Home / شمارہ اگست 2018 / میں وقت کا سافٹ ویئر Windows حیاتِ انسانی کی

میں وقت کا سافٹ ویئر Windows حیاتِ انسانی کی

تحریر:  ہمایوں مجاہد تارڑ

زندگی میں کارفرما عوامل اور اشیا یعنی چھوٹی بڑی مخلوقات میں وقت بھی ایک مخلوق ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا سافٹ ویئر  ہے جسے خدا مختلف مقامات، ادوار اور سیچوئیشنز میں مختلف انداز میں برت رہا ہے۔رواں ساعت  زندگی کے جس phase  یا مرحلہ میں ہم لوگ  پائے جاتے ہیں اسے عالمِ فانی کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں وقت کی رفتار نسبتاً تیز  ترہے۔ جیسے آپ تین گھنٹے کی ہالی ووڈ فلم کو fast motion پر سیٹ کر کے چلا دیں تو وہ 10 منٹ یا اس سے بھی کم وقت میں ختم ہو جائے گی۔  تاہم، اس حقیقی زندگی میں بھی بعض سیچوئیشنز میں وقت کو slow motion پر سیٹ کر دیا جاتا ہے، جیسے کرکٹ میں تھرڈ ایمپائر کا فیصلہ حاصل کرنے کو میچ کی ریکارڈنگ  کا وہ حصہ سلو موشن پر چلا یا جاتا ہے۔ اس نسبت سےایک واقعہ کتابِ مقدّس کی سورہ بقرہ میں اسی لیے مذکور ہوا ہے کہ انسان وقت سے متعلق بحث کو اس سادہ سی مثال سے سمجھ لے۔ اس وقوعے میں وقت کے سافٹ ویئر کو تین جگہوں پر مختلف انداز میں فنکشن کرایا گیا :

“مثال کے طور پر اس شخص کو دیکھو جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔ اُس نے کہا ’’یہ آبادی جو ہلاک ہوچکی ہے اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟‘‘ اِس پر اللہ نے اس کی رُوح قبض کرلی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا ’’بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘ ‘ اس نے کہا ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا‘‘ فرمایا ’’تم پر سو سال اسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا۔ دوسری طرف اپنے گدھے کو بھی دیکھو ( کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے ) اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو کس طرح اُٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔‘‘

جب حقیقت اس کے سامنے بالکل عیاں ہوگئی تو اس نے کہا ’’ میں جان گیا کہ اللہ ہر چیز ہر قادر ہے ‘‘ (سورہ بقرہ آیت 259) ۔ دیکھیں، یہاں وقت کے سافٹ ویئر نےکھانے پر الگ انداز میں فنکشن کیا۔ گویا وقت کو منجمد یا freeze کر دیا گیا۔اسے Hot Pot Set بنا دیا گیا جس میں اس کی گرمائش اور تازگی برقرار رہی جیسے اس پر ایک ساعت بھی نہ گذری ہو۔ گدھے پر وہ نارمل رفتار سے گذرا۔ گدھا بیچارا چند روز یا چند ہفتے زندہ رہ سکا ہو گا۔ جبکہ خود ان صاحب پر وقت اِس انداز میں گذرا جیسے بیداری کا طے شدہ وقت تو صبح 6 بجے تھا (روزِ جزا)، تاہم ، الارم قبل از وقت ہی بج اُٹھا جیسے الارم ”غلطی” سے 4 کے ہندسے پر set کر دیا گیا ہو۔ اسی طرح، اصحابِ کہف کو دیکھ لیں جن کی چند گھنٹوں کی نیند کے عرصہ کو کئی عشروں تک کھینچ کر slow motion پر سیٹ کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ نیند 30 عشروں یعنی 300 سال میں مکمل ہوئی، جس کے بعد وہ یوں اٹھ بیٹھے جیسے بس سوئے پڑے تھے۔ تو گویا یہ وقت بھی ایک سافٹ ویئر نما مخلوق ہے جسے خالق جب چاہے سکیڑ دے، جب چاہے پھیلا دے، جب چاہے منجمد کردے۔

وقت کی رفتارخلائے بسیط میں ہماری اس دنیا کی نسبتاً مختلف ہے۔ اب یہ ایک روزِ روشن ایسی عیاں حقیقت ہے ۔ خلانوردوں سے کوئی پوچھے تو وہ بتائیں گے وہاں ذائقے، رنگ، وزن، احساس اور رفتارِ وقت ایسی چیزوں کا یا تو کوئی تصوّر ہی نہیں، یا کم از کم ہماری دنیا سے یکسر مختلف ہے ـــــ ہماری دنیا جسے گیسوں کے دبیز غلاف تلے، ایک خاص پریشر میں رکھا گیا ہے، اور نیچے سے کشش ثقل کی بیڑیاں پہنائی گئی ہیں۔  چاند پر اس نوع کی کشش ثقل نہیں ہے۔ 90 کلو گرام وزن رکھنے والا انسان وہاں ایک غبارے جتنا وزن رکھتا ہے۔ چاند کی سطح پر حضرت انسان دو چار ڈگ بھرے تو آدھے لاہور جتنا فاصلہ طے کر جائے۔ تو طے ہوا کہ وقت ، ذائقہ، احساس وغیرہ کا چلن زمین کی حدوں سے پار ہوتے ہی بدل جاتا ہے۔ جبھی اشارہ دیا گیا کہ اخروی زندگی میں ایک دن یہاں کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔

اشفاق احمد مرحوم کی ڈرامہ سیریل “حیرت کدہ” کا مائی بلوری والا وہ ناقابلِ فراموش ڈرامہ تو سب کو یاد ہو گا جس میں ایک نوجوان کی مائی بلوری سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ ملاقات ایک پرانے قبرستان کے منظر میں دکھائی گئی۔ پھر، مائی بلوری یکایک فوت ہو کر غائب ہو جاتی ہے، تو وہ نوجوان اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک خیمے کے قریب پہنچتا ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی ششدر رہ جاتا ہے۔ دکھایا یہ جاتا ہے کہ مائی بلوری اب عالمِ برزخ یعنی waiting lounge یا انتظار گاہ میں ہے۔ جہاں وہ شانت چہرے کیساتھ ایک صاف و شفاف چبوترے پر سفید لباس میں ملبوس، ہاتھ میں تسبیح پکڑے بیٹھی ہے۔

نوجوان کچھ دیر اس سے باتیں کرتا ہے۔ تب وہ اسے جلد واپس لوٹنے کا کہتی ہے کہ “دیر ہو گئی؛ تمہاری دنیا کی ساعتیں بہت سُبک رفتار ہیں؛ اس اثنا میں تمہاری دنیا بہت آگے جا چکی ہو گی۔”

وہ پلٹ آتا ہے، اور یہ دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ اس کے رشتہ دار، دوست احباب میں سے بیشتر یا تو فوت ہو چکے، یا انتہائی ضعیف ہو چکے ہیں۔ یعنی تین گھنٹے کی ہالی ووڈ فلم فاسٹ موشن پر چل کر بہت آگے جا چکی ہوتی ہے۔

بالکل اسی طرح، کائنات میں نصب کردہ زندگی کی Windows  میں موجود  Time والا سافٹ ویئر مختلف جگہوں اور سیچویشنز میں خالق مختلف انداز میں استعمال کرتا رہا ہے۔

یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ انسانی زندگی میں وقت کی گزران کو آپ ایک فرد کے احساس کی سطح پر دیکھیں تو جب بھی اس کا چلن عجیب سا ہے۔ اِس میں بھی ورائٹی ہے۔ مثلاً:

 انتظار کے لمحات بڑے طویل ، اور اعصاب شکن ہوتے ہیں۔

خوشی کا وقت تیزی سے بیت جاتا ، جبکہ مصیبت کی گھڑی ٹھہر سی جاتی ہے۔

من پسند ہستی سے ملاقات کے سمے بھی سبک رفتاری سے گزرتے ہیں، جبکہ اس سے دُوری اور جدائی کے لمحات گویا صدیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔

حضرت اقبالؒ نے وقت کے اس چلن پر خوبصورت “کامنٹ” کیا ہے:

؏ مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں

مگر  گھڑیاں  جدائی  کی گزرتی  ہیں  مہینوں  میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About ہمایوں مجاہد تاڑڑ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *