Home / شمارہ نومبر 2017 / دبئی میں احمد کے ساتھ گزرے پانچ دن

دبئی میں احمد کے ساتھ گزرے پانچ دن

‘دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ، سب سے بڑی شاپنگ مال، مہنگے ترین ہوٹلز، سب سے بڑا مچھلی گھر، ۔۔۔۔’ یہ سب سنتے ہی دبئی کا خیال آتا ہے۔ انہیں مین میڈ سٹرکچر میں ریکارڈ قائم کرنے کا جنون ہے۔ مسلسل کنسٹرکشن ہو رہی  ہوتی ہے ۔ ایک صحرا کو رہنے کے قابل نہ صرف بنایا بلکہ ہر طریقے سے پرکشش  بنا دیا۔حتیٰ کہ  نارتھ پول پر بسنے والی پنگوئین تک کو ان لوگوں نے صحرا میں بسا ڈالا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سیاحوں کے لئے چوتھے نمبر پر مقبول ترین جگہ دبئی ہے۔

ہم نے بھی پاکستان سے واپسی پر پانچ دن دبئی میں گزارے۔ دبئی میں ایک نارمل سا ہوٹل بک کر لیا تھا۔ نارمل سا اس لیے  کہ بس رات ہی گزارنا تھی۔

دبئی کے اس سفر پر آپ کو اپنے ساتھ رکھنے کا ارادہ ہے۔ اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور جب تک جہاز مکمل طور پر رک نہ جائے، اور حفاظتی بیلٹ باندھنے کے نشان بجھا نہ دیئے جائیں، آپ اپنی نشستوں پر ہی تشریف رکھیے۔ شکریہ!

جہاز میں کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ لینا مجھے اس لئے پسند ہے کہ رستے میں خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ انہی میں سے ایک منظر ایئر پورٹ کی لائٹس کا ہے۔ ہمیشہ کی طرح دلنشیں!

میرے لئے پاکستان سے ابو ظہبی کا سفر ملے جلے جذبات پر مشتمل رہا۔ ایک طرف سب پیاروں کو اللہ حافظ کہنے کا جان لیوا مرحلہ گزرا تھا، دوسری طرف دبئی جانے کی ایکسائٹمنٹ بھی تھی۔

ایئر پورٹ سے نکلتے رات کے بارہ بج چکے تھے۔ ویسے تو اتحاد ایئر لائنز کی اپنی ہی بس سے دبئی کی بکنگ کروا رکھی تھی لیکن اس کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے کزن کے ساتھ ہی دبئی روانہ ہوئے۔ یوں باتوں میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر قدرے آسانی سے کٹ گیا۔ جس وقت اس نے مجھے ہوٹل اتارا، مقامی وقت کے مطابق رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ ہوٹل کی بکنگ پہلے سے کروا رکھی تھی۔ اب بس کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گرنے کا انتظار تھا!

جس ہوٹل میں میری رہائش تھی، اس سے کچھ ہی فاصلے پر برجمان سینٹر تھا۔ دبئی جانے کا مقصد گو کہ شاپنگ نہیں تھا لیکن پہلے ہی دن شاپنگ سینٹر جانے کی وجہ کچھ ضروری چیزیں لینا تھی، جس کی تفصیلات کہیں نہ کہیں آگےآپ کو ملیں گی۔

ٹیکسی کو پیسے دیتے وقت یاد آیا کہ ہمارے پاس تو صرف ڈالر میں کرنسی موجود ہے۔ اس سے کہا تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے گھما کر منی ایکسچینج تک لے کر گیا، حالانکہ بعد میں پتہ چلا برجمان سینٹر  کے بالکل ساتھ ہی مطلوبہ جگہ موجود تھی۔ سنا ہے، مقامی ٹیکسی ڈرائیورز ٹؤرسٹس کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں ) خیر، برجمان  سینٹر سے اور چیزوں کے ساتھ دودھ، بریڈ، چیز سلائسز، پھل، لبن، اور اسی قسم کی کچھ چیزیں لے لی تھیں جن سے آنے والے دنوں میں ہمیں ناشتہ کرنا تھا۔ کمرے میں چھوٹا سا فریج موجود تھا اسلئے دودھ، ملک شیک وغیرہ سٹور کرنا مشکل نہیں تھا۔

چار بج چکے تھے۔ مال میں ہی فوڈ کورٹ میں کھانا کھایا اور ہوٹل واپسی کی ٹھانی کہ سامان اتار کر اگلے سفر پر روانہ ہونا تھا۔

دبئی مرینا مال کی بیک سائڈ پر مرینا کرِیک (Marina creek) ہے ،جہاں Speed boat tour کے لئے جانا تھا۔ کشتی چونکہ رات تک چلتی رہتی ہے تو یہی سوچا تھا کہ مغرب کے بعد جایا جائے تا کہ پانی میں روشنیوں کا جھلملاتا عکس انجوائے کر سکیں۔ مختلف قسموں کی بوٹس میں سے میں نے ایسی بوٹ بک کروائی تھی جس میں بس میں اور احمد ہی تھے۔ فی الحال وہ بوٹ کسی اور فیملی کو ٹور پر لے کر گئی تھی اور ہمارے پاس تقریبا” ایک گھنٹہ تھا۔

بوٹ‌ کے آنے میں ابھی تقریبا” ایک گھنٹہ باقی تھا تو وہیں کریک پر چہل قدمی کا سوچا۔ “الٹے سیدھے” ہو کر ہم وقت گزار رہے تھے لیکن کچھ ہی دیر میں گرمی اور پسینے سے گھبرا کر مال میں پناہ لینے کو دوڑے۔

 دوپہر کا کھانا دیر سے کھانے کی وجہ سے ابھی زیادہ بھوک نہیں تھی۔ پھر بھی ایک گھنٹہ بوٹ ٹور میں کچھ نہ کچھ کھانے کے لئے ہونا چاہیے اس لئے مال کے ساتھ ہی کارفور سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر آگے بڑھے۔ احمد اب تک کچھ تھک چکے تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ ایک گھنٹے کی بجائے ٹور کو آدھا گھنٹہ ہی کر لیں، ان کا کہنا تھا کہ اتنی دیر سمندر میں ہم بور ہو جائیں گے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے، بکنگ تو اب ہو چکی تھی۔

اب جبکہ بوٹ کا سفر شروع ہو چکا تھا، احمد کافی انجوائے کرنے لگے تھے۔ پرائیویٹ بوٹ کا فائدہ یہ ہوا کہ بس ہم ہی تھے اور احمد کی فرمائش بآسانی پوری ہو سکتی تھی کہ انہیں بھی بوٹ‌ چلانے کا موقع دیا جائے۔ اچھا بندہ تھا، اس نے اجازت دے دی۔ ساتھ ساتھ وہ ہمیں مختلف ٹاورز کی طرف اشارہ کر کے بتاتا بھی جاتا کہ یہ کون سی بلڈنگ ہے۔ ذرا آگے جانے پر بوٹ کی سپیڈ کافی تیز کر دی، جس پر احمد کی مزید فرمائش کہ اور تیز، اور تیز! بوٹ کی رفتار تیز ہونے پر لہروں کے چھینٹے چہرے پر آ رہے تھے جو گرمی میں بہت بھلے معلوم ہو رہے تھے۔

گھنٹہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا۔سمندر میں سب سے زیادہ مزہ مجھے سجے سجائے ڈاؤ کروز کو دیکھنے کا آ رہا تھا۔ اس قدر پیارا سجایا ہوتا ہے انہیں کہ بس! جیسے رنگا رنگ کپڑے پہنے حسین شہزادیاں پانی میں اٹھکھیلیاں کرتی ہوں۔ ڈاؤ کروز میں ڈنر بھی سرو کیا جاتا ہے کہ ساتھ سمندر کی سیر کریں، پانی میں جھلملاتی روشنیاں دیکھیں، ساتھ لہروں کے ہلکوروں میں لذیذ کھانا بھی کھائیں۔

اونچی لمبی پرشکوہ بلڈنگز کے بیچوں بیچ یہ مرینا مسجد ہے۔ حسن کا ایک روپ یہ بھی تو ہے! پام جمیرہ کی ‘بتیاں’ دور سے دیکھ کر واپسی کا سفر شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ شہر کی روشنیاں پھر سے نظر آنے لگی تھیں۔ اور پھر سبھی ہائے رائزز ایک ساتھ! حسین! میں محسوس کر رہی تھی کہ کچھ چیزوں کا حسن قربت سے زیادہ ان سے دور رہنے میں ہوتا ہے۔۔

سمندر کا یہ مختصر سا سفر اختتام کو تھا۔ رات کے نو بج رہے تھے، تھکن سے برا حال اور کل ایک نیا دن۔ ہوٹل پہنچ کر ہلکا پھلکا کچھ کھایا اور بستر پر بے ہوش!

جاری ہے۔

About نیر تاباں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *