Home / شمارہ دسمبر 2017 / توضیح القرآن (قسط دوم)

توضیح القرآن (قسط دوم)

تحریر:حافظ محمد شارق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورہ فاتحہ

پچھلی قسط میں ہم نے سورہ الفاتحہ کا تفصیلی تعارف ملاحظہ کیا تھا۔ آج ہم اس سورہ مبارکہ کی پہلی آیت کی تشریح سمجھیں گے۔

اس سورہ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين

تعریفِ  حقیقی صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالَم کی پرورش کرنے والا   ہے۔

الحمد:

اس سورہ کا ایک نام سورہ حمد بھی ہے کیونکہ اس کا آغاز اللہ کی حمد و توصیف سے ہوتا ہے۔ آیت مبارکہ کا پہلا لفظ الحمد ہے۔ یہاں الحمد کی وضاحت کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے مراد عمومی طور پر ’’تعریف‘‘ لیا جاتا ہے۔ تعریف و تمجید کے برعکس حمد دو قسم کے جذبات سے بھرپور لفظ ہے۔ اول یہ کہ جب آپ کسی نہایت خوب صورت فن پارے یا شاہکار کو دیکھتے ہیں اور آپ کے دل سے جو بے ساختہ ستائش اور تعریف و توصیف نکلتی ہے، اس والہانہ اظہارِ ستائش کو اہل عرب کے ہاں حمد کہا جاتا تھا۔ دوسرا جذبہ والہانہ اظہارِ ستائش کے ساتھ اس ذات کے تشکر کا احساس ہے ۔ یعنی حمد کے معنی میں ایک جانب خدا تعالیٰ کی ہستی کے کمال کی تعریف و ستائش  شامل ہے تو دوسری جانب یہ لفظ اس کی نعمتوں اور احسانات کی شکر گزاری کے مفہوم پر بھی حاوی ہے۔ قرآن مجید میں بھی جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں یہی دو مفہوم نمایاں ہوتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ ان مفاہیم  میں ارادہ و اختیار  بالکل بدیہی ہے کیونکہ احساسِ تشکر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب  اس ہستی کی عنایتیں اور تخلیقی شاہکار اس کے ارادہ و اختیار کے ساتھ ہو۔ چنانچہ قرآن مجید کے اس پہلے ہی لفظ سے خدا کے متعلق بعض فلاسفہ یہ تصور بھی باطل قرار پاتا ہے کہ  وجودِ خداوندی اور کائنات سورج اور روشنی کی طرح فیض لازم و ملزوم ہے۔

ربّ العالمین

عربی لغت میں رب ایسے مالک کو کہتے ہیں جو  اپنے مملوک کی اصلاح و تربیت  کی خاطر اس میں تصرف کا بھی حق رکھتا ہو۔قدیم عربی لٹریچر میں یہ لفظ غلاموں کے مالک  اور پرورش کرنے والے کے لیے عمومی طور پر استعمال ہوتا تھا۔ امام راغب اصفہانی اس لفظ کی تشریح یوں کرتے ہیں:

الرب فی الاصل التربیۃ، وھو انشاء الشی ء حالا فحالاً الیٰ حد التمام لفظ رب اصلاً تربیت کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال سے گزار کر کمال کی حد تک پہنچانا ہے۔

لفظ رب کی اضافت عالمین  کے ساتھ ہے ۔ یہ لفظ  تمام موجودات کے لیے بھی بولا جاتا ہے  اور موجودات کی کسی خاص نوع کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے، جیسے قرآن مجید میں ہے کہ ’’ہم نے آپ (یعنی مریم کو)  سارے عالم کی عورتوں میں سے منتخب کرلیا۔‘‘[1]اس آیت میں عالم سے مراد ظاہر ہے کہ عالمِ انس یعنی انسانوں کا جہان ہی ہے۔ البتہ سورۃ الفاتحہ کی اس آیت میں چونکہ خدا تعالیٰ  کا تعارف کروایا جارہا ہے اس لیے زیادہ مناسب و موزوں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خدا تعالیٰ کی ربوبیت محض یہ دنیا اور کائنات  تک محدود نہیں بلکہ وہ اللہ انسان کے اپنے باطن سے لے کر کائناتِ ظاہر میں جو کچھ موجود ہے، جو کچھ موجود تھا اور   جو کچھ آئندہ بھی ہوگا، زمان و مکان، موجود و لاموجود،ہست اور نیست   ، ہر ایک کا رب وہی واحد و لاشریک ہے۔چنانچہ یہاں اللہ کا تعارف رب کے طور پر کروایا جارہا ہے تو اس مراد تمام ممکنات   ہیں خواہ وہ حاضر ہوں یا مخفی۔

یہ بھی واضح رہے کہ خدا کے ابتدائی تعارف میں صفتِ خلق کا ذکر علیحدہ طور پر اس لیے غیرضروری تھا  کہ عالمین   اصل میں علامت سے ہی مشتق ہے اور عالم  اسی کو کہتے ہیں جس سے اس کے خالق کی پہچان ہو۔ یہ لفظ ۔ چنانچہ عالمین درحقیقت وجودِ خداوندی اور اس کی صفات کا ہی مظہر ہے اس لیے رب العالمین کی بلیغ ترکیب سے خدا کے خالق و پروردگار دونوں کا اثبات ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید کے مقدمے کی حیثیت سے یہ لازمی تھا کہ آغاز میں ہی اس کلام کے نازل کرنے والی ہستی یعنی اللہ کا تعارف کروا دیا جائے۔ لفظ اللہ اہل عرب کے ہاں خدا کا مترادف تھا ۔ اس آیت میں اللہ کی  شانِ الوہیت  ربوبیتِ عالم سے بیان کی گئی ہے۔ گویا  پہلے خدا کی ذات حمد کے لیے سزاوار  قرار دی گئی  اور پھر یہ دلیل دی گئی  ہے کہ  اس تعریف و شکر کی سب سے پہلی وجہ اس کے رب العالمین ہونا ہے۔یہ ایک فطری اظہارِ عقیدت ہے۔بالکل آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ کا تعارف ’’رب ‘‘ سے اس لیے بھی کروایا گیا گیا کہ یہ سورت فطرتِ انسانی کی پکار کی ترجمانی کرتی ہے ، اور کائنات میں نظرآنے والی سب سے پہلی خاصیت جس کی گواہی  بدیہی طور پر  ایک سلیم الفطرت انسان اپنے ہر سو مشاہدے کی بدولت دے سکتا ہے، وہ ربوبیت ہی ہے۔گویا  ربوبیت کا مشاہدہ اور اس کی تصدیق انسان کا وجدان ازخود کردیتا ہے۔روحانی لحاظ سے یہاں یہ لطیف نکتہ بھی ہے کہ کلامِ الٰہی کے آغاز میں ہی  خدا کا تعارف بطور رب العالمین اس لیے کروایا گیا  کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی روح تخلیق کی اور ان سے عہد و پیمان لیا تو اس وقت بھی یہی تعارف اسے دیا گیا تھا۔

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا ’’ اور یاد کرو ، جب نکالا تمھارے رب نے بنی آدم سے، ان کی پیٹھوں سے ، ان کی ذریت کو اور ان کو گواہ ٹھیرایا خود ان کے اوپر۔ پوچھا : کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ بولے ، ہاں تو ہمارا رب ہے ۔ ہم اس کے گواہ ہیں۔ (الاعراف۔۱۷۲)

غالباً یہی وجہ ہے ہے کہ حضراتِ انبیاء سے منقول اکثردعائیں ’’ربّنا‘‘ سے ہی شروع ہوتی ہیں۔حتیٰ کہ ایک موقع پر قرآن میں اس لفظ رب کے ساتھ دعا کرنے والوں کو اولوالباب قرار دیا گیا ہے۔

عقلی اعتبار سے دیکھیں تو کائنات کی  ہر شے،  مخلوق، تمام موجودات  دراصل ایک خدائے واحد کی صفتِ ربوبیت کی  علامت ہے۔ ہر ایک امر ، ہر ایک منظر  ربوبیت کے دائرہ میں شامل ہوجاتی ہے۔ انسان جب نگاہ اٹھا کر اس حسین و جمیل کائنات کو دیکھتا ہے، اپنے ارد گرد کارخانہ حیات کے بے مثال شاہکاروں کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اس بات کو تسلیم کیے بغیر نہیں  رہتا کہ اس کائنات کا ایک خالق و مالک اور پروردگار ہے۔ عالمین یعنی محض یہ دنیا نہیں بلکہ اس کے اپنے نفس  کی دنیا سے لے کر کائنات   کی بے کراں وسعتوں تک اسے  تربیت و نشونما کی خصوصیت لازمی دکھائی دیتی ہے ۔جس طرح اس کا اپنا وجود ایک  نطفے سے ترقی پاکر ہڈی اور گوشت کا حامل انسان بن جاتا ہے اور پھر مزید نشونما کے بعد ایک ناتواں  انسان سے مضبوط جسم بن جاتا ہے، اسی طرح کائنات  میں بھی نشونما اور ارتقا کا یہ سفر جاری و ساری ہے۔ ایٹم سے بھی چھوٹے ناقابل مشاہدہ پارٹیکل سے یہ کائنات وجود میں آجاتی ہے اور کروڑہا ستارے ، کہکشائیں  منظر پر آجاتے ہیں۔ہر گھڑی ان میں ترقی و نشونما کا سفر جاری ہے اور ان کے نیست (Nonexistence) سے ہست (Existence) میں آنے اور پھر معدوم ہونے تک ان کی تدریجی تربیت کے تمام اسباب موجود ہیں۔رب العالمین کی تشریح خود قرآن مجید میں موجودہے کہ جب فرعون نے سیدنا موسیٰ سے پوچھا کہ ربّ العالمین سے مراد ہے؟ اس موقع پر آپ علیہ السلام اور فرعون کے مابین مکالمہ ہوا، جس میں آپ علیہ السلام کے الفاظ قرآن میں یہ منقول  ہیں۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ وہ مشرق اور مغرب کا پروردگار ہے جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ۔اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو۔
هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں۔

انسان کا اپنا نفس یہ گواہی دیتا ہے کہ زندگی  کی تخلیق ، اس کی نگرانی ، اس کے تمام لوازمات مہیا کرنے اور ہر ایک چیز کی پرورش کے پیچھے کوئی مربی ضرور موجود ہے۔  انسان ان حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے تو  اس کے نگہ و سر شکر سے جھک جاتے ہیں اور لب بے اختیار پکار اٹھتے ہیں فتبرک احسن الخالقین ۔۔

شکرِ الٰہی

اللہ تعالی نے ہر چیز کو ایسا بنایا ہے کہ جو ہماری زندگی کے لئے لازم ہے۔ جب انسان ان باتوں پر غور کرتا ہے تو بے اختیار اس کی زبان سے اپنے رب کی شکر گزاری اور تعریف کا جو کلمہ نکلتا ہے وہ یہی “الحمد للہ” ہے۔ ہمیں چاہیے کہ شکر گزاری اور اپنے رب کی تعریف کے اس کلمے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیں۔ جب بھی ہمیں اپنے رب کی کوئی عنایت یاد آئے تو ہمارا رواں رواں اس کی شکر گزاری کے جذبے سے بھر جائے۔

(جاری ہے۔۔۔آئندہ قسط میں ہم خدا تعالیٰ کے بارے میں کچھ غلط تصورات کا تنقیدی جائزہ سورۃ الفاتحہ کی اسی آیت کی روشنی میں لیں گے۔شارق)

[1] ال عمران، ۴۲

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *