافہ نہ ہو۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم دائمی خوشی پروقتی لذت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو چیز ہمیں فوری لذت سے ہم کنار کرے ہم اس کی خواہش اور  جستجو کرتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ ان کا حصول ہمیں عموماً دائمی خوشی سے دور لے جاتا ہے۔ہم ہر وہ چیز حاصل کرنا  چاہتے ہیں جو ہمارے حواسِ خمسہ کو لذت بخشے اور اس کے بدلے میں اکثر ان چیزوں کی قربانی دے دیتے ہیں جو ہمیشہ کی خوشی بخشتی ہیں۔ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو مادّی  خوشی عموماً روحانی سکون کے عوض خرید لیتے ہیں۔بہت زیادہ پیسہ کمانے کی خواہش عمومی طور پر دو چیزوں کی فوری قربانی مانگ لیتی ہے۔ اوّل ہمارا  وہ وقت جو ہماری فیملی اور عزیز و اقارب کے لیے ہونا چاہیے اور دوم  ہمارے تعلقات کہ جن کے لیے ہم پیسہ کمانا چا ہتے ہیں انہی کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلقات ایک سرد مہری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہم اس دوڑ میں اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھ پاتے اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح ایک ایسا شخص وجود میں آتا ہے کہ جس کے پاس پیسہ  تو شائد بہت ہوتا ہے مگر اس کا جسم اور اس کی روح بیمار ہوتی ہے۔کیوں کہ زندگی میں   توازن  نہیں رہتا لہٰذا زندگی سے خوب صورتی ختم ہو جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ شخصیت میں یہ توازن کیسے پیدا ہو۔ کس  طرح سے  ان تمام پرتوں کی  خامیوں ، خوبیوں  اور ان کی ضروری  تراش خراش کا علم ہو۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل  چیزوں کا ہونا ضروری  ہے:

۱۔ اس بات کا شعور کہ شخصیت کی تعمیر  ضروری ہے،

۲۔اس چیز کا صحیح ادراک کہ کون  کون  سی  جہتوں کی تربیت ضروری ہے،  اور

۳۔ان ضروری toolsکا  علم کہ جن کے ذریعے یہ تربیت ممکن ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک یہ کام والدین اور اساتذہ کیا کرتے تھے کہ وہ بچے کے فطری رجحانات کو دیکھ کر اس کے اندر  کی مختلف خامیوں کی نشاندہی کرتے تھے ۔ مگر ایک عرصے سے یہ کام اب دونوں ہی نے ترک کردیا ہے۔  معاشرے کےہاتھوں بچہ اب کیسا ہی کیوں نہ بن جائے کسی کو پروانہیں۔ موجودہ دور کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں  لوگ عموماً  شعوری  طور پر اپنے مقصدِ حیات کا  انتخاب نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے کا علم نہیں ہوتا۔تمام الہامی مذاہب ،بہ شمول اسلام ،  انسان کی زندگی کے دو  ادوارکے قائل ہیں:

۱۔حیات؛ اور ۲۔ حیات بعد الموت۔

اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو کسی بھی انسان کی شخصیت کی تعمیر و تربیت  ان دونوں   ادوارکو مدِّ نظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ جب ہم حیات بعد الموت کی بات کرتے ہیں تو مذہب خود بہ خود درمیان میں آجاتا ہے کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی کی اطلاع ہمیں مذہب ہی دیتا ہے۔ یہ بات بھی بڑی دل چسپ ہے کہ  تمام اخلاقی قوانین کا مآخذ بھی مذہب ہی ہے۔  ان دونوں باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب ہمیں زندگی گذارنے کا    جولا ئحۂ عمل فراہم کرتا ہے وہ انسان کی دونوں حیات کے لیے ضروری ہے۔اس کے سامنے فقط انسان کی دنیاوی زندگی نہیں ہوتی وہ چاہتا ہے کہ ایک ایسا انسان تشکیل پائے جو  دنیا میں بھی حسنات کا طلب گار ہو اور آخرت میں بھی کامیابی کا خواہاں ہو۔

مغرب بھی اب اس بات کا قائل ہوتا نظر آتا ہے کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر میں اخلاقی اور روحانی   عوامل کا شامل ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس حوالے سے اگر دورِ جدید کے مینجمنٹ گرو،  Stephen R. Coveyکے The Seven Habits of Highly Effective People کا جائزہ لیں تو اس کی ساتویں عادت Sharpen The Sawمیں وہ انسان کی شخصیت کےچار dimensions کا ذکر کرتا ہے:

۱۔جسمانی

۲۔روحانی

۳۔ ذہنی اور

۴۔جذباتی یا معاشرتی

اس کے خیال میں ان چاروں ڈائی منشنز کے باہمی ملاپ  کے نتیجے میں ایک موثر شخصیت ابھرتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ حیات بعد الموت کا ذکر نہیں کرتا مگر اس کے پورے کام میں اخلاقی اقدار  اپنی پوری تونائی کے ساتھ موجود ہیں۔

شخصیت کے مذکورہ بالا تمام ڈائی منشنز  کا یکے بعد دیگرے جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کی تربیت میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں:

۱۔دانش   (Intellect)

انسان کا ذہن اپنےاندر فطری طور پر  تجسس کا رجحان رکھتا ہے۔ یہ اس کاتجسس ہی ہے جو اسے نت نئی چیزیں ڈھونڈنے اور ایجاد کرنے پر اکساتا ہے۔ ہر انسان میں فطری طور پر  ایک بنیادی ذہانت موجود ہوتی ہے۔ جب  انسان مختلف ذرائع سے  اس  ذہانت کو  معلومات بھی مہیا کردیتا ہے تو یہ بنیادی ذہانت ایک ابتدائی درجہ کی دانش تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ اس  معلومات تک رسائی کے کئی طریقے ہیں:

اول:کتابوں کے ذریعہ

دوم:اچھے لوگوں کی صحبت  کے ذریعے، اور

سوم:تجربہ کے ذریعہ

مندرجہ بالا ذرائع کے علاوہ دورِ حاضر میں انٹر نیٹ بھی ایک اہم ترین ذریعہ ہے، مگر اس کا استعمال نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔  اس کا بے جا استعمال  کئی طرح کے مسائل کو جنم دیتا ہے مثلاً :

۱۔ فحاشی کا سیلاب  جو انسان کا جہاں اخلاق تباہ کرتا ہے وہاں مختلف اقسام کے جنسی جرائم  میں بھی اضافہ کا باعث بنتا ہے۔

۲۔ اس کا بہت زیادہ استعمال انسانی ذہن کو  فوری   انفرمیشن کا عادی بنا دیتا ہے۔

۳۔ اس کے علاوہ  اس کا زیادہ استعمال انسانی ذہن کو یک سُو نہیں ہونے دیتا۔

اس کے بر عکس  کتاب  کا مطالعہ انسانی ذہن کو یک سُوئی بھی عطا کرتا ہے اور کتاب کے ذریعے ایک خاص روحانی رابطہ بھی قاری اور کتاب کے مابین ممکن ہے۔ اس رابطہ کی وجہ سے قاری میں اس کتاب  میں موجود معلومات کا ساتھ کچھ دانش مندی فیض کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور ہر اچھی کتاب اپنےقاری سے ضرور یہ رابطہ پیدا کرتی ہے۔لہٰذا کتاب کے ساتھ تعلق استوار رکھنا اپنی دانش کو بڑھانے میں مدد دیتاہے۔

دوم اچھے لوگوں کی صحبت بھی انسان کی دانش میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔بلکہ یہ کسی بھی انسان کی تربیت کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اچھے اساتذہ کی صحبت انسان کے علم و دانش میں جہاں اضافے کا باعث بنتی ہے وہیں اس کی اخلاقی تربیت کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اپنے بزرگوں کی صحبت بھی  اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ مگر افسوس کہ اب لوگوں کے پاس اپنے والدین اور بزرگوں کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں رہا۔ان لوگوں کے ساتھ  وقت گزارنے میں خاندان کے دیگر لوگوں کے بارے میں علم ہوتا تھا جس سے ان کے ساتھ تعلقات میں اضافہ ممکن تھا۔

سوم یہ کہ انسان کی دانشمندی میں اس کی عمر بھر  کاتجربہ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وقت جو سکھاتا ہے اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔

ان تمام چیزوں کے ذریعے ایک بنیادی دانش تو حاصل کی جا سکتی ہے مگراصل  دانش اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم غور و فکر کے عادی ہوں۔ یعنی بنیادی ذہانت کے ساتھ انفرمیشن اور اس کے ساتھ غور و فکر۔ اس طرح حقیقی دانش مند تک کا راستہ طے ہوتا ہے۔ قرآن کا ہر مطالعہ کرنے والا بہ خوبی جانتا ہے کہ قرآن غور و فکر پر  کس قدر زور دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مومن وہ فراست حاصل کر لیتا ہے  جس کے  بارے میں ارشاد ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

۲۔اخلاقی (Moral)

انسان کی اخلاقی تربیت کا جتنا جامع مواد مذہب نے دیا ہے شائد کسی نے نہیں دیا۔ خالق کو بہتر پتہ ہے کہ مخلوق میں کیا کیا خامیاں ہیں لہٰذا اس نے  ان کو دور کرنے  کے لیے  اخلاقی قوانین کا ایک مربوط نظام دیا ہے۔قرآن  جن اخلاقی  قوانین کا ذکر کرتا ہے اس پر اگر ایک اجمالی نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ کتنا مربوط نظام ہے۔ اس کے بنیادی عناصر ٹیبل میں دیے گئے ہیں۔ ان عناصر پر طائرانہ نگاہ ڈالیے، اس سے زیادہ مکمل اور مربوط نظام اور کہیں نہیں نظر آتا اور یہ تو صرف قرآنِ کریم میں درج عناصر ہیں۔ اسی طرح سے احادیث میں بے شمار ایسے اخلاقی ضابطے ملتے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر ایک مکمل اور خوب صورت اخلاق کا حامل انسان وجود پا سکتا ہے۔ مگر  اس نظام  پر عمل پیرا  ہونے کے لیے  کچھ لوازمات ہیں جن میں مندرجہ ذیل عناصر شامل ہیں:

۱۔  اسلام :اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینا

۲۔ایمان: اللہ تعالیٰ پر اور اس کے وعدوں پر یقین

۳۔قنوت:اپنے پروردگار کی اطاعت پر قائم رکھنے والی قوتِ متحرکہ

۴۔خشوع:اللہ کی ہیبت اور جلال کا حقیقی تصور

۵۔ذکرِ کثیر:اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا

اخلاقی قوانین
اللہ کی عبادت عفت و عصمت تحقیق کے بغیر اقدام مذاق اڑانا
والدین سے حسنِ سلوک انسانی جان کی حرمت زیادہ گمان نہ کرنا طعن و تشنیع
اعزہ و اقربا کے ساتھ تعلق یتیم کے مال میں خیانت ٹوہ میں رہنا غیبت
یتامیٰ و مساکین کے ساتھ سلوک عہد کی پابندی غرور و تکبر صدق
پڑوس، مسافر اور غلام کے ساتھ برتاؤ ناپ تول میں دیانت حق سے اعراض صبر
اللہ کی راہ میں انفاق اوہام کی پیروی حسب و نسب پر فخر حفظِ فروج

یہاں جو چیز  جان لینا سب  سے زیادہ ضروری ہے  وہ یہ کہ ان تمام خصوصیات کو اپنی ذات کا حصہ بنانا اتنا آسان نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں جہاں  جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، اور دوسروں کا حق غصب کرنے  کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ کہ بے جا مصروفیات نے انسان کو اپنا قیدی بنا رکھاہے۔

 اس مشکل کے حل کے لیے مندرجہ بالا پانچوں  لوازمات دیے گئے ہیں۔  ان پر عمل کر کے انسان  اسلام کے اخلاقی نظام کو پنپنے کے لیے ایک ساز گار ماحول مہیا کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ  ایک  ایک  اخلاقی خاصیت اپنے اندر پیدا کرتے جائیں، پھر دیکھیں کہ کیسا مکمل فرد وجود پاتا ہے اور نتیجتاً ایک خوب صورت معاشرہ  کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ  عادت اپنانے کی قوت کا استعمال کیا جائے۔  شروع میں یقیناً دِقّت کا سامنا کرنا پڑے گا مگر رفتہ رفتہ یہ تمام چیزیں ہماری ذات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس کے لیے کچھ اقدام اٹھانے پڑتے ہیں مثلاً:

۱۔پہلے نیت کر لینی چاہیے کہ ہمیں کیا تبدیلی لانی ہے،

۲۔پھر اس پر عمل شروع کرنا چاہیے،

۳۔بار بار کا عمل ہی عادت  کہلاتا ہے،

۴۔اسی سے آپ کا  کردار لوگوں کے سامنے ابھرتا ہے اور

 ۵۔آخر میں آپ کی تقدیر کا فیصلہ کر دیتا ہے۔

غور کریں نیت سے تقدیر تک سب کچھ اللہ نے آپ کے اختیار میں دے دیا ہے۔ وقت کا صحیح استعمال، آپ کی محنت اور اللہ کی نصرت، یہی تین چیزیں ہیں جو تبدیلی لاتی ہیں۔پھر یہ مرحلہ یہاں ختم نہیں ہوتا کیوں کی اصلی لیڈر شپ تو ہے ہی یہی کہ جو اچھی چیز آپ نے اپنے اندر پیدا کر لی ہے اسے اب دوسروں تک، جو آپ کے ارد گرد لوگ ہیں، ان تک پہنچائیں۔ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ ان اصولوں پر مبنی معاشرہ کس قسم کا معاشرہ ہو گا۔ایک خوب صورت، با اخلاق اور  صحت مند معاشرہ۔

۳۔ معاشی (Financial)

یہ بات نہایت درست ہے کہ خالی  پیٹ ایمان کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ایک بھوکا آدمی بہت ممکن ہے کہ ایسے کام کر گزرے جو کہ معاشرہ کے لیے نقصان دہ ہوں۔ ہم روز مرّہ  کے حالات میں اس کا مشاہدہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور کی دو بڑی  مصیبتیں  خوف اور غم ہیں۔ ان  میں سے سب سے بڑا غم معاش کا غم ہے۔ مگر ایک بڑی حیرت انگیز بات جو  ہمارے تجربے میں ہے کہ ہم اکثر اپنی معاش کی راہ میں خود ہی رکاوٹ کے طور پر کھڑے ہوتے ہیں۔وہ لوگ جو معاشی بد حالی میں مبتلا ہوں،خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، ان کے ہاں کچھ باتیں اکثر مشترک نظر آتی ہیں۔:

۱۔ان کی زندگی میں منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی

۲۔ان کے ہاں منزل کا تعین نہیں ہوتا، یعنی وہ  goal oriented نہیں ہوتے

۳۔ان میں لگا تار جستجو کا فقدان نظر آتا ہے

۴۔ان کی زندگی میں commitment  نہیں ہوتی

۵۔اللہ کے رازق ہونے  پر ان کا ایمان متزلزل ہوتا ہے، یا پھر وہ توکل کا یہ غلط مفہوم لے لیتے ہیں کہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں

۶۔ان  کے ہاں وقت کےصحیح استعمال کا شعور نہیں ہوتا

دنیا ایک بہت بڑی مشین کی مانند ہے اور ہم  سب اس کے پرزوں کی طرح ہیں۔ ہر پرزے کی ایک جگہ معّین ہوتی ہے وہ پرزہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور نہیں لگ سکتا۔ اسے اسی جگہ لگنا ہوتا ہے جہاں کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔ مگر اس کے لیے ایک اور شرط بھی ہے یعنی پرزے کا کار آمد ہونا۔ اگر پرزہ ناکارہ ہے تو اپنی جگہ نہیں لگ سکتا۔لوگ اس بات کا رونا تو اکثر روتے ہیں کہ معاش کا کوئی بند و بست نہیں ہے، مگر یہ نہیں  سوچتے کہ کیا انھوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ مناسب انداز میں  معاش کا بندو بست کر سکیں۔

یہاں میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرنا چاہوں گا۔ میرا تعلق ایک نچلے درمیانی طبقے سے ہے۔ والد ایک ملازمت پیشہ شخص تھے۔  ہمارے علاقے میں  پڑھنے لکھنے کا رجحان بالکل نہیں تھا۔ میری عمر کے لڑکے عموماً پڑھائی کرنے کے بجائے محلے میں گلی کے نکڑ پر، کسی چبوترے پر یا پھر چوک پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے اور وقت ضائع کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ امتحان بھی بڑے مزے سے نقل کر کے پاس کر لیا کرتے تھے۔مطالعے کا شوق بڑے بھائی سے ملا تھا۔میرا زیادہ وقت پڑھنے میں یا پھر مطالعہ میں  گذرتا تھا۔ خدا بھلا کرے میرے ایک استاد کا جنھوں نے یہ راہ دکھائی کہ CSS کا امتحان دو اور کچھ بنو۔یہاں سے منزل کا تعین ہوتا ہے۔ میں نے  اپنے بے شمار دوستوں سے اس کا ذکر کیا کہاامتحان کی   تیاری کریں۔  دوستوں کے دو گروپ بن گئے ایک وہ جنھوں نے میری بات پر کان نہیں دھرا اور وہیں محلے کی نکڑ پر کھڑے رہے اور دوسرے وہ کہ جنھوں میرے ساتھ پڑھائی شروع کر دی۔ ہم کل دس دوست تھے جو پڑھائی میں لگے۔ان دس لوگوں میں سے  میں نے اور ایک دوست نے CSS  کیا ۔ بقیہ میں سے تین دوست PCSکر کے سندھ سیکریٹیریٹ میں  ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر تعینات ہیں اور ایک دوست اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر پڑھا رہے ہیں۔جن دوستوں نے پڑھائی کو سنجیدہ نہیں لیا اور وقت  کومختلف طریقوں سے ضائع کیا وہ آج بھی اُسی طرح گلی کی نکڑ پر کھڑے ہیں۔ اُ ن میں سے بیش تر مختلف سیاسی جماعتوں کے نام نہاد کارکن بن کرجلسے  جلوسوں میں حصہ لیتے ہیں۔ان کی زندگی محلے کے اس چوراہے سے شروع ہو کراسی چوراہے پر ختم ہوتی ہے۔

میری اس ذاتی مثال سےکئی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں :

۱۔معاشی  کامیابی کے لیے منزل کا تعین ضروری ہے۔جن لوگوں نے ایسا کیا وہ کہیں نہ کہیں پہنچ گئے۔ اور جو ایسانہیں کرسکے وہ وہیں ہیں جہاں تھے۔

۲۔کچھ لوگ منزل کا تعین تو کرتے ہیں مگر اسے حاصل کرنے کے لیے لگا تار محنت نہیں کرتے، نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ درمیان ہی میں کہیں ٹھہر جاتے ہیں جیسا کہ کئی دوستوں کے ساتھ ہوا۔

۳۔ایسے دوست جن میں منزل تک پہنچنے کی لگن یا تڑپ نہیں تھی وہی راستے میں رک گئے۔ لہٰذا  منزل تک پہنچنے کے لیے  commitment اور passion  ضروری ہے۔

۴۔جن جن لوگوں نے اپنے آپ کو کار آمد بنایا وہ اس مشین میں کہیں نہ کہیں فٹ ضرور ہوئے ۔

۵۔ناکارہ پرزے وہیں پڑے رہ گئے۔ اب وہ   اسکریپ کی طرح ہیں۔  سستے داموں بک گئے تو ٹھیک ورنہ  بے کار تووہ ہیں ہی۔

یہ ضرور ہے کہ اس راستے میں آزمائشیں آتی ہیں۔ طرح طرح  کی ترغیبات اور تن آسانیاں آپ کا دامن پکڑتی ہیں۔ایسے میں لوگ کوشش ترک کردیتے ہیں۔ فرض کریں کے ایک قطار میں ۱۲ دروازے ہیں کوئی ایک آپ کے لیے کھلنا ہے، اور آپ  ۱۱ دروازے تک دستک دے کر پلٹ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ  بارہواں دروازہ آپ کے لیے کھلنا تھا۔ اس پوری گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ:

۱۔کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پہلے اس سے متعلقہ لوگوں سے مشورہ کر لیں

۲۔خوب سوچ بچار کر لیں

۳۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیں

۴۔ اگر صلاحیت کم ہے تو پہلے اسے بڑھائیں

۵۔پھر اس کو حاصل کرنے کے لیے لگا تار  جد و جہد کریں

۶۔نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں کہ جو بھی ہو گا وہ بہتر ہو گا

۴۔روحانی (Spiritual)

فی زمانہ اپنی شخصیت کے جس پہلو کی تربیت کو  ہم نے نظر انداز کیا ہے وہ روحانی پہلو ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک طبعی وجود ہیں اور اکثر روحانی تجربے کرتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہم دراصل ایک روحانی وجود ہیں جو کہ طبعی وجود کے تجربے کر رہا ہے۔ مادّی چیزوں پر بہت زیادہ انحصار، دنیا کے کاموں کا انبار، مصروفیت کا غبار اور  ہمارے ارد گرد لوگوں  کا انبوہِ بے کنار ہی دراصل  ہمارے  اور ہمارے خالق کے درمیان پردہ ہے کہ جس کی یاد ہی دلوں کا سکون ہے۔ اسی کو یاد کرنے سے روح کو بالیدگی ملتی ہے۔ٹھیک ہے کہ دنیا میں رہنا ضروری ہے اور اس میں سے اپنا حصہ بھی لینا ہے۔ مگر اس کا انسان کی ہستی سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ مولانا روم نے ایک مثال کے ذریعے سمجھا یا تھا کہ انسان ایک کشتی کی مانند ہے اور دنیا ایک سمندر ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں مگر کیا ہو کہ اگر کشتی میں سمندر کا پانی بھر جائے۔یعنی انسان میں پوری طرح سے دنیا سرائیت کر جائے۔

روحانی تربیت کے لیے کیا کریں؟ یہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے کہ اس کے لیے آپ کو کوئی مشکل قسم کا چلۂ معکوس کھینچنا پڑے۔نہ ہی اس سے مراد رہبانیت ہے کہ کسی کونے میں  جا پڑیں اور دنیا سے رابطہ توڑ لیں۔اللہ تعالیٰ آپ سے ایک نارمل انسان بننے  توقع کرتا ہے نہ کہ ما فوق الفطرت ہستی۔ اس تربیت کی پہلی سیڑھی تو یقناً وہ عبادات ہیں جو کہ ہم پر فرض ہیں۔ خوف سے کی گئی عبادت نہیں بلکہ محبت سے کی گئی عبادت۔ کیا اس کے لیے ہمارے لیے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟  ایک نہایت چھوٹا سا فارمولا ہے۔ ایک ایک کر کے اپنے اندر وہ تمام  خصوصیات پیدا کریں جو اللہ آپ سے چاہتا ہے اور جس کی تعلیم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔ اور ایک ایک کرکے اپنی ذات میں سے ان چیزوں کو نکال دیں جس سے بچنے کا دین میں حکم ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک  مرحلے کے بعد آپ روحانی طور پر ایک قدم آگے بڑھے ہیں۔عبادت میں اگر نیت اللہ کی رضا ہو تو پھر عبادت  عشق بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی روحانی ترقی میں نوافل ، خصوصاً تہجد کے نوافل اور اللہ کی تسبیح  بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  کیوں کہ ان نوافل کو ادا کرنا کسی پر فرض نہیں ہے کہ اگر نہ پڑھی جائیں تو گناہ کا مرتکب ہوگا۔ کوئی بھی شخص ان نوافل کو فقط اللہ کی رضا کی خاطر ادا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کا روحانی ترقی میں بڑا اہم کردار ہے۔اس کے علاوہ اللہ کی تسبیح بیان کرنا  فرد کو اللہ کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کا اپنے ساتھ ہونے پر اس حد تک یقین کر لیتا ہے کہ اس سے پھر وہ کام سر زد نہیں ہوتے جو اللہ کی ناراضی کا سبب بنیں۔

اگر آپ نے اپنے اندر سے حسد  اور کینہ نکال دیا تو آپ  ایک درجے روحانیت میں اوپر چلے گئے۔ اگر آپ نے اپنے اندر صدق پیدا کر لیا یا  صبر اختیار کیا تو بھی آپ ایک درجے اوپر چلے جا ئیں گے۔اور یوں آپ کو روحانیت کی بلندی نصیب ہو گی۔  مگر ان سب اقدامات کے اوپر جو چیز   حاوی ہوتی ہے وہ ہے اللہ کا ذکرِ کثیر۔ یہ اللہ سے قربت  کا ایک شاندار ذریعہ ہے۔ اسے کھڑے ہوئے، جھکے ہوئے اور کروٹوں کے بل یاد رکھیں کیونکہ اس کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ نبیٔ  کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بے شمار دعائیں تعلیم کی ہیں۔ یہ دعائیں اللہ کو یاد رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ زندگی کا کو ئی لمحہ ایسا نہ ہو کہ جس میں آپ اللہ کو یاد نہ رکھیں۔ کیوں کہ جب آپ اس کو یاد کرتے ہیں تو وہ آپ کو یاد کرتا ہے اور آپ سے زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے۔

۵۔معاشرتی (Social)

معاشرہ چوں کہ افراد کا مجموعہ  ہے چنا ں چہ ایک اچھا فرد ہی ایک بہترین معاشرے کی بنیاد ہے۔  مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ  ایک نہایت خطرناک مرض میں مبتلا ہے، اور وہ ہے فرد کا اپنی ذات کی حد تک محدود ہو جانا۔ اس طرح یہ معاشرہ ایک بے رحم  لا تعلقی (indifference) کا شکار  ہو گیا ہے۔ جو میرے لیے اچھا ہے بس وہی ٹھیک ہے بے شک اس کا اثر دوسرے پر برا ہی کیوں نہ پڑے۔میں آج اپنی ترقی کے لیے دوسروں کے اوپر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔  پورا معاشرہ اس وقت جیت ہار والی ذہنیت کا شکار ہے۔   میں جیتوں دوسرا بے شک ہار جائے۔ اسی ذہنیت نے معاشرے میں ایک بگاڑ کی صورت پیدا کر دی ہے۔  اس کےا ثرات جا بہ جا نظر آتے ہیں، خواہ وہ ٹریفک کے مسائل ہوں یا پارکنگ کے یا پھر گھر کا کوڑا کرکٹ اپنے گھر کے سامنے سے ہٹا کر دواسروں کے گھر کے آگے ڈالنے کے۔ یہ کیفیت آپ کو تجارت میں بھی نظر آئےگی اور دفاتر میں بھی۔

اخلاق اور مروّت اب گئے وقتوں کی بات لگتی ہے۔بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت اور صلۂ رحمی دوسری دنیا کی چیزیں لگتی ہیں۔ان مسائل کا حل کیا ہے؟ شائد اس کا حل صرف یہی ہے کہ ہم اپنے آپ پر کام کریں اور اپنے اندر بہتری پیدا کریں پھر شائد ہم بھی تبدیلی کا نقّارہ بن سکیں۔ ایک change agent کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے اندر تبدیلی لائے۔ دیکھیے یہاں بھی مذہب پوری توانائی سے آپ کی مدد کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس کا پورا اخلاقی نظام جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے دیکھ لیں۔ جن اصولوں کی بات کی گئی ہے وہ سارے کے سارے ایک اچھا فرد اور اس کے نتیجے میں ایک اچھے معاشرے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔  قرآن کریم جو  قوانین ہمیں فراہم کرتا ہے اس کا بیش تر حصہ ان قوانین پر مشتمل ہیں جو معاشرے سے متعلق ہیں۔   چند بنیادی مسائل  پر نظر ڈالتے ہیں:

۱۔معاشرہ میں موجودہ خوف کا ایک بڑا سبب افراد  کا ایک دوسرے سے دور ہو نا ہے۔

۲۔ معاشرہ کےانتشار کا ایک سبب لا تعلقی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر کیا تبدیلیاں لائیں کہ یہ مسائل دور ہوں۔ اس تبدیلی کو لانے کے لیے ہمیں  افراد کے ایک دوسرے اور معاشرے سے لاتعلقی کی وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا۔

افراد کے ایک دوسرے سے دور ہونےکی کئی وجوہات ہیں:

۱۔ ہماری بے جا مصروفیات: مزید کمانے کی جستجو بھی ان مصروفیات کا ایک سبب ہے۔ ہم  قناعت پسندی اختیار کرنے کے بجائے مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ضروریات کا   تدارک مزید کما کر کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہمیں زیادہ وقت چاہیے ہوتا ہے۔ یہ وقت ہم اپنے ذاتی ، اپنی فیملی یا پھر دوست اور عزیز و اقارب کو دیے جانے والے وقت میں سے نکال کر دیتے ہیں۔ نتیجہ کےطور پر ہمیں خود اپنے لیے ،بیوی بچوں، دوستوں اور عزیز و اقارب کے لیے وقت نہیں ملتا۔ وقت کا نہ دینا دوری کا باعث بنتا ہے۔ جو کہ ایک قسم کی سرد مہری پر منتج ہوتا ہے۔اس دوری کی ایک اور اہم وجہ ہمارے کام  کے بعد کی مشغولیات ہیں:

ا۔ہم آج کے دور میں فارغ ہو کر گھر آتے ہیں اور عموماً ٹی وی کے سامنے بیٹھ کے لا تعداد چینلز کے ہاتھوں محصور ہو جاتے ہیں۔

ب۔رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے پوری کردی۔ سوشل نیٹ ورکنگ نے ایک دوسرے سے ملنے ملانے کے عمل کو ایک مصنو عی عمل میں تبدیل کر دیاہے۔

ج۔کچھ کسر رہ گئی تو اسے cell phoneکے شتر بے مہار استعمال نے پوری کردی۔ لا تعداد  sms  کے بے شمار  پیکجز۔ بس گھر پر رہیں اور وقت کو فضول مشغولیات میں گزاریں۔

۲۔معاشرے میں لا تعلقی کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ  مادّیت پرستی ہے۔ مذہب جس قدر ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تا کید کرتا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو نا ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے سے لا تعلق رہ سکیں۔ہمارا تو ایمان ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے اگر ہمارا پڑوسی بھوکا  سو جائے۔ صلۂ رحمی پر عمل کرنے والا شخص کیسے  ضرورت کے وقت اپنے رشتہ داروں کو بھول  سکتا ہے۔

حل بہت سادہ ہے۔ دین نے ہمیشہ سادہ ترین حل ہی پیش کیا ہے۔ دین ہمیشہwin-win paradigm  پیش کرتا ہے۔ اس کے لیے ذراِئع کے فقدان (Scarcity of Resources)  کا نظریہ ترک کر کے ہر چیز کے کثیر ہونے کی ذہنیت یعنی (Abundance Mentality)  پیدا کرنی پڑتی ہے۔  میں جو اپنے لیے پسند کروں وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کروں۔پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے سے لا تعلق رہ سکیں ایک دوسرے سے کٹے ہو ئے رہ سکیں۔اس کے لیے دین میں سمجھ نہایت ضروری ہے۔

۶۔جسمانی(Physical)

جسم اگر بیمار ہو تو دماغ بھی صحیح کام نہیں کرتا۔ جسم بیمار تب ہو تا ہے جب ہم اس کو اس کی فطرت سےہٹ کر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اہم مسائل یہ ہیں:

۱۔ سب سے بڑا مسٔلہ غذا ہے۔ مشہور مقولہ ہےYou are what you eat””۔ دورِ جدید ایک بڑی مصیبت اپنے ساتھ جنک فوڈ کی شکل میں بھی لایا ہے۔اور ہم بھی شیطانوں کی طرح  سات آنتوں سے کھا رہے ہیں۔ ذرا نظر ڈالیں اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ منافع بخش اور تیزی سے بڑھنے والا کاروبار فوڈز کا ہے۔  لوگ کھانا پیٹ بھرنے کےلیے نہیں کھا رہے ہیں  بلکہ اب کھانا تفریحاً کھا یا جاتا ہے اور بہت کھایا جاتا ہے۔اب خود سوچ لیں معدے کا کیا حال ہو نا ہے۔اور جسم اس غیر فطری تبدیلی کو کس طرح جھیلے گا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جواب دے جاتا ہے۔کھانا صرف اس لیے کھائیں کہ زندہ رہنا ہے۔ حد سے تجاوز کرنا ہر حال میں برا ہے۔

۲۔ مادّی ترقی نے انسان کو کاہل بنا دیا ہے۔ نت نئی  ایجادات نے سہل پسندی میں اضافہ کردیا ہے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ انسانی جسم مشقت کا عادی نہیں رہا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے  پہلے خوب محنت کرکے پیسہ کمایا اور اس پیسے سے تعیشات کی چیزیں لیں، ان تعیشات کا عادی جسم جب بے ڈول اور موٹا ہوا تو پھرمحنت کرکے اس کی چربی پگھلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پیدل چلنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا  چھوڑا  گیا تو اعضاء و جوارح میں وہ چستی اور پھرتی نہیں رہی  جس سے طبیعت میں ایک خاص قسم کا اضمحلال پیدا ہو تا  گیا۔ پیدل چلنے اور خود اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کے نتیجے میں انسان کے اندر غرور و تکبر بھی جڑ پکڑنے نہیں پاتا۔ فرش پر بستر کر کے سونا بھی   اس کے لیے اکسیر ہے۔انسان کا دماغ آسمان پر نہیں چڑھتا۔

۷۔جذباتی (Emotional)

انسانی  شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی جذباتی   شخصیت ہے۔ انسانی فیصلوں پر جتنا اس کے جذبات اثر انداز ہوتے ہیں شائد ہی کو ئی اور چیزیں ہوتی ہو۔انسانی جذبات کی  گھاتیں اتنی  پیچیدہ  ہیں کہ فرد کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اس کا کون سا فیصلہ اس کی نظر ہو گیا۔اس حوالے سے یہ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ :

۱۔کیا جذبات کو ئی منفی شے ہے؟

۲۔ کیا اس کا گلا سختی سے گھونٹ دینا چاہیے؟

جواب یقیناً نہیں میں ہے۔ دراصل  جذبات  انسانی شخصیت کا وہ پہلو ہیں جو اس کی زندگی میں مختلف  رنگ ابھرتے ہیں۔ عموماً ہمیں جذبات کے  حوالے سے جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ  ایموشنل مینجمنٹ (Emotional Management) کا ہے۔ اس ضمن میں تین باتیں سوالات اہم ہیں:

۱۔کیا ہم  مختلف جذبات  کوالگ الگ ان کے صحیح تناظر میں  شناخت کرسکتے ہیں؟

۲۔ کیا ہم ان شناخت شدہ جذبات کا  صحیح تجزیہ کر سکتے  ہیں؟

۳۔کیا ہم ان جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں؟

اگر ہم مندرجہ بالا سوالات کا جواب دینے کی کوشش کریں تو ہمیں  ایموشنل مینجمنٹ کا  ایک بنیادی ماڈل مل سکتا ہے۔

 سب سے پہلے تو یہ دیکھیے  کہ  کیا ہم مختلف انسانی  جذبات مثلاً  غصہ اور   ناراضگی میں تمیز کرسکتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ اگر میرے والد نے مجھے ایک تھپڑ مارا ہے تو  مجھ میں  غصہ پیدا ہوا یا میں   ناراض ہوا۔ اسی طرح سے  کیا ہم  پیار اور  پسند میں فرق کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ کرنے قابل ہو جائیں تو ہم مختلف جذبات  کو شناخت کر سکتے ہیں جو کہ اس ماڈل کا پہلا مرحلہ ہے۔

دوسرے مرحلے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ  ان جذبات کے پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے؟ وہ حقیقی ہے یا غیر حقیقی۔ کہیں ہم کسی خارجی  دباؤ  یا داخلی تبدیلی کی وجہ سے تو ایسا  محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال  نوجوانی میں عشق کا ہونا ہے۔ اس وقت دونوں عوامل اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔داخلی تبدیلی سنِ بلوغت میں خارج ہونے والے مختلف ہارمونز کے زیرِ اثر  وقوع پذیر ہو رہی ہوتی ہے دوسری طرف ہمارا معاشرہ خصوصی طور پر دوست، احباب، میڈیا اور پھر رومانی ادب اس  تبدیلی کو ایک نام دے رہا ہوتا ہے جسے لوگ محبت کہتے ہیں۔ یہاں شدید ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کا صحیح تجزیہ کر کے اس  کے اصل محرکا ت کا اندازا لگایا جا ئے۔

تیسرے مرحلے میں ایسے تمام جذبات پر قابو پانے  کا ہنر سیکھنا ہے جو کہ فرد اور معاشرہ کے لیے ضرر رساں ہیں۔

Emotional Management پر اب تو بے شمار کام ہو چکا ہے۔ خاص طور پر  Daniel Goleman  کی  Emotional Intelligence  بہت مشہور ہوئی۔  IQ یعنی Intelligence Quotient کے ساتھ ساتھ اب افراد کے  EQ یعنی Emotional Quotient کی پیمائش   کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ :

۱۔ انسان ایک با شعور ہستی ہے اور اسے یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ گزارنی چاہیے نہ کہ جدھر کی ہوا ہو ادھر چل پڑنا چاہیے۔

۲۔انسان کو اپنی منزل کا تعین کرنا چاہیے۔ جس میں دنیا کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس دنیا کے بعد کی زندگی کی بھی پلاننگ ہو۔

۳۔اپنے وقت کا ایسا استعمال ہو کہ وقت رائیگاں نہ جائے۔ وقت گزارنے کے لیے مختلف مشاغل اختیار کرنے  کی ضرورت ہے مگر مشاغل ایسے نہ ہوں جو وقت کو قتل کردیں کیوں کہ ہمیں اپنے بتانے والے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے۔

۴۔شخصیت کے تمام پہلوؤں کے مابین ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ توازن ہی خوب صورتی ہے۔

۵۔ زندگی گذارنے کے لیے  رویّے میں اعتدال پیدا کرنا ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ ہم کبھی کبھی  اعتدال  سے تجاوز بھی کر جائیں مگر کوشش کریں کہ جتنا زیادہ ممکن ہو اعتدال کے قریب رہیں۔

About محمد شمیم مرتضیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *