دست راست

آج اٹھارہ دن ہو گئے ہیں کہ میرا دایاں ہاتھ نارمل استعمال کے قابل نہیں ہے، کلائی پر سے ٹانکے دو دن پہلے کھلے ہیں اور ہاتھ کام کرنے سے قاصر ہے، بے بسی سی بے بسی محسوس ہوتی ہے۔  ان چند دنوں میں مجھے نظر آیا اور احساس ہوا ہے کہ میرے پاس ایک ہاتھ اور بھی ہے، اب اس اکلوتے بائیں ہاتھ سے میں اپنے تمام معمولات چلا رہی ہوں۔ وہی بایاں ہاتھ جس کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے عمر بھر کے بیسیوں لطیفے یاد آ جاتے ہیں۔

سب سے پہلی یاد تو مجھے اپنی بی بی جان کی آتی ہے جنھوں نے ہمیں قرآن پڑھایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے طور سے ہمیں دین کے دیگر ارکان کے بارے میں آگاہی دیتی تھیں، جن کی صحت کے بارے میں تب تو شک نہ ہوتا تھا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بہت سی باتیں، مفروضوں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات پر مبنی تھیں۔

 مثلا وہ بائیں ہاتھ کے استعمال کے سخت خلاف تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ بایاں ہاتھ صرف استنجاء کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس وقت تو ان کی بات پر من و عن عمل یقین کرنے کے سوا کوئی چار ہ نہ تھا مگر بعد ازاں احساس ہوا کہ دنیا میں اربوں ایسے لوگ بھی ہیں جو استنجاء نہیں کرتے مگر ان کا بایاں ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ کئی ایسے لوگ بھی ہیں جن کا دایاں ہاتھ کسی حادثے کے باعث کٹ جاتاہے یا ناکارہ ہو جاتا ہے تو ان کے پاس بائیں ہاتھ کو استعمال کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔ میں نے اس کے بعد بھی بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ جن کے ذہنوں میں ایسے معاملات میں کوئی لچک نہیں ہوتی، وہ بھی بہت سختی سے بائیں ہاتھ کے استعمال کو برا سمجھتے ہیں۔

 اگر کسی کا بچہ ایسا ہو کہ وہ دائیں کے بجائے بائیں ہاتھ کو استعمال کرتا ہویعنی Lefty تو اس کے والدین کو اصرار سے کہا جاتا ہے کہ کھانا کھانے کے وقت اس کا بایاں ہاتھ قابو کر کے رکھیں تا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائے۔ بعض احباب تو مذہبی حوالے سے بتاتے کہ بائیں ہاتھ کا استعمال کس قدر قبیح ہے اور گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ بائیں ہاتھ سے گلاس کو پکڑ کر پانی پینے کو پیشاب پینے کے مترادف قرار دیتے ہیں، بائیں ہاتھ سے کھانے پینے والے پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بائیں کندھے پر بیٹھا ہوا فرشتہ گناہ لکھتا ہے اور دائیں طرف بیٹھا ہوا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے، اس سے دائیں ہاتھ کی افضلیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

 انگریزی زبان سیکھنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ واقعی دایاں ہاتھ ہی اچھا ہے کہ اسے انگریزی زبان میں بھی  ‘‘right hand’’ کہا جاتا ہے، مگر یہ بھی سوچئے کہ بائیں ہاتھ کو wrong hand کیوں نہیں کہا جاتا!!  آپ خریداری کے لیے جائیں تو نوٹ کریں کہ ہر دکاندار آپ سے رقم ہمیشہ دائیں ہاتھ سے وصول کرتا ہے اور کئی لوگ تو اس معاملے میں اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ آپ اگر بائیں ہاتھ سے اسے رقم دیں تو کہہ دیتا ہے کہ دائیں ہاتھ سے رقم پکڑائیں۔

 عمر کی نصف پونجی خرچ کر چکے مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ اللہ کے بنائے ہوئے دونوں ہاتھ ایک جیسے ہیں، ایک ہاتھ کے نہ ہونے کا مطلب معذوری ہے، اکیلا ہاتھ سارے کام نہیں کر سکتا جب تک کہ اسے دوسرے ہاتھ کی مدد حاصل نہ ہو۔ دائیں ہاتھ سے کھانا، چلتے وقت دایاں پاؤں پہلے اٹھانا اور کپڑا پہنتے وقت دائیں طرف سے پہلے پہننا۔ لیکن کیا ہمارے پاس کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ جس میں بائیں ہاتھ سے کھانے سے منع فرمایا گیا ہو یا اس کی کسی طرح کے حالات میں قطعی اجازت نہ ہو یا یہ کہا گیا ہو کہ جو ہاتھ استنجاء کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ ہر وقت ناپاک ہی رہتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کھانا بنانے میں، آٹا گوندھتے ہوئے بھی بایاں ہاتھ کیوں استعمال ہوتا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہے کہ ہم بائیں ہاتھ سے کھانا کھائیں تو ہم ہر نوالہ شیطان کے منہ میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔

 اس پر مجھے یاد آیا کہ جب ہم بہت چھوٹے سے تھے تو ہمیں سختی سے کہا جاتا تھا کہ نماز پڑھ کرمصلے کو تہہ کر کے اٹھا دیا کریں ورنہ کھلے مصلے پر شیطان نماز پڑھتا ہے۔ لو بھئی، اس سے اچھی بھلا اور کون سی بات ہو سکتی ہے کہ شیطان بھی نماز پڑھنا شروع کر دے۔

ہمارے مذہب کا بہت سا حصہ مختلف ثقافتوں کے امتزاج کی وجہ سے ابہام کا شکار رہا ہے اور ہمارے ہاں بہت سی غیر اسلامی روایات در  آئیں اور خواہ مخواہ ہمارے مذہب کا حصہ کہلانے لگیں۔  ہوتے ہوتے کسی نے انھیں حدیث کہہ دیا، کسی نے سنت اور کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ان سے اختلاف کرتا اور ہم سب ان کو اپناتے چلے گئے۔

آج کل جب کوئی ہمیں ایسی بات کہتا ہے تو ہم دلیل مانگتے ہیں، قرآن اور حدیث کا حوالہ مانگتے ہیں کیونکہ تعلیم نے ہمیں اس کا شعور دیا ہے۔ اگر ہم ایسے چھوٹے چھوٹے معاملات پر اس قدر rigid نہ ہو جایا کریں تو اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں بہت سی آسانیوں کا موجب بن سکتے ہیں۔

 مجھے بحالت مجبوری بائیں ہاتھ کو استعمال کرنا پڑا تو اندازہ ہوا کہ اگر ہم شروع سے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو یکساں استعمال کرنے کی عادت ڈالیں تو ہمارا ایک ہاتھ، بازو اور کندھا نہ تھکے اور نہ ہی اس کو کوئی ایسا مسئلہ ہو جیسا کہ مجھے درپیش ہو گیا تھا۔ کپڑے اور برتن دھونا، جھاڑو یا وائپر لگانا، برتن دھونا، کپڑوں کو استری کرنا اور دیگرایسے ڈھیروں کام جب میں ہم دائیں ہاتھ سے زیادہ کام کر تے ہیں اور اسی کو تھکاتے ہیں۔ بائیں ہاتھ سے بھی یہ سب کام کیے جا سکتے ہیں مگر ہم اسی لیے نہیں کرتے کہ ہمارے ذہنوں میں یہی تاثر بچپن سے ڈالا جاتا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کافی سارے کام کرنا گناہ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مذہب کو مذاق بنا دیا گیا ہے، اتنے فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے کہ شمار نہیں اور ان فرقوں میں وجہ اختلاف ایسی ہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں کہ جن کی کوئی شرعی اہمیت نہیں۔ داڑھی کی لمبائی، مونچھ کا ہونا یا نہ ہونا، شلوار کی لمبائی، پٹکوں کا رنگ، پگڑی کی نوعیت۔

فرائض کو بھلا کر جن چیزوں کو اہم گردانا جاتا ہے ان کا کوئی وجود ہے نہ ا ن کے اصل ہونے کی کوئی شہادت۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر اس سے اہم سمجھی جاتی ہیں ایسی ہی لغویات کہ جن کا مذہب سے دور دور رتک کوئی واسطہ نہیں ہے، الٹا ان سے ذہنوں میں ابہام پیدا ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو مذہب کو ہمارے ناطے سے جانتے یا سمجھتے ہیں، سن کر حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح کا مذہب ہے۔

اسلام نے اللہ کے پیغام کو اوربہت سادہ انداز میں دنیا تک پہنچایا ہے، یہ مذہب ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہے نہ کہ مشکلات بڑھانے کے لیے۔ ہمارے دنیا میں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کی حمد و ثنا ء کریں،اس کی عظمت کو تسلیم کریں۔ اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھیں، اپنے جیسے دوسرے انسانو ں سے اللہ کی خوشنودی کے لیے محبت کریں اور ان کے لیے آسانیاں پیداکریں۔

About شیریں حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *