Home / شمارہ دسمبر 2017 / جلدی جلدی نگلنا، جلدی جلدی اُگلنا

جلدی جلدی نگلنا، جلدی جلدی اُگلنا

 

جو  لوگ فیس بک obsession کا شکار ہیں، اگر وہ اپنی حالت پر غور کریں تو محسوس ہو گا جیسے قرب و جوار میں  جو بات بھی احاطہِ ِ نگاہ ہوتی،یا چلتے پھرتے کوئی خیال  دل و دماغ پر flash ہوتا ، یا  ہمیں کچھ ریڈنگ کرنے کی توفیق  جب جب میسّر آتی ہے،  تو ساتھ میں اوّلین خیال اسے سوشل میڈیا پر جا کر انڈیل دینے کا بھی  نہ صرف وارد ہوتا،  بلکہ جسم و جاں پر چھا جاتا ہے۔یہ ایک عجیب    poor نفسیات ڈویلیپ ہوئی ہے  جو کسی احساس، یا جذبہ و  خیال کو دُروں میں اُتر کر اسے  حرزِ جاں بننے ، وہاں مضبوطی سے جمنے اور نتیجتاً عمل میں ڈھلنے   کی راہ میں  بُری طرح  حائل  ہو چکی۔ اِس  بھڑکیلی  ہوس  کا انجام یہ ہے کہ بندہ نرا لفظوں کا ڈھیر بن کر رہ  گیاہے، سطحی سا،  ایک بے رُوح سی لاش   اور بس!

کچھ سوال  خود سے  پوچھنا ضروری ہیں:

کیا ہم اپنے اہلِ خانہ اور بچوں اور خاندان بارے اپنی ذمّہ داریوں سے بہ خوبی عہدہ برآ ہورہے ہیں؟

ہم اپنی کمٹ منٹس میں کیسے ہیں؟ کچّے یا پکّے؟

ایک سال میں کتنی نئی کتابیں پڑھ لیا کرتےہیں؟

کیا کتاب بینی کے ذریعے میسّر آتا مطالعہ  ہمارا مستقل شیوہ ہے؟

یا بس بلاگ پوسٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس پر ہی گزارا ہے؟

یاد رہے، بِل گیٹس ایسا مصروف انسان بھی ہر روز  کچھ وقت کتاب بینی کی نذر کیا کرتا ہے، اور انٹر نیٹ سے دور رہتا ہے۔ نیز، جن ملکوں میں ٹیکنالوجی کا ہم سے زیادہ راج ہے، وہاں آج  بھی بُک ریڈنگ کلچر مضبوط و توانا ہے۔ ہر سال ہزاروں نئی  کتب چھپتی اور پڑھی جاتی ہیں۔

ہم مسلمان ہیں، تو کیا ہم نماز باقاعدگی سے پڑھتے ہیں؟

ہم میں سے کتنے ہیں جو باترجمہ تلاوتِ قرآن  کا اہتمام کرتے ہیں؟

کتنے ہیں جو اپنے موجود مقام سے آگے بڑھنے، کچھ نیا سیکھنے،  علمی اور معاشی اعتبار سے ترقی کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں؟ پچھلے دس برسوں میں ایسی کوشش کا گراف کیا رہا؟

اور ایسے ہی بہت سے  سوالات خود سے کیے جانے چاہیے۔

یہ ایک آئینہ ہے جس میں سب لوگ اپنی اپنی صورت دیکھ سکتے ہیں، تا کہ اصلاحِ احوال میسّر آئے۔ اگر میں  خود اپنی انفرادی سطح پر  تھوڑا بلند ہو کر پہلے سے بہتر ہونے کی  زحمت قبول کرنے سے انکاری ہوں ،تو حالات اور حکمرانوں کو کوسنا چہ معنی دارد؟ اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں صورتحال میں تبدیلی کے امکانات بس خارج میں تلاش کرنے بیٹھا ہوں۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ خارج میں  از خود تبدیلی وقوع ہونے کا یہ معجزہ کسی طور ظہور ہو بھی گیا تو انفرادی سطح پر تیار ی نہ ہونے کی صورت میں اُس سے استفادہ نہیں کر پاؤں گا۔یعنی: جلوہِ طُور تو موجود ہے، موسٰی ہی نہیں! یعنی  ایک خوبصورت میدان تو میسّر ہے،  اُس پر بگٹٹ بھاگنے کی استطاعت ہی نہیں۔ یعنی گاڑی تو دستیاب ہے، اُسے چلانے کا ہنر ہی نہیں۔ یعنی جرمنی  یا امریکہ کا ویزہ تو ہاتھ آگیا، وہاں  جاکر   cut-throat competitionمیں غرقاب اُس competent world  کا حصہ بن جانے، اپنی لیاقت کا لوہا منوانے کی سکت ہی نہیں۔   

عزیزانِ من ،  مخالف سیاسی جماعت کے “کرپٹ لوگوں” پر دو چار جملے یا پوسٹیں اچھال کر خود  انفرادی سطح پر ایک انچ برابر بھی بہتری کا اہتمام نہ کرنے کا رویّہ و  ضد خود ہی کرپٹ ہونا نہ ہو!

About ہمایوں مجاہد تاڑڑ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *