Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / خصائل نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خصائل نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ترتیب:خاور رشید

ماہ رشوال اسپیشل

  1. حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو آدمی رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہے۔ (صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 264)
  2. حضرت انس بن مالک (رض) روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن جب تک چند چھوہارے نہ کھا لیتے، عیدگاہ کی طرف نہ جاتے اور مرجی بن رجاء نے عبیداللہ بن ابی بکر سے اور انہوں نے انس سے اور انس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوہارے طاق عدد میں کھاتے تھے۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 916)
  3. حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ الفطر رمضان کے بعد لوگوں پر کھجور سے ایک صاع یا جو سے ایک صاع واجب کی ہے ہر مسلمان آزاد یا غلام مرد یا عورت پر۔ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2271)
  4. حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر اور عیدالضحی کے موقع پر عیدگاہ جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ جب دوسری رکعت میں بیٹھ کر سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہوجاتے۔ لوگ بیٹھے رہتے۔ چنانچہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی کام ہوتا مثلا کہیں لشکر وغیرہ بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے بیان کردیتے ورنہ لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم ارشاد فرماتے اور تین مرتبہ فرماتے صدقہ دو چنانچہ سب سے زیادہ خواتین صدقہ دیا کرتی تھیں۔  (سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1581)
  5. حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن حضرت عائشہ (رض) کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر (رض) بھی اندر گئے اس وقت حضرت عائشہ (رض) کے پاس دو لڑکیاں ان رجزیہ اشعار کو گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث میں کہے تھے تو حضرت ابوبکر (رض)نے دو مرتبہ کہا شیطانی راگ اور آنحضرت کے قریب تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انہیں رہنے دو اے ابوبکر دیکھو ہر قوم میں خوشی کا دن ہوتا ہے اور یہ ہماری خوشی کا دن ہے۔ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1162)

 

 

 

خدا کی لاٹھی بے آواز ضرور ہے لیکن بے اثر نہیں۔ یہ ظالم کو ایسی جگہ گھیر کر مارتی ہے جہاں اس کا گمان تک نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ ظالم خاموشی سے اپنے انجام تک پہنچ جاتا ہے اور لوگ اسی دھوکے میں رہتے ہیں کہ یہ سب تو اسباب کے تحت ہوا ہے۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اسباب کے پیچھے چھپی لاٹھی کو دیکھ لیتے ہیں۔

 

 

 

 

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *