Home / علمی مضامین / خاموش کلام

خاموش کلام

خاموشی ایک گہرا رازہے ۔ زندگی کا سفر خاموشی سے وقت کی منازل طے کرتاجاتا ہے۔ ذرا غور کریں تو نظر آتا ہے کہ تمام مظاہر فطرت خاموشی کا لبادہ اوڑھے اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف عمل ہیں۔  زمین پر ہر سو بکھرے جلوے اور آسمان پر پھیلے کرشمے سب خاموش ہیں۔ صحراؤں کی وسعت ، پہاڑوں کی ہیبت ، سمندروں کی گہرائی،نباتات ارضی ،سورج، چاند ، ستارے کہکشائیں سب خاموش ہیں۔فرشتے، جنات اور نجانے کتنی اور مخلوقات ہیں جو خاموش ہیں۔

خالق کائنات خود خاموش ہے۔وہ ذات جس نے خاموشی کو تخلیق کیا وہ خود خاموش ہے۔ وہ ظاہر بھی ہے پوشیدہ بھی لیکن خاموش ہے۔ سب سنتا ہے، جانتا ہے، دیکھتا ہے پھر بھی خاموش ہے۔ کوئی اس کو  مانے یا  نہ  مانے، عبادت کرے یا بغاوت کرے ،وہ خاموش ہے۔ کوئی فرمانبرداری کرے یا نافرمانی، وہ خاموش ہے۔ کوئی کفر بکے، جھوٹ بولے ،فتنے برپا کرے، اس کی شان میں گستاخیوں کی انتہا پر پہنچ جائے ،وہ پھر بھی خاموش ہے۔ اس کی ذات پاک ہے۔ اس بات سے پاک ہے کہ کوئی اس کی عظمت کے سامنے جھکتا ہے یا نہیں۔

ہم انسانوں کے لیے اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ایک پیغام بھیجا، مگر اس شکل میں کہ وہ بھی مصحف میں خاموش ہے۔ اگرچہ یہ بھی کلام کرتا ہے مگرصر ف اپنے پڑھنے والوں سے، غورو فکر کرنے والوں سے۔ یہی خاموش کلام ہمیں ہمارے رب ذوالجلال کی پسند ناپسند سے آگاہ کرتا ہے۔انسانیت کے لیے ہدایت لیے ہوئے اس کایہ خاموش کلام اتنا ہی سچا ہے جتنا کہ وہ خود۔ اس کا وعدہ سچا، اس کی ہدایت سچی۔ نہ اس کا مثل کوئی ہے نہ اس کے کلام کا۔ یہ زندہ کلام ہے جو زندہ انسانوں کی خاطر نازل کیا گیاہے۔

اپنے خالق کا یہ پیام ہمیں کیا علم دیتا ہے؟یہ اصل علم دیتاہے ۔۔۔ حقائق کی پہچان کا علم۔۔۔ خالق و مخلوق کے رشتے کا صحیح علم۔۔۔ حقائق کی دنیا سے واقفیت کا علم۔۔۔کامل ہدایت کا علم۔۔۔ ہمیں بنانے والا خود ہم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ اس سے زیادہ کون ہمارا بھلا چاہ سکتا ہے؟ ہمارے ماں باپ، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست احباب۔۔۔ کوئی بھی تو نہیں۔ آخرت میں سب ہم سے دامن چھڑا لیں گے۔لیکن ہماری بھلائی کی خاطر جو آج ہم سے کلام کر رہا ہے اسے سنو۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہمارا زندگی کا سفر تمام ہو جائے،کوئی ناگہانی آ گھیرے، قرآن سے ہمکلام ہو کر دیکھو۔ ہم ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں۔ کیا صحیح ہے کیا غلط،کیا جائز ہے؟ کیا ممنوع ہے؟ کیا کرنا ہے؟ کیوں کرنا ہے؟ کیا ہدایت ہے؟ کیا امتحان ہے؟ یہ سب ہمیں وہ خود بتارہا ہے۔ مگر ہمیں یہ سب تب ہی معلوم ہوگا جب ہم اس کا کلام پڑھیں گے ۔

لیکن افسوس ہم اس کی طرف توجہ کرنے کو تیار ہی نہیں۔ ہمارے پاس آج قرآن کے لیے وقت نہیں ہے۔ سو بہانے ہیں، سوباتیں ہیں۔ہم بس بولتے ہیں ۔ہم نہ خاموش ہوتے ہیں نہ خاموشی سے ہمکلام ہوناجانتے ہیں۔ ہم خاموشی کے روبرو ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ خود احتسابی کا عمل تبھی سر انجام پاتا ہے جب ہم خاموشی سے غورو فکر کریں ۔ قبل اس کے کہ ہم بھی قبروں میں موجود کفِ افسوس ملنے کے مقام پر پہنچ جائیں ہمیں فرصت ملنے کا انتظار کیے بغیرآج اور ابھی سے اس سفر کا آغاز کرنا ہوگا جو ہمیں جہالت کے اندھیرے سے نکال کر روشنیوں میں لے جائے اس ہدایت کا سرچشمہ یہی ’’خاموش کلام‘‘ ہے۔

آج اس رب رحیم کی خاموشی اس کی رحمت وشفقت کا بے پایاں اظہار ہے۔ ہمیں عمل کی چھوٹ ہے مگر یاد رکھئے کہ حساب بر حق ہے۔ اس کا کلام خاموشی سے محو انتظار ہے کہ کب ہم اپنی من مانیوں میں مگن اس کی دی گئی مہلت کو نظر انداز کرنے کی روش چھوڑ کر اس کی طرف پلٹ کر آتے ہیں۔ کہیں کل کو ایسا نہ ہو کہ جب وہ اپنی خاموشی توڑ کر ہمارے حساب کا آغاز کرے تو ہمیں اس کے غضب کا سامنا کرتے ہوئے یہ سننے کو ملے:

’’اور اے مجرمو! آج کے دن الگ ہو جاؤ‘‘

اس دن ہمارے پاس کوئی عذر یا بہانہ یا جائے پناہ نہ ہوگی۔ ہم قرآن کے حقوق پورے نہ کر کے اس کاعملی ا نکار کر رہے ہیں۔ اس کے احکام سے منہ موڑ کر ہم اس کی آیتوں سے منہ پھیرنے والوں میں شامل ہیں۔ حالانکہ اللہ نے تو ہمارے لیے اپنے دین میں ’’آسانی‘‘ رکھی ہے۔ ’’من مانی‘‘ نہیں جس کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں۔ ہم پیدائشی مسلمان علم و عمل سے دور ہو کر آخرت میں نجات کے لیے جن کی شفاعت پر تکیہ کیے ہوئے ہیں وہ صادق و امین پیغمبر پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی بارگاہ خداوندی میں ہمارے خلاف مدعی کی حیثیت میں کھڑے ہوں گے۔اگر ہماری غفلت کا یہی حال رہا تو اس آیت کا اطلاق ہم پر بھی ہو سکتا ہے۔

’’اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمائے گا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرا لیا (متروک کر رکھا تھا)۔‘‘ (فرقان:30)

ہے کوئی جواب اس ذلت و رسوائی سے بھرے انجام سے بچنے کا۔۔۔؟

صرف ایک ہی راستہ ہے قدم بڑھانے میں دیر مت کریں۔ اپنے مالکِ حقیقی سے عاجزی سے دعا مانگیں کہ وہ آپ کا دل، ذہن اور روح اپنے ہدایت بھرے کلام کے لیے کھول دے اور اس کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرے کہ وہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔ ہدایت مانگیں ضرور ملے گی۔ تو پلٹ آئیے اس کلام پاک کی طرف۔۔۔ مزید تاخیر کیے بغیر۔ اس سے پہلے کہ موت کی خاموشی اپنے گھیرے میں لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش کردے۔آئیے خدا کے کلام سے ہم کلام ہونا سیکھ لیں۔

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *