Home / خواتین اسپیشل / تین مناظر

تین مناظر

پہلا منظر: میں بچوں کے ساتھ کافی مصروف ہوتی ہوں۔ تفصیل سے صفائی کا وقت نہیں مل پاتا۔ کل میری بہن مجھ سے ملنے آئی تو سارے کچن کو چمکا کے گئی ہے۔ واقعی بہنوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔

 دوسرا منظر: میں بچوں کے ساتھ کافی مصروف ہوتی ہوں۔ تفصیل سے صفائی کا وقت نہیں مل پاتا۔ کل میری نند ہم سے ملنے آئی تو سارے کچن کو صاف کر کے گئی ہے، تا کہ مجھے بتا سکے کہ میرا گھر تو گندا ہے اور وہ بڑی صفائی پسند ہے۔ ہونہہ! تیسرا منظر: میں بچوں کے ساتھ کافی مصروف ہوتی ہوں۔ تفصیل سے صفائی کا وقت نہیں مل پاتا۔ تو جب بھی میری بہن چکر لگائے، یا نند ہماری طرف آئے، وہ میرے سارے چھوٹے چھوٹے کام کر جاتی ہیں جو میں مصروفیت کی وجہ سے نہیں کر پاتی۔ میری نند سسرال میں میری بہن کا نعم البدل ہے۔

پہلا منظر: گھر میں مہمان آئیں تو سارا کھانا امی ہی بنا لیتی ہیں، بھابیوں نے بس ٹیبل سیٹ کر دیا، ہلکی پھلکی صفائی کر لی اور بس۔ کچن تو امی ہی سنبھال لیتی ہیں۔ ایسی ساس تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔

 دوسرا منظر: گھر میں مہمان آئیں تو سارا کھانا میری ساس ہی بناتی ہیں، مجھے بس ٹیبل سیٹ کرنے اور صفائی ستھرائی پر لگا دیتی ہیں اور کچن خود سنبھال لیتی ہیں تا کہ جب مہمان پوچھیں کہ کھانا تو بڑا لذیذ ہے تو سارا کریڈٹ خود لے لیں۔ ہونہہ! تیسرا منظر: گھر میں مہمان آ جائیں تو سارا کھانا ساس امی ہی بنا لیتی ہیں، ہم دیورانی جیٹھانی نے بس ٹیبل سیٹ کر دیا، ہلکی پھلکی صفائی کر لی اور بس۔ کچن تو امی ہی سنبھال لیتی ہیں۔ ایسی ساس تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے۔

 پہلا منظر: ہم انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میں تو روز امی ابو سے بات نہ کر لوں تو دن ہی نہیں گزرتا۔ شکر ہے واٹس ایپ اور سکائپ ہیں، دوری کا احساس کم ہوتا ہے۔

 دوسرا منظر: ہم انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میرا شوہر تو ویک اینڈ کے انتظار میں ہوتا ہے۔ جب تک پورا گھنٹہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے بات نہ کر لے، چین نہیں آتا اسے۔ حد ہے! ہم نے بھی تو ایک ویک اینڈ ہی گزارنا ہوتا ہے اسکے ساتھ۔ سارا ہفتہ انتظار کرو اور صبح سے ہی فون شروع ہو جاتے ہیں۔ ہونہہ

تیسرا منظر: ہم انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میرے شوہر ویک اینڈ کے انتظار میں ہوتے ہیں تا کہ اپنی امی اور بہن بھائیوں سے بات کر

لیں۔ میں پہلے ان کے ساتھ اپنے سسرال والوں سے کچھ دیر بات کر لیتی ہوں، پھر ادھر ادھر ہو جاتی ہوں تا کہ کچھ وقت انہیں اپنی فیملی کے ساتھ اکیلے میں بھی مل جائے۔ میری تو اپنے گھر والوں سے روز ہی بات ہو جاتی ہے، وہ ہفتے میں بس ایک ہی بار بات کر پاتے ہیں اس لئے ان کے سر پر مسلط ہونا مجھے مناسب نہیں لگتا۔

 پہلا منظر: تینوں بھائیوں کی شادی ہو گئی ہے اور ماشا اللہ سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ بھابیوں کا تو موڈ خراب ہوتا ہے لیکن شکر

ہے بھائی بہت اچھے اور امی ابو کے فرمانبردار ہیں۔ اللہ تعالی یونہی میرے میکے کو ہنستا بستا رکھیں۔

 دوسرا منظر: میری شادی ہو چکی ہے اور میرا حق ہے کہ میرا الگ گھر ہو۔ مجھے میرا الگ گھر چاہئے، میں اس گھر میں اپنے بچے نہیں پال سکتی۔ ہونہہ!

تیسرا منظر: میرے تینوں بھائیوں کی شادی ہو گئی ہے اور ماشا اللہ سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ بھابیاں خوش دلی سے گھر کی تمام ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔ اسی لئے جب میری شادی ہوئی تو میں بھی بھرے گھر میں ہی رہتی ہوں۔ جیسے میں چاہتی ہوں کہ میرے بھائی بھابیاں میرے والدین کا خیال رکھیں، بالکل اسی طرح خود پر بھی اپنے ساس سسر کی ذمہ داری محبت سے پوری کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

 نیر تاباں

About نیر تاباں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *