Home / شمارہ فروری 2018 / حالات کے الٹ پھیر کی حکمت

حالات کے الٹ پھیر کی حکمت

حالات کے الٹ پھیر کی حکمت

تحریر:عثمان حیدر

ہم سب کو اچھے یا برے حالات پیش آتے رہتے ہیں۔ اس معاملے میں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان حالات کے پیش آنے میں صرف وہ اسباب ہی کار فرما نہیں ہوتے جو انسان اختیار کرتا ہے بلکہ قدرت کا فیصلہ بھی یقینا شامل ہوتا ہے —

بعض دفعہ ہم حالات کو بہتر رکھنے کے لیے بڑی منصوبہ بندی کرتے ہیں – پھر محنت سے اسے عملی شکل میں بھی ڈھال لیتے ہیں – لیکن معاملات اور حالات درست ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں – اس کی وجہ یہی ہے کہ قدرت امتحان لے رہی ہوتی ہے یا کسی اہم وقت کے لیے آپ کو تیار کر رہی ہوتی ہے۔

اس بات کو آدمی سامنے رکھے تو ایک سوال فطری طور پر اس کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جب میری کوشش سے حالات درست ہونے ہی نہیں ہیں تو میں خوامخواہ میں محنت کیوں کروں ؟؟

اس کا جواب یہ ہے کہ فیصلہ تو قدرت کے ہاتھ ہی میں ہے۔ ہاں ! اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ قدرت کسی اصول کے تحت فیصلہ کرتی ہے یا بغیر کسی اصول کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے – تو عرض یہ ہے کہ قدرت اصول کے تحت ہی فیصلہ کرتی ہے  اور اصول یہ ہے کہ جو جائز اور صحیح کوشش کرتا ہے وہ منزل کو پا لیتا ہے ۔ اگر آپ نے حالات کی درستی کے لیے منصوبہ بندی ٹھیک کی ہے اور اسے عملی صورت میں ڈھالنے کے لیے پوری کوشش کی ہے تو اصول کے تحت حالات درست رہنے چاہیے۔

لیکن اگر حالات درست نہیں ہو رہے تب بھی یہ نہیں ہے کہ قدرت اپنے اصول سے پھر گئی ہے بلکہ قدرت مزید آپ پر مہربان ہوگئی ہے – کئی بار دیکھا ہے کہ ہم جن حالات اور معاملات کو اپنے حق میں بہتر سمجھ رہے ہوتے ہیں آنے والے وقتوں میں وہی وبال جان ہوتے ہیں – جن حالات اور معاملات کو عذاب سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ آنے والے وقتوں میں مسرت و شادمانی کا باعث ہوتے ہیں – قدرت وقتی آزمائش ڈال کر بس یہ جائزہ لے رہی ہوتی ہے کہ بندہ صبر کی صفت سے مزین ہے یا نہیں ،اللہ تعالی پر اسے بھروسہ کس قدر ہے اور اس حال میں شکوہ کناں ہے یا شکر کا دامن تھامے ہوئے ہے – اس لیے ہمیں چاہیے کہ حالات

کو اپنے حق میں بہتر کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں – ان شاءاللہ وہ درست ہو جائیں گے۔ لیکن اگر وہ مزید بگڑ جاتے ہیں تو حوصلہ رکھیے اللہ تعالی کو آپ کے حق میں کوئی بڑی خیر منظور ہے جو ان شاءاللہ سارے دکھ مٹا دے گی اور تکالیف کی کڑواہٹ ختم کرکے خوشی کے جام پلائے گی۔

About عثمان حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *