Home / شمارہ دسمبر 2017 / حسد کا حصار اور چار گر کی باتیں

حسد کا حصار اور چار گر کی باتیں

 بات وطن عزیز کی ہو یا یا دین اسلام کی، ایک مرض ہم میں کوٹ کوٹ کر بھراہواہے  اور وہ ہے حسد ۔ حسد  کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی ترقی سے جلنا اور اس کی نعمت چھن جانے کی تمنا کرکے اس نعمت کو خود پانے کی خواہش کرنا۔ یا کم از کم اس شخص سے تو نعمت چھن جانے کی تمنا کرنا۔ 

حسد ایک ایسی بیماری ہے جو ہمیں اندر اندر سے کھائے جارہی ہے۔ اللہ تعالی ٰنے ہمیں اس بیماری سے پناہ مانگنے کے لئے کہا ہے اور ہم بجائے پناہ مانگنے کے اس میں مزید دھنستے چلے جارہے ہیں ۔ ہمیں ہر وقت یہ گلہ رہتا ہے کہ فلاں  شخص کو اتنی دولت کیوں مل گئی؟ فلاں  کے باپ دادا تو انگریزوں کے کتے نہلایا کرتے تھے  وہ آج ما ل دار کیوں ہے؟ فلاں شخص ہمارے گاؤں کےنائی کا بیٹا ہے وہ آج کروڑوں میں کیسے کھیل رہا ہے؟ہو نہ ہو اور ضرور ایسا ہی ہے کہ انہوں نے یہ دولت حرام ذریعے سے کمائی ہے، لوگوں کو لوٹا ہے، غریب کا گلا کاٹ کر انہوں نے ضرور یہ دولت کمائی ہوگی!اور ہم اسی بیماری میں جوان ہوتے ہیں اور اسی بیماری میں بوڑھے ہوکر مرجاتے ہیں۔ لیکن حسد کے اس حصار سے باہر نہیں نکل پاتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کسی کی ٹوہ میں مت لگو ،لیکن کیا کریں ہم مجبور ہیں یہ کام تو ہم نے ضرور کرنا ہے ۔ کسی کے پاس دولت آتی دیکھ لیں تو ہمیں بے چینی محسوس ہوتی ہے، تجسس میں پڑجاتے ہیں کہ کہیں اس نے ڈاکہ تو نہیں مارا، غبن تو نہیں کیا ، سرکاری خزانے میں خرد برد تو نہیں کی!جب تجسس بڑھتا ہے تو دوسروں کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں  اور مل بیٹھ کر ان وجوہات کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جن کے جاننے کے ہم مکلف ہی نہیں ہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ چہ مگوئیاں ، چغلیاں، الزام تراشیاں  شیئر کی جاتی ہیں ۔ اس نے یہ کیا ہوگا اور اس نے یہ کیا ہوگا۔ ایسے میں کوئی شخص آکر اگر یہ کہ دے کہ جناب میں نے اس شخص کے پاس اتنی دولت آنے کا راز معلوم کرلیا ہے۔ ضرور اس نے سرکاری خزانے میں خرد برد کی ہے۔ تو ہما شما کہنا شروع کردیتے ہیں کہ میں یوں نہ کہتا تھا اور میں ووں نہ کہتا تھا۔ کوئی تحقیق کرتا ہی نہیں  اور پھر ہم مصیبت در مصیبت پھنستے چلے جاتے ہیں۔

کیا ان باتوں سے اس کائنات کے رب نے ہمیں پہلے سے آگا ہ نہیں کیا تھا کہ دیکھناحسد مت کرنا، کسی کا مذاق نہ اڑانا،کسی دوسرے شخص کے بارے میں تجسس میں مت پڑنا ، کسی کی چغلی مت کھانا، کسی پر بلا وجہ شک مت کرنا، کسی پر الزام مت لگانا، اگر تمہارے پاس کوئی خبر آئے تو پہلے اس کی تحقیق کر لینا ایسا نہ ہو کہ تم کسی بڑی مصیبت میں گرفتا ہو جاؤ ۔ ہم نے یہ باتیں اس خدائے بزرگ و برتر کی نہیں مانیں بلکہ ان کا الٹ کیا ۔ اور آج ایک ایسی مصیبت میں بحیثیت مجموعی گرفتا ہو چکے ہیں کہ جس سے باہر آنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

ہم نے دوسروں پر کیا کیا الزامات نہیں لگائےاور ثبوتوں کے لئے کہا گیا کہ ملزم خود لائے۔ کسی نے ایک بھرے جلسے کے دوران اگر مقرر کے کان میں چپکے سے کوئی بات کردی تو مقرر صاحب فورًا بول پڑے ،سنو ابھی ابھی یہ خبر آئی ہے۔ نہ تصدیق نہ تحقیق۔ جھٹ سے الزام دھر دیا۔ بد گمانی کے ہم شکار ہوئے، حوا کی بیٹی کو سرے بازار ہم نے نچوایا، ہم نے اپنے ہی لوگوں کا کس حد تک مذاق اڑایا کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے۔  سب کی تہ میں حسد کی آگ سلگ  رہی ہے، یہ مجھ سے آگے کیوں نکل گیا اور میں اس سے پیچھے کیوں رہ گیا۔ کاش ہم سورہ الحجرات  کے پہلےرکوع کو غور سے پڑھ لیں اس نیت اور یقین کے ساتھ کہ یہی کتاب ہدایت ہے۔ اسی پر عمل کرنے سے ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔اللہ ہمیں اپنی ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین

اب اگر ہم موجودہ صورت حال  کی بات کریں تو سیاست ہو یا کیا کوئی اور میدان،چار گر کی  اصولی باتوں کو ہم  پکڑ لیں تو کسی غلطی کا امکان کم ہے:

  1. سب سے پہلے تو ہمیں کسی بھی شخصیت کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے اور اس کی مطلق حمایت یا مطلق مخالفت سے گریز کرنا چاہیے ۔ کیونکہ نہ کوئی فرشتہ ہوتا ہے اور نہ کوئی شیطان۔
  2. ہر حال میں عدل و انصاف کا دامن تھامنا چاہیے جیسا کہ قرآن میں آتا ہے کہ کسی قسم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ اکسائے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو کیونکہ یہی تقوی کے قریب تر ہے۔
  3. کسی بھی قسم کی تبدیلی پر بات چیت کرتے وقت اخلاقیات کو ہر حال میں تھامے رکھنا ہے۔
  4. اپنی حدود اور دائرہ کار کو سمجھنا ہے ۔ یعنی جو کام اداروں کا ہے اس پر ہم تنقید تو کرسکتے ہیں لیکن ان کے کام نہ کرنے پر ان کام کام خود کرنے کی کوشش کرنا  بعض اوقات ایک مشکل یا مناسب  کام معلوم ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات یہ فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پڑوسی کا بچہ بگڑ رہا ہے اور پڑوسی اس کی اصلاح نہیں کررہا تو ہم پڑوسی کو سمجھا تو سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ بچے کو پکڑ کر خود ہی مارپیٹ شروع کردیں۔

 

 

About رانا عاشق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *