Home / علمی مضامین / خصائل نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خصائل نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  1. حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ رمضان کا روزہ فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھنا چاہے تو رکھے اور جس کا جی نہ چاہے تو وہ نہ رکھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1529)
  2. حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ روزہ کیسا ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ بہتر دن ہے اسی دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی تھی، اس لئے حضرت موسیٰ نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تمہارے اعتبار سے زیادہ موسیٰ کے حقدار ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1926)
  3. حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 172)
  4. حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کیسے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی بات سے غصہ میں آگئے (یعنی اس لئے کہ یہ سوال بے موقع تھا۔ اس کو لازم تھا کہ یوں پوچھتا کہ میں روزے کیسے رکھوں؟) اور جب حضرت عمر (رض) نے آپ کو غصہ کی حالت میں دیکھا تو کہنے لگے (رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ) ہم اللہ تعالیٰ سے اس کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مانتے ہوئے راضی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غضب سے حضرت عمر (رض) اپنے اس کلام کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو آدمی ساری ساری عمر روزے رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مہینے تین دن روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا پورے ایک زمانہ کے روزے کے برابر ہے اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔  (صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 252)
  5. حضرت ابن مسعود (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال کے خرچ میں وسعت اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ سارے سال اس کے مال و زر میں وسعت عطا فرمائے گا۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا۔ (رزین) (مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 425)

About خاور رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *