Home / شمارہ دسمبر 2017 / خصائل  نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خصائل  نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ہبہ و ہدیہ

  1. حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر آئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اتنا ہی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اس کو واپس لے لے۔

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2479)

  1. حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 5367)

  1. حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) بن خطاب نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں خیرات کیا، پھر دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اپنی خیرات کو دوبارہ واپس نہ لو، اسی سبب سے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جب بھی خیرات کی ہوئی چیزخریدتے تو اسے صدقہ کردیتے۔

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1430)

  1. حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ دیتے تھے

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2478)

  1. حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک ریشمی حلہ یعنی کپڑوں کا جوڑا مسجد نبوی کے پاس (فروخت ہوتے ہوئے) دیکھا تو کہا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خرید لیتے، تاکہ جمعہ کے دن اور وفد کے آنے کے وقت پہن لیتے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اسے وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، پھر اسی قسم کے چند حلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک عمر بن خطاب (رض) کو دے دیا، تو عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ پہننے کو دیا، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلہ عطارد کے بارے میں فرما چکے ہیں، کہ اس کے پہننے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم اسے پہنو، تو عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا، پہننے کو دے دیا۔

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 852)

About خاور رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *