Home / شمارہ جون 2018 / حادثہ اور خیر

حادثہ اور خیر

تحریر:ام حبیبہ 

رمضان میں لوگ عبادات کے ضمن میں اتنا کچھ بہترین اور گرانقدر ہر سال کرنے کوبتاتے اور شیئرکرتے ہیں کہ دل کرتا پورا سال رمضان رہے۔پرساتھ مجھے پہلی بار احساس ہوا یہ روح کی تطہیر کا عمل ہمیں ایک نیا انسان بننے  کی بنیادرکھنےمیں بہت مددگار ہوگا۔انسان عبادات کی بدولت ایک زرخیز زمین کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ بہت مناسب وقت ہوتا کہ سوچ کے زخموں کی بھی تطہیر پر کام کیا جائےتاکہ پورا سال ہم صحتمند سوچ کا فائدہ اٹھا سکیں۔ ایک نقطہ نظر جسے رمضان میں قرآن کے ترجمہ اور تفسیر میں جگہ جگہ پائیں گے۔

حادثہ ہماری پلاننگ میں کہیں نہیں ہوتا،پھر کیسے ہوتا ہے؟رب کی مرضی سے ، جو قادرِمطلق ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔۔ پھر”حادثہ” تونہ ہوا نا؟؟؟؟یہ تو Planned واقعہ ہوا جو Master planner کا فیصلہ ہے۔ یہاں سے بنیادی نقطہ سمجھ لیں۔ کوئی واقعہ کتنا ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہو،یہ رب کی مرضی ہے۔اس میں خیر ہے۔ خودبخود کچھ نہیں ہوتا ، سب اللہ تعالی کی پلاننگ سے ہوتا ہے۔  یہ سوچنا شروع کر دیں آہستہ آہستہ سکون آپ کے دل میں آجائے گا۔ کچھ ہی عرصہ میں دماغ حادثہ سے متعلق خیر کا پورا سیاق وسباق آپ کے سامنےکھول کر رکھ دے گا- یہ سوچ کا ایک نفسیاتی پہلو ہے جب تک آپ اسےحادثہ سمجھتے رہیں گے،وہ تکلیف دیتا رہے گا جہاں آپ کی سوچ نتائج پر منتقل ہوئی صورتحال تبدیل ہوجاتی ہے۔ ایک پتا بھی ربّ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا تو پھر وہ حادثہ جو ہماری سوچ اور وہم وگمان میں بھی نہیں تھا “ہوا۔” اس مالک کے حکم سے ہوا ہے جو پورا نظام کائنات چلا رہا ہے تو پھر یہ حادثہ بھی اس کی Perfect planning کا حصہ ہے۔

حادثہ میں بظاہر کوئی خیر نظر نہیں آرہی ہوتی لیکن اگر ہم  یقین رکھیں،  یہ ہماری پلاننگ کا وہ missing حصہ ہے جس میں خیر ہے تو حادثات کی تکلیف کم ہوجاتی ہے ،اور ہم وہ سبق جلد سیکھ لیں گے جو اللہ اس حادثہ کے در پردہ ہمیں سیکھانا چاہتا ہے۔حادثات اتنے برے نہیں ہوتے جتنے ان سے متعلق ہمارے خیالات برے ہوتے ہیں۔

درحقیقت حادثہ آپریشن کی طرح ہوتا جس سے ہمارے باطن کے ناسوروں کا علاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کتنا ہی مہنگا اور پیچیدہ آپریشن تجویز کرے ہم راضی ہو جاتے ہیں ۔ ہر تکليف برداشت کرتے ہیں کیونکہ ہميں یقين ہوتا کہ اس تکلیف سے گزرے بغیر راحت و صحت ممکن نہیں ہے۔ یہی فلسفہ حکمت اگر ہم حادثات کے دوران مدنظر رکھیں تو واللہ!!! ہم ان گنت دوسری تکالیف سے بچ جائیں گے جن کو بےصبری میں ہم خود گلے کا ہار بنا لیتے ہیں۔  عام حالات میں ہم کوئی معمولی تبدیلی بھی اپنی ذات،  عادات اور مزاج میں آسانی سے نہیں برداشت کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک چھوٹا سا حادثہ بھی آن واحد میں انسان کی پوری شخصیت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حادثات اور مصائب کا مقابلہ کرتے ہوئے ہم سوچ اورگمان سے بڑھ کرقابلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔خودشناسی کے نئے در ہم پر کھلتے ہیں ۔یہی وہ خیر ہوتی جو تکلیف کے پردہ میں آتی ہے۔

قوانین قدرت کے تحت جب تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے تو واقعات ،حادثات کی صورت میں ہماری زندگيوں میں رونما ہوتے ہیں۔اگر ہم اس تبدیلی کے نتیجے پر نظر رکھیں تو حادثات اور صدمات سے نکلنے میں آسانی ہو گی اور زندگی میں دکھ کم محسوس ہونگے۔احساس زیاں کسی بھی حادثہ کے ساتھ ایک فطری احساس ہے پر جب ہم مسلسل حادثات کے نقصانات کو روتے چلے جائیں گے تو گروتھ کے عمل سے محروم رہ جائیں گے۔

کسی پیارے کی دائمی جدائی ہمیں ذمہ دار بنا جاتی ہے، کسی مالی اتارچڑھاؤ میں مخلص لوگوں کی شناخت ہوتی،رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کئی انجان راستوں سے ہمارے فہم وادارک میں وسعت پیدا کرتی ہے،دھوکہ کیسا بھی ہو انسان محتاط ہونا سیکھ لیتا ہےاور پرکھنے کا ہنر آجاتا ہے ،بیماریاں صبر ،اجر اور رب پر توکل سیکھاتی ہیں ۔ معاملات کی حکمت سمجھنے میں بصیرت درکار ہوتی ہے۔ حادثہ وہ تعلیم اور تجربہ دے کر جاتا جس کا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کرسکتی۔

ایک پختہ زوایہ نگاہ کو اس رمضان سے عمل میں لائیں گے کہ کائنات کا ہر واقعہ میرے حق میں خیر لئے ہوئے ہے انشاءاللہ انداز تفکر کی یہ تبدیلی آپ کی زندگی کو حقیقی سکون سے روشناس کرائے گی۔

About ام حبیبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *