Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / توضیح القرآن – قسط 7

توضیح القرآن – قسط 7

عظمیٰ عنبرین

گزشتہ اقساط میں ہم  نے  الحمد سے  مالک یوم الدین  تک  کی تفسیر  میں سورہ فاتحہ کا تفصیلی تعارف ،خدا تعالیٰ کے بارے میں کچھ غلط تصورات کا تنقیدی جائزہ سورۃ الفاتحہ کی ابتدائی آیات کی روشنی میں  ،کائنات کی بقا سے متعلق اللہ کی رحمانیت اور رحیمیت کے پہلو،یوم الدین کے دلائل ، انسانیت کے لیے بحیثیت مجموعی سزا و جزا کی تفصیل   بطور منطقی تقاضے کے پڑھی تھی۔

وہیں سے سلسلہ کلام آگے بڑھاتے ہیں۔بلاشبہ یہ منطقی تقاضا حقیقت میں اپنا وجود رکھتا ہے۔اللہ اس دن کا مالک ہے جس دن  ہر امت کے تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کی زندگیوں کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور ہر انسان  اگر وہ صالحین میں سے ہو گا تو اس پر رحم کیا جائے گا  اور اگر شر پسند ہو گا تو اللہ کی طاقت،انصاف اور حاکمیت کا مظاہرہ دیکھ لے گا لیکن خود کو ملنے والی سزا میں مزاحم نہیں ہو سکے گا۔اس میں انسان کے لیے یہ سبق ہے کہ  نہ صرف اللہ کی رحمت کی بنا پر اس سے محبت کرنی ہے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پر اس سے ڈرنا بھی ہے۔

“ہم آپ کی  عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی  سے مدد مانگتے ہیں”

عبادت کا لفظ عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایک تو پوجا و پرستش دوسرا اطاعت اور فرمانبرداری  اور تیسرا بندگی۔یہاں پر یہ تمام معنی بیک وقت مراد ہیں۔ یعنی ہم اللہ کے مطیع فرمان بھی ہیں،پرستار بھی اور بندے بھی۔ان تینوں ہی مفہوم میں  ہمارا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

عبادت سے بڑھ کر ہمارا اللہ سے تعلق حاجت مند والا  بھی ہےاور وہ ہمارا حاجت روا ہے۔اللہ ہی کے آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور ہم اسی سے مدد و معاونت طلب کرتے ہیں۔

“ہمیں سیدھا راستہ دکھا”

یعنی ہر شعبہ زندگی میں  ہمارا جو عمل ہونا چاہیے،جس طریقہ کار کو ہمیں اختیار کرنا چاہیے تو اے اللہ!آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم غلط کاری  یا بد انجامی والے راستوں پر جانے انجانے میں نہ چل پڑیں۔ہم آپ ہی سے اس علم کے طلب گار ہیں جو اخلاق کے مختلف نظریات میں سے درست نظریہ پر ہمیں قائم رکھے۔زندگی کے بے شمار ٹیڑھے میڑھے راستوں میں علم و عمل کی صراط مستقیم پر  ہمارے قدم جما دے۔

“ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام فرمایا”

یعنی وہ راستہ جس پر  اللہ کے ایسے بندے چلتے رہے ہیں جن سے اللہ راضی رہا اور انہیں انعامات سے مالامال کیا۔

“جو معتوب نہیں ہوئے،جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں”

انعام پانے والوں سے ہمارا مطلب وہ لوگ نہیں ہیں جو دیکھنے میں   بھلے دنیا کی نعمتوں سے مالا مال نظر آئیں لیکن اخلاقی گندگی اور گناہوں کے بوجھ سے اس قدر لدے ہوئے ہوں کہ اللہ انہیں اپنے غضب کا مستحق ٹھہرائے اور وہ یہ صلاحیت کھو دیں کہ  فلاح و سعادت کی راہ پر گامزن ہوں۔جیسا کہ ماضی میں بھی فرعون و نمرود وغیرہ   اپنے اعمال کی بنا پر ظاہری انعامات  جبکہ درحقیقت اللہ کا عتاب  کما کر دنیا سے رخصت ہوئے۔یہ اور بات کہ ان پر  ہونے والا اللہ کا عتاب   بھی اس رحمانیت و رحیمیت    کا تقاضا ہے کہ وہ  اس ہنگامہ زندگی کو نتیجہ خیز اختتام کی بنیاد پر رکھے۔ خدا کی رحمت ہی اس کے منصف ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ ایسا منصف جو ہر مظلوم کے لیے انصاف قائم کرے ۔ آج بھی  ایسے ظالم و بدکردار لوگ ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں جنہیں غیر پائدار نعمتیں ملی ہوئی ہیں جو بہرحال ان کے گناہوں کو مزید آراستہ کرتی ہیں اور بالآخر تنزلی کی پستیاں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔تو ایسے میںاللہ کی شانِ رحمت کے علاوہ بھی غور کریں تو یہ کائنات کا اٹل اصول ہے کہ ہر حرکت اپنا ایک نتیجہ رکھتی ہے، چنانچہ منطقی اعتبار سے لازم ہے کہ انسانی زندگی کا ایک مجموعی نتیجہ ہونا چاہے۔

سورہ الفاتحہ  قرآن کا آغاز کلام ہے۔جو دراصل ایک دعا ہے  جو اللہ ہی نے ہر اس انسان کو  تعلیم دی  جو قرآن کا مطالعہ شروع کر رہا ہو۔گویا جو بھی قرآن سے واقعی فائدہ حاصل کرنا چاہے وہ پہلے اللہ سے یہ دعا کر لےجس کی ابتدا اللہ کی تعریف سے کی گئی ہے۔اس میں دعا مانگنے کے مہذب طریقے کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ پہلے اللہ کی خوبیوں ،احسانات اور منصب کا اعتراف کریں ۔رہنمائی کی درخواست کریں ۔جواب میں اللہ ہی کی طرف سے پورا قرآن  سامنے موجود ہے جو ہدایت و رہنمائی کے درخواست گزاروں کے لیے اللہ کا قائم مقام ہے۔اللہ کی بندے کے ساتھ گفتگو ہے کہ پڑھتے جائیں  اور علم و عمل کے روشن راستوں کی طرف بڑھتے جائیں۔سورہ فاتحہ کی تشریح و توضیح مکمل ہوئی۔

اگلے ماہ انشاء اللہ سورہ البقرہ  کے آغاز سے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

 (جاری ہے۔۔۔)

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *