Home / شمارہ اگست 2017 / جشن آزادی مبارک دوستوں

جشن آزادی مبارک دوستوں

چشم تصور سے چودہ اگست ١٩٤٧ کی اس سرد رات کو دیکھیئے ..

شمال مشرق کی جانب سے ایک نوجوان .. اپنے چہرے پر میلوں کی مساوت کی تھکاوٹ سجائے ہوئے…..

اور بکسوں کی صورت ہاتھوں میں بار گراں اٹھائے ہوئے..

لڑکھڑاتا ڈگمگاتا .. چلا آرہا ہے ..

.

یہ نوجوان اپنی عمر بھر کی پونجی..

دوست، احباب، عزیز، رشتہ دار ..

سب گنوا چکا ہے ..

.

مگر چہرہ پر عجب سی طمانیت ہے .. لبوں پر مسکراہٹ رقصاں ہے .. اور آنکھیں ہیں کہ شکرانہ خدا سے بھیگی جاتی ہیں.. سرزمین خداداد پر پہنچتے ہی نیچے گرتا ہے .. اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے ..

.

وقت تھم جاتا ہے .. چاروں اطراف خاموشی چھا جاتی ہے .. مگر چشم فلک کو کوئی اچمبا محسوس نہیں ہوتا ..

کیونکہ اس نے ان دنوں ایسے ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں جیالوں کو ، بچوں کو، بوڑھوں کو، عورتوں کو .. اس سے زیادہ ابتر حالت میں اسی سرزمین پر سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا ..

.

ان تمام کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو کوئی چھت ..

مگر دل میں اطمینان تھا .. ایک سکون تھا کہ ہاں ! یہی ملک ہمارا سب کچھ ہے اور یہی وطن ہمیں ہمارا سب کچھ دے گا ..

.

آج تشکیل پاکستان کے پورے ستر سال بعد ..

جب ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن چکے ہیں ..

جب ہمارے دفاع و عسکری قوت کو ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے ..

جب ہماری دھرتی کو معدنیات سے مالامال سمجھا جاتا ہے ..

جب ہمارے پاس بہترین و ذہین اذہان میسر ہیں ..

جب ہماری معیشت کی بحالی کی سینکڑوں صورتیں موجود ہیں ..

.

تب .. دوستو .. تب

.

بیس کروڑ عوام کی زبان پر ایک ہی گردان جاری ہے ..

“میاں، اس ملک میں کچھ نہیں رکھا ، یہ وطن ہمیں کچھ نہیں دینے کا”

.

چودہ اگست کی اس رات کو ہمارے پاس کچھ نہیں تھا .. مگر سب کچھ تھا ..

اور آج کہنے کو ہمارے پاس بہت کچھ ہے .. لیکن سچ پوچھو تو کچھ بھی نہیں ہے ..

.

ہم نے اللہ رب العزت کی اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی جو ہمیں آزادی کی صورت میں رضا الہی سے حاصل ہوئی .. ہم نے ان قربانیوں کو مدفون کر دیا جو آج بھی کہیں اسی سرزمین کی گود میں دفن ہیں ..

.

ہمارے سامنے آج پھر ایک اور جشن آزادی ہے جو خود غرضی اور استبداد سے کانپ رہا ہے ..

.

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک بار پھر اسی جذبہ حب الوطنی کی تجدید کریں جس کی اثاث دین پر ہے.

.

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ پاک مجھے بطور نعمت اولاد سے نوازتے ہیں. میں اس اولاد کی ٹھیک پرورش نہیں کرتا اور نتیجہ میں وہ بگڑ کر غنڈہ یا بدمعاش بن جاتی ہے. اب کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ اولاد نعمت تھی ہی نہیں ؟ یا بات یوں ہوگی کہ الله نے تو نعمت سے نوازا تھا مگر میں نے کفران نعمت کیا جس کا نتیجہ تخریب میں نکلا. پاکستان اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے مگر ہم نے کفران نعمت کیا ہے، جس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں. ہمیں حالات کی اصلاح میں کردار ادا کرنا ہے ، ملک کے قیام کو غلطی کہنا دراصل اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنا ہے

.

یہ انسان یا قوم کی اپنی شامت اعمال ہوتی ہے جو ایک نعمت کو تخریب میں بدل دیتی ہے. ایسے میں یا تو اس قوم کو مٹا دیا جاتا ہے یا انہیں بہتر لوگوں سے بدل دیا جاتا ہے. یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، یہاں کوئی لاڈلا نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو عمل سے اپنا میرٹ ثابت کرنا ہے. ہمیں آگے بڑھ کر اصلاح کرنی ہے اپنی بھی اور اس ماحول کی بھی. بقول مودودی صاحب کے ، ہم سب دیہاڑی کے مزدور ہیں جنہیں اپنا کام پورا کرنا ہے .. نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے.

.

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات مسائل کی اپنی سنگینی سے زیادہ ان مسائل کو مستقل اچھالتے رہنا مسلہ بن جاتا ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسائل کو زیر بحث نہ لائیں. ضرور لائیں مگر اس میں توازن پیدا کریں. جہاں زید حامد کی طرح خوش فہمی کا چیمپئن بننا حماقت ہے وہاں حسن نثار کی طرح مایوسی کا پیغمبر بن جانا بھی دانش کی دلیل نہیں. تنقید ضرور کریں مگر تعریف کے پہلوؤں پر بھی اپنی نظر کرم کیجیئے. مثبت انداز میں تنقید کیجیئے کہ جسے پڑھ کر قاری مایوسی کی دلدل میں نہ جاگرے بلکہ اس میں اپنے سدھار کا جذبہ پیدا ہو. یقین جانیں کہ اسی معاشرے اور اسی ملک میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو مثبت ہے، جسکی تعریف نہ کرکے اور جسے موضوع نہ بناکر ہم ظلم کرتے ہیں. لیکن ہمارے قلم توصیف کرتے ہوئے ٹوٹنے لگتے ہیں، ہماری زبان اس کی تعریف سے دانستہ اجتناب کرتی ہے. اللہ رب العزت نے بھی اپنے بندوں کو جنت اور جہنم دونوں بیان کئے ہیں مگر لگتا ہے ہم صرف جہنم دیکھنا اور دیکھانا چاہتے ہیں. ہماری فوج جب دنیا بھر کی فوجوں میں گولڈ مڈل لیتی ہےتو ہم تعریف کی بجائے ٧١ کی شکست بیان کرنے لگتے ہیں، جب دنیا بھر میں ہماری انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو اول درجہ دیا جاتا ہے تو توصیف کی بجائے ہمیں ان کی دوسری ناکامیاں نظر آنے لگتی ہیں، ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بنتے ہیں تو فخر کی بجائے عبدالقدیر خان کو چوری کا طعنہ دینا شروع ہوجاتے ہیں، ہم میزائل، ٹینک، جہاز، آبدوز سب بنانے لگے ہیں تو خوشی کی بجائے ہمیں جرنیلوں کی کرپشن دکھائی دیتی ہے، ہمارے طالبعلم اپنی ایجادات پر دنیا بھر میں انعامات حاصل کرتے ہیں مگر ہماری گفتگو اور خبروں میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے، ہمارے کھلاڑی کرکٹ، ہاکی، اسکواش، کبڈی، اسنوکر، باکسنگ، باڈی بلڈنگ سمیت بیشمار کھیلوں میں دنیا بھر میں چیمپین بنتے ہیں مگر ہمارا سارا زور ان کی خامیاں ڈھونڈھنے میں ہی لگ جاتا ہے. ہمارا ملک بہترین ادیب اورشاعروں سے مالامال ہے مگر ہم انہیں سننے کو تیار نہیں ہوتے، ہماری اسی سرزمین پر جید علماء اور محققین زندہ ہیں مگر ہم کچھ رنگ برنگے نیم مولویوں کی خرافات کو اپنی گفتگو کا مرکز بنالیتے ہیں، ہمارا شمار صدقہ و خیرات کرنے والے صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے مگر ہم ان لٹیروں کا ذکر کرتے ہیں جو مذہب کی آڑ میں گھناؤنا دھندہ کرتے ہیں. غرض ہمیں مایوسی پھیلانے کی لت سی لگ گئی ہے. ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ہم میں کچھ خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں.

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

میں پچھلے تیرہ برس سے برطانیہ میں مقیم ہوں جو بجا طور پر ترقی اور انصاف کے حوالے سے پوری دنیا میں مثالی ملک مانا جاتا ہے. میں آپ کو سچائی سے بتاتا ہوں کہ ان کی تمام تر خوبیوں کے باوجود ان میں بیشمار سنجیدہ اور بہت بڑے بڑے مسائل موجود ہیں. یہ اس پر بات کرتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں مگر ہماری طرح واویلا نہیں کرتے رہتے. اس کے برعکس وہ چھوٹی سے چھوٹی مثبت بات کو بھی کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کرتے ہیں. وگرنہ ان کے سیاستدان بھی ڈیوڈ کیمرون  سمیت اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، ان کے پادری بھی بچوں سے زیادتی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں، ان کے ہاں بھی روزانہ عورتوں کو ریپ کیا جاتا ہے، ان کے اسکولوں میں مہلک نشہ آور ڈرگز باآسانی ملتی ہیں، ان کے جرنلسٹ بھی اکثر پیسہ کھا کر تعریف و تنقید کرتے ہیں، ان کے فوجی بھی طرح طرح کی گندگیاں اور قانون شکنیاں کرتے ہیں، ان کے فٹبال مداحوں پر دیگر ممالک میں ‘ہولی گین’ یعنی فسادی قرار دے کر پابندی لگا دی جاتی ہے، ان کے ہاں بھی بہت سے کالج یونیورسٹیز جعلی ڈگریاں بنادیتی ہیں، ان کے ہاں بھی دنیا بھر سے ‘ہیومن ٹریفکنگ’ کے ذریعے جنسی دھندھے کروائے جاتے ہیں…… کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شدت میں کمی ہوسکتی ہے مگر ہر طرح کے خطرناک جرائم اور مسائل یہاں بھی موجود ہیں. یہ ان پر بات ضرور کرتے ہیں مگر اس کا تناسب مثبت باتوں کے ذکر کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے. یہ جانتے ہیں کہ منفی باتوں کا پرچار مزید منفیت کو ہی جنم دے سکتا ہے. مگر چلیں یہ تو پھر دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے. آپ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں. کون سا جرم اور مسلہ  ان کے یہاں آپ جیسا یا آپ سے زیادہ نہیں ہے؟ کرپشن ان کے اندر ہے، رشوت ان کے ہاں ہے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ اسی ملک میں بنایا جاتا ہے مگر یہ اس کے باوجود پاکستان کے مقابلے میں مثبت باتوں کا ذکر کہیں زیادہ کرتے ہیں. اپنی پولیس کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈرامے، فلمیں بناتے ہیں. ہندو مسلم فسادات کی بدترین مثالیں رکھنے کے باوجود، سکھوں کے بد ترین قتل عام کے باوجود یہ خود کو دنیا بھر میں برداشت کا نمونہ بنا کرپیش کرنے میں کامیاب ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ان کے مسائل ہم سے چھوٹے ہیں یا ان کے ادارے، فوج، پولیس یا سیاستدان کرپشن میں ملوث نہیں. مگر وہ جہاں ان پر کڑی تنقید کرتے ہیں وہاں زور و شور سے ان کے مثبت پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں. ہمیں اسی تنقید و تعریف کے توازن کو سمجھنا ہوگا. مسائل کا رونا اور اخلاص کا ڈھونگ کرنے کی بجائے مجھے اور آپ کو آگے بڑھ کر اپنا اپنا مثبت کردار نبھانا ہے. یاد رکھیں

موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے

افسوس ہے ان اذہان پر جو قیام پاکستان کو ایک غلطی سمجھتے ہیں. افسوس ہے ان افراد پر جو پاکستانی ہو کر پاکستان کو کوستے رہتے ہیں. افسوس ہے ان کھوکھلے اشخاص پر جو اپنے گھر، کاروبار، پیسے، گاڑی تک سے تو ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں مگر اگر کوئی وطن سے محبت کی بات کرے تو انکے پیٹ میں مذہبی مروڑ اٹھنے لگتا ہے. وطن پرستی غلط ہے مگر اپنے آبائی وطن سے محبت انسان کا فطری تقاضہ ہے. رسول پاک ( ص) بھی مکّہ سے ہجرت کے وقت بھیگی آنکھوں سے اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں. ہم میں سے ہر ایک وطن عزیز پاکستان کی بگڑتی صورت سے واقف ہے. اس وقت اس ملک پر تنقید کرنا اور اسکے قیام پر انگلی اٹھانا نہایت آسان ہے. آپ مجھے جذباتی احمق کہئے یا کم اندیش .. مگر یاد رکھیے انشاللہ یہی وہ ملک ہوگا جو اسلام کی قیادت بنے گا.

مانا کے میرے دیس میں فساد ہی فساد ہیں

مانا کے دشمن وطن ہی آج کم سواد ہیں

مگر کتاب جہل میں خرد کا باب آئے گا

ایک انقلاب آ چکا ایک انقلاب آئے گا

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے .. وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

About عظیم الرحمٰن عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *