Home / شمارہ اگست 2018 / خصائل  نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خصائل  نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ترتیب:خاور رشید

اعتدال کا بیان

  • حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا وہ اس پر غالب آجائے گا، پس تم لوگ میانہ روی کرو اور (اعتدال سے) قریب رہو اور خوش ہوجاؤ  (کہ تمہیں ایسا دین ملا) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے دینی قوت حاصل کرو۔                                        (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 38)
  • حضرت انس بن مالک ﷜رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سجدوں میں اعتدال کرو اور کوئی شخص اپنی دونوں کہنیاں (زمین پر) جس طرح کہ کتا بچھا لیتا ہے نہ بچھائے۔                        (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 794)
  • حضرت ابوہریرہ ﷜ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ نے فرمایا مجھ کو بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانک لے اپنے قول و عمل میں بیانہ روی اختیار کرو اور اللہ سے قربت اختیار کرو اور صبح و شام اور رات کے آخری حصہ میں (عبادت کے لئے) نکلو اعتدال کو اختیار کرو، اعتدال کو اختیار کرو، تو تم منزل مقصود تک پہنچ جاؤ ۔ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1410)
  • حضرت جابربن سمرہ ﷜ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھتے اور پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور خطبہ دونوں چیزیں اعتدال پر ہوتیں تھیں۔                                                (سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1589)
  • حضرت ابوحمید ساعدی فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دنیا کی طلب میں اعتدال سے کام لو اس لئے کہ ہر ایک کو وہ (عہدہ یا مال) ضرور ملے گا جو اس کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

(سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 300)

  • حضرت کعب ابن عیاض ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (حق تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لئے  (کوئی نہ کوئی)  فتنہ وآزمائش ہے (جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کر کے ان کو آزمایا جاتا ہے)  چنانچہ میری امت کے لئے جو چیز فتنہ آزمائش ہے وہ مال ودولت ہے یعنی اللہ تعالیٰ میری امت کے لوگوں کو مال ودولت دے کر یہ آزمانا چاہتا ہے کہ وہ راہ مستقیم اور حد اعتدال پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔

 (مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1120)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *