Home / شمارہ دسمبر 2017 / دسمبر لوٹ آیا ہے

دسمبر لوٹ آیا ہے

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو خیالات کے کوٹھے میں یادوں کے دیپ جل اٹھتے ہیں شاید اس ماہ محبت میں موسم کے ساتھ ساتھ دل بھی کروٹ بدلتا ہے اور دھندلی تصویریں واضح عکس بن کر آنکھوں میں تیرنا شروع کر دیتی ہیں اور دل وصال کی خواہش کر بیٹھتا ہے کہ فطرت انسانی یہی ہے کہ جو خیالات کو رنگیں کیے رکھتے ہیں ، گلشن دل کو مہکائے رکھتے ہیں انھیں حقیقت کی صورت پا لینے کو جی چاہتا ہے اور بات کرنے کو من ترستا ہے۔عموما حالات کی ناسازی کی وجہ سے دیوانوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بے خودی کا عالم خیالات کی صورت محبوب کے قرب کا جام پیتے ہیں سبھی خواہشات الفاظ کی صورت محبوب کے سامنے پیش کرتےہیں اور پھر خودہی اپنی مرضی کےمطابق جواب دے کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ کیفیات دسمبر میں اس لیے پیدا ہو جاتی ہیں کہ اس ماہ میں خورشید گگن کی وسعتوں پر دیر سے نمودار ہوتا ہے اور شام کو بروقت ڈھل کر غروب کی گھاٹی میں اتر جاتا ہے اس لیے رات کی سیاہی ہر چیز کو جلد ڈھانپ لیتی ہے جس سے ہر شے ٹھہر جاتی ہے کہ فطرت کا قانون یہی ہے کہ رات کو ہر چیز اپنی دن بھر کی مصروفیات کو ایک جانب پھینک کر پرسکون ہو جاتی ہے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جب باہر کی دنیا پرسکون ہوتی ہے تو اندر کی دنیا جاگ اٹھتی ہے جہاں انسانوں کی خود سے ملاقات ہوتی ہے اور وہاں پتا چلتا ہے کہ اس کی طلب کیا ہے ، اسے کیا چاہیے اور کس کی کمی ہے جو قدم قدم پر محسوس ہوتی ہے اور جان لینے کے بعد پالینے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور پھر خیالات کی صورت ملاقات کا عالم یہ ہوتا ہے کچھ اس طرح سے آج وہ پہلو نشیں رہے جب تک ہمارے ساتھ رہے ہم نہیں رہے یہ ہے ایک فانی شے کی محبت جو راتوں کو جگائے رکھتی ہے دن کو توجہ بٹائے رکھتی ہے اور قربت کی خواہش میں جلائے رکھتی ہے ایسی خواہش جو پوری ہو بھی جائے تو کئی پہروں سوچی ہوئی باتیں بھول جاتی ہیں کہ جب وہ سامنے آتے ہیں احساس ادب ہو جاتا ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کتنی خوش نصیب ہیں وہ طبعیتیں جنھیں رب سے محبت ہو جاتی ہے کہ ایک تو اس میں پاکیزگی کے لطیف احساسات پنہا ھوتے ہیں جو فطرت انسانیہ کو اس کے اصل مقام سے متعارف کرواتی ہے دوسرا وہ دور رہ کر بھی پختہ خیال کی صورت اس قدر قریب ہوتا ہے کہ رگ جاں بھی اس کی نسبت دور محسوس ہوتی ہے اور پھر اس کا فرمان عالی شان پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے حقیقت بن کر ابھرتا ہے کہ “میں تو رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہوں ” محسوس یوں ہوتا ہے میری سبھی فریادیں برابر اس کے دربار مقدسہ میں پہنچ رہی ہیں اور وہ ہر لمحہ میرے ساتھ ہے تیسرا وصال کی طلب پھر بھی رہتی ہے کہ محبت کے جاں بلب اور بے قرار لمحے استوار ہی پا لینے کی خواہش پر ہوتے ہیں لیکن کیا کہنے اس مولائے عرش عظیم کے جس کی یاد آزار کا باعث ہر گز نہیں بلکہ ایک سرور ہے ایسا کیف ہے کہ سبھی جام جس کے سامنے ہیچ ہیں ساتھ میں ایک قوی امید حوصلہ دیے رکھتی ہے کہ انھیں یقین کامل ہوتا ہے کہ ایک دن آئے گا جب سبھی پردے اٹھا دیے جائیں گے محبوب جو بیک وقت محب بھی ہے اپنے پورے جاہ و جلال اور حسن و کمال کے ساتھ چشم محبوب کو جلا بخشے گا کیوں کہ اس کا فرمان عالی شان ہے “اور آنکھیں اسے پالیں(ادراک) گی ” دسمبر تو ان کے لیے بھی آتا ہے پر دکھ دینے نہیں بلکہ خوشی پہچانے کہ انھیں اب خوب موقع میسر آتا ہے کہ وہ اپنے رب سے تنہائیوں میں جی بھر کر باتیں کریں بندگی بجا لائیں در اقدس پر خاکسار پیشانی رکھ کر دل کی سبھی حسرتیں عرض کر دیں۔ میرے دل کے قریب رہنے والو ! آ جاؤ! کتنے دسمبر فانی محبتوں کی نذر ہوئے اب حقیقی محبت کا مزا بھی چکھ کے دیکھتے ہیں دست دعا اٹھاؤ! اور مانگو ! کہ اے اللہ ! ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرما جن کے قلوب تیری محبت سے بھرے ہوئے ہیں ان کی نگاہیں تیری دید کی مشتاق ہیں ایسی طبیعتیں ہیں جن پر تیرا خیال ہر دم وارد رہتا ہے وہ دنیا اور اس کے متاع کو عارضی اور ہلکا گردانتے ہیں اور ہر آن تیری فرماں برداری بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آمین!!!

About عثمان حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *