Home / شمارہ اگست 2018 / توضیح القرآن(قسط  8)۔

توضیح القرآن(قسط  8)۔

تحریر:عظمیٰ عنبرین

سورہ البقرہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف :

سورۃ البقرہ ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئی۔اہل مدینہ جو کہ اسلامی دعوت کے اولین مخاطب تھے وہ  اہل مکہ کی نسبت سماجی و علمی اعتبار سے مختلف تھے۔دین کی دعوت بھی جس مرحلے میں داخل ہو رہی تھی اس کی ضروریات اور تقاضے بھی نئے تھے تو اس سورہ کے چالیس رکوع اور دو سو چھیاسی آیتوں میں ایسے مضبوط خطوط منظم کیے گئے جس میں  وحدت، دیوانی اور فوجداری مقدمات کے قوانین کے نفاذ  سے عدل و انصاف پر مبنی اقتصادی نظام اور تعمیر شخصیت  کی ایسی خصوصیات  جس میں ملت کا  ہر فرد اپنے کردار کو ڈھالے تاکہ انفرادی نیکیاں و خوبیاں اجتماعی رنگ اختیار کر لیں۔کثیر جہتی مقاصد کی بنا پرقبلہ کا تعین بھی فرما دیا گیا۔

ایک مقصد  بنی اسرائیل کی دنیا کی امامت سے معزولی اور امت محمدیہ ﷺ کی پیشوائی کا اعلان تھا۔

دوسرا یہ کہ اللہ کے لیے کی گئی عبادتیں انتشار کا شکار ہو کر اپنا جماعتی حسن کھو نہ دیں۔

یہ  ایک  بڑی آزمائش اور اتباع رسول ﷺ کی کسوٹی  بھی تھی۔ جس سے یہ امتحان مقصود  تھا کی کون قبلے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے  اور کون بذات خود قبلہ کو مقدس جان کر اس کی عبادت کرتا ہے۔ اور یہ واضح کرنا تھا کہ عبادت اللہ کی کرنی ہے بیت اللہ کی نہیں۔

  اللہ نے اپنے بندوں کو حوصلہ بھی دیا کہ کفار کے مظالم سے گھبرائے بغیر وحی الہیٰ کے احکامات پر عمل کریں۔حقیقی کامیابی اسی کو ملتی ہے جس کے شامل حال اللہ کی حمایت و نصرت ہو۔ان امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے  ہمارے ساتھ سورہ البقرہ کے مطالعے میں شامل ہو جائیں۔

نوٹ:۔ عربی متن ایک بار قرآن سے براہ راست پڑھ لیں ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آیات 1 تا 4

ترجمہ:

”الف لام میم ۔یہ عظیم الشان کتاب ،جس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے پرہیز گاروں کے لیے،وہ جوغیب پر ایمان لائے ہیں اور اچھے طریقے سےنماز ادا کرتے ہیں  اورہم نے انہیں جو رزق عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ جو ایمان لائے ہیں اس پر  جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے اور جوآپ سے پہلے  نازل کیا گیا تھااور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔وہی لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی اور وہی دونوں جہانوں میں کامیاب ہیں۔“

تشریح:

الف لام میم “ مفسرین کرام نے ان حروف کی تشریح کرتے ہوئے متعدد اقوال تحریر فرمائے ہیں۔میرےفہم کے مطابق  بہتر یہ ہے کہ ان کا حقیقی علم اللہ کو ہےاور ان کا مفہوم جاننے یا نہ جاننے سے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

قرآن پاک کے روشن دلائل،اس کے بیان کردہ تاریخی واقعات اور پیشین گوئیوں میں  کوئی شک نہیں۔اگرچہ قرآن  کے مخاطب تمام انسان ہیں اور یہ تمام انسانوں کے لیے پیغام ہدایت ہے۔ لیکن کیونکہ ہدایت ملتی اسے ہی ہے جو  واقعی ہدایت کے طلب گار و پرہیزگار ہوں،اس لیے مذکورہ فقرے میں ”متقین کے لیے ہدایت ہے“ کہہ کر تخصیص کر دی گئی ہے۔ایسا استعمال ہر زبان میں عام ہے۔تقویٰ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کو ہر ایسی چیز سے محفوظ کرنا جس سے ضرر کا اندیشہ ہو اور شرع میں تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو ہر گناہ سے بچانا۔یہاں سے چوتھی آیت تک مسلسل ان متقین کی علامات ہیں جو قرآن کی ہدایت سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ان کی پہلی علامت یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان کا معنی ہےپختہ یقین اور غیب ہر اس چیز کو  کہتے ہیں جو ظاہری حواس کی رسائی سے بلند اور عقل کی سمجھ سے بالاتر ہو مثلا وحی، فرشتے، قیامت، جنت ، دوزخ، خوداللہ کی ذات۔یہ سب چیزیں ایسی ہیں   جو نہ آنکھوں سے دیکھی جا سکتی  ہیں اور نہ ہی اپنی عقل سے سمجھی جا  سکتی ہیں۔ان کے جاننے کا  ذریعہ  نبی کی ذات گرامی  ہے۔ اللہ کے نبی کی زبان ترجمان حق ہوتی ہے۔جس پر  یقین  رکھنا ضروری ہے۔اس لیے ایمان بالغیب کو  تقویٰ کی اولین شرط  قرار دیا گیا ہے۔ان چیزوں کے علاوہ  وہ احکام جن کی حکمتوں کو سمجھنے کے لیے انسانی عقل ابتدا میں قاصر رہتی ہے ان کو تسلیم کرنا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے۔یقین کا یہ مقام جب تک کسی کو حاصل نہیں  تب تک اس کا قرآن کی ہدایت سے فائدہ اٹھانا مشکل ہے۔

متقین کی دوسری علامت یہ ہے کہ نماز کو تمام ظاہری و باطنی حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

یہ اصول یاد رکھنا ضروری ہے کہ برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکنا نماز کا نتیجہ ہے ، اور کسی بھی چیز کا نتیجہ تب ہی حاصل ہوتا ہے جب اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے ۔

یہ ممکن نہیں کہ کسی کی نماز تو اچھی ہو، اس کو اس کے تمام مقاصد و مفاہیم کا ادراک بھی ہو مگر وہ عملی زندگی میں جھوٹا بھی ہو، خائن بھی، بد اخلاق بھی ہو،  بدعمل بھی۔ نمازوں میں اس احساس کو بیدار کرنا ضروری ہے کہ ہم خدا کی بارگاہ میں حاضر  ہیں۔ الله کی یاد جب انسان کے دل میں گھر بنا لے تواس کے ذہن ،  دل اور جسم کی تمام حالتوں پر حاکم ہوتی ہے ۔اور جس کی حاکم الله کی یاد ہو،  وہ کبھی برائی پر زیادہ  دیر ڈٹا نہیں رہ سکتا ۔

آگے ذکر ہے رزق کا،لغت میں رزق کا مطلب ہے حصہ ،بخشش۔اس لحاظ سے مال و اولاد، جاہ و منصب، علم و عرفان سبھی کچھ اللہ کا عطا کیا ہوا  رزق ہے۔ اللہ کی رضا اس میں ہے کہ دولت مند اپنی دولت سے،غریب اپنی مسکراہٹ و خوش اخلاقی سے،عالم اپنے علم سے اور عارف اپنے روحانی فیض سے مستحقین  پر سخاوت عام کرے۔یہ متقین کی تیسری علامت ہے۔

چوتھا یہ کہ اس چیز کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ انسان کی ہدایت کے لیےآسمانی وحی کے قائل ہی نہیں بلکہ اپنی عقل ہی کو اپنی رہنمائی کے لیے کافی سمجھتے ہیں یا وحی کے قائل تو ہیں لیکن بعض کو مانتے ہیں اوربعض کا انکار کرتے ہیں۔وہ قرآن کی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

نیز اس آیت میں ختم نبوت کی واضح دلیل بھی موجود ہے۔کیونکہ وحی جس پر ایمان لانا  ضروری ہے وہ یا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی یا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے۔اگر نبوت کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا تومستقبل  میں آنے والی وحی کا بھی نہ صرف   ذکرہوتا بلکہ اس پر  ایمان لانے کا بھی کہا گیا ہوتا۔

پھر آخرت کا ذکر ہے۔آخرت  کی زندگی کو صرف ماننا  کافی نہیں  بلکہ ایسا یقین ضروری ہے  جس میں شک و شبہ کا کوئی  گزر  نہ ہو تب ہی انسان ان  نتائج  کا اندازہ لگا سکتا ہے جو اس کے اعمال کی بنا پر اس پر مرتب ہوں گے۔

یہ تمام علامتیں جن میں موجود ہوں وہی متقی ہیں  اور ان ہی کے متعلق اللہ کا فرمان ہے کہ  وہ اپنے رب کی توفیق سے ہدایت پر ہیں اور فلاح پانے والے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *