Home / رمضان سپیشل / دنیاوی و اخروی سیزن

دنیاوی و اخروی سیزن

نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی والدین اپنے بچوں کی کتب کی خریداری کرنے کو جوق در جوق بازاروں کا رخ کرتے ہیں جبکہ بازار میں موجود سبھی دکاندار اپنی دکانوں کو نئے مال سے بھرلیتے ہیں۔ اور مختلف حیلے اور حربے بروئے کار لاتے ہیں جن میں خریدنے والوں کو ڈسکاؤنٹس اور ایک معینہ حد تک خریداری پر فری جیسی آفرز پیش کی جاتی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ کسٹمرز انکی طرف متوجہ ہوں اور انکی فروخت میں اضافہ ہو سکے۔

 اس ضمن میں اگر کسی دکاندار کے پاس وسائل نہ بھی ہوں تو وہ تب بھی قرض پکڑ پکڑا کے نیا مال خریدتا ہے،یعنی ہر تاجر اپنی تمام صلاحیتیں اور کوششیں اس سیزن کو احسن طریقے سے کیش کرنے کیلئے صرف کرتا نظر آتا ہے۔اور اگر ایسے میں کوئی دکاندار یہ کہہ کر بے توجہی برتے کہ میں وسائل سے تہی دست ہوں،لہذا جس نے خریداری کرنا ہوگی وہ پرانا مال بھی لےجائے  گا، تو وہ شخص یقینا خسارے میں رہے گا کیونکہ اس نے اس کمانے کے اس پرکشش سیزن کو اپنی کاہلی اور لاپرواہی کے سبب نظر انداز کردیا ہوتا ہے۔

 یہ تو رہا دنیا کے سیزن کا احوال۔جو کہ عارضی،وقتی اور معدوم ہے۔جبکہ ایک سیزن اللہ تعالی نے بندوں کیلئے مختص کیا ہے،جو روحانی ہونے کے ساتھ ساتھ دائمی نفع کی لڑیاں پروئے ہوئے  ہے۔ جہاں بندہ اگر ایک رکعت نفل پڑھے تو فرض کے برابر ثواب کا حقدار ٹھہرتا ہے اور اگر ایک فرض پڑھے تو اسکا اجر ستر رکعات فرضوں کے برابر حاصل کرتا ہے۔جبکہ یہیں پر بس نہیں،وہ مالک چاہے تو اپنی مشیت اور بندے کے خلوص اور اشتیاق کو دیکھ کر ستر کو سات سو سے بدل دے،اور فل اسٹاپ یہاں پر بھی نہیں۔ اگر وہ کریم کرم نوازیاں کرنے پر آئے تو اس اجر کو اتنا بڑھائے  کہ کوئی شمار بھی نہ کر سکے۔ اور اگر ہم دنیا کی طرف نظر ماریں تو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی عقلمندوں، شاطروں اور ہوشیاروں کی طرف بہتات ہے اور عیاری مکاری کا بازار بھی برابر گرم ہے۔مگر کوئی ایسا ٹھگ نہیں جو اپنی کسی چیز کو ستر گنا زائد دام میں فروخت کرسکے جبکہ ایسے خریدار کا ہونا تو بالکل ہی محال ہے۔

 رمضان ابتداء سے انتہاء تک خالقِ کائنات کی طرف سے عنایتوں کا خزینہ اور رحمتوں کی ناختم باران کا سلسلہ ہے۔ بخشش کا اعلان ہوجانا رحمت نہیں تو اور کیا ہے؟ ابلیس کا قید ہونا رحمت،جہنم کے دروازے مقفل ہونا اور جنت کے دروازوں کا کھل جانا رحمت کی بے مثل نظیر ہی تو ہے۔ سو ایسے میں بندے کا اک عاجز اور فرمانبردار غلام بن کے اپنے مالک کےہر حکم پر طابع اور ہر وعید پر مانع ہوجانے کا رویہ اسکی کامیابی اور سرفرازی علامت ہے۔ جبکہ رمضان میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کا وقتی اور عارضی ہونا نقصان دہ ہے،کیونکہ اصل فائدہ اور فلاح تو اسکے استقبال پر بیدار ہونے والے جذبہ کا اسے الوداع کردینے کے بعد بھی زندہ رہنے میں ہے،  کم از کم اتنی تبدیلی تو آئے کہ فرض نماز کی متروکیت ترک ہوجائے کیونکہ مسلمان کی زندگی میں اسکی اہمیت سب سے زیادہ ہے،رب کے حضور پانچ وقت کی خمیدہ سری ہی اسے دنیا سے ممتاز کرتی ہے،اگر یہی باریک سی لکیر مٹ جائے تو مسلمان اور کافر کے مابین تفریق نہیں رہتی۔ ساتھ ساتھ ایک اور سب سے اہم چیز کلام اللہ…… قرآنِ پاک کی تلاوت کا اہتمام جیسے رمضان میں روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،اسکے بعد بھی اسکی تلاوتوں کی روش برقرار رہے، نہ کہ جزدانوں میں دنیا کا بہترین نصیحت نامہ اور ضابطہءِحیات گرد آلود ہوتا رہے۔کیونکہ اسکے نزول کا اصل مقصد اس پر غور و فکر ہے نہ کہ بنا سوچے سمجھے اسے پار کرجانا اصل ہے۔جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے کہ اگر یہ کلام پہاڑو ں پر نازل ہوتا تو وہ اسکے جاہ و جلال سے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج ہماری اناؤں  کے بت نہیں ٹوٹتے،میں کے مندر نہیں لرزتے اور نہ ذات کی گھات لگانے کی آگ پر سرد مہری پھرتی ہے……..؟ کیونکہ ہم قرآنِ پاک کو صرف پڑھتے ہیں،تلاوت کرتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔یہ مانا کہ اس کی تلاوت بھی بے ثمر نہیں،لیکن جو اسکا اصل مقصد ہے اس سے دوری بہت بڑی ناانصافی ہے۔ کیونکہ اسے سمجھنے سے ہی زندگی میں اصل تغیر آئے گا جو لازوال اور بے مثل ہوگا۔اور اگر ہم نے قرآن اور نماز کو بااسلوب کرلیا تو ہماری زندگی کا ہر پہلو ان شاءاللہ منور ہوجائے گا اور اللہ کی جناب میں ہمارا مقبول ہونا یقینی ہوجائے گا……. ان شاءاللہ

About کاشف جانباز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *