Home / شمارہ اپریل 2017 / داعی کی صفات اور ہم

داعی کی صفات اور ہم

ختم نبوت تک اللہ نے ہر دور میں انسانیت کی تعمیر کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری رکھا۔یہاں تک کہ اللہ کی حکمت کے مطابق خطبہ حجتہ الوداع   کے موقع پر آپ ﷺ نے تمام مخاطبین کو وصیت کی کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں  اب ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ تکمیل شدہ دین کو دوسروں تک پہنچائیں۔ہر کلمہ گو کی یہ ذذمہ داری ہے کہ وہ درجہ بہ درجہ اللہ کے دین کا داعی ہو۔

داعیانہ صفات یہ ہونی چاہیں کہ د اعی  پہاڑ کی طرح مضبوط ہو ۔ اس میں عاجزی زمین کی مانند ہو مگر اس کے ارادے آسمان کی طرح بلند۔ اسے ،دین کے مٹنے کا غم ہو، دنیا میں دین پھیلانے کا جذبہ  ہو۔ دینے کا جذبہ ہو اور دوسروں سے لینے سے تردد ہو۔ امت کے لیے دل میں قدر اور محبت ہو، دل میں عاجزی اور انکساری ہو، اعمال کی پابندی کرنے والا ہو اور اعلی اخلاق اس کا شیوہ ہو۔ اس کے دل میں اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اور کامیابی کو اللہ عنایت سمجھے۔

لوگوں کی تکلیفوں پر صبر کرنے والا ہو لوگوں کے نہ ماننے پر مایوس نہ ہو ہر عمل کے آخر میں استغفار کرنےوالا  ہو۔ سب سے اہم بات یہ کہ داعی کو تبلیغ کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کو بھی  بہت اہم جاننا چاہیے۔اگر دوسروں کو تبلیغ کرنے میں بہت مستعد ہو لیکن اپنی اصلاح سے غافل ہو تو  یہ بڑی ناکامی کی بات ہے۔کیونکہ جتنا ضروری یہ امر ہے کہ دوسروں کی اصلاح کی جائے ،اس سے بھی کہیں ذیادہ اہم اپنے نفس کی تربیت کرنا ہے۔غور کیجیے کہیں ہمارا یہ معاملہ تو نہیں کہ کسی داعیانہ منصب پر معمور ہوں لیکن دوسروں کی فکر میں خود سے غافل ہوں۔

About حماد مظہر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *