Home / شمارہ اپریل 2018 / دوغلے اور منافق

دوغلے اور منافق

تحریر: شیریں حیدر

میں نے اپنی بیٹی کی رخصتی کے وقت اسے نصیحت کی کہ اپنی سسرال میں جا کر کچھ عرصہ ان کے طور طریقے دیکھنا، ان کے ہاں کسی بات پر تنقید نہ کرنا، جو کچھ وہاں ہے اسے اسی طرح قبول کرنے کی کوشش کرنا۔اتنا کچھ تم نہیں بدل سکو گی اس لیے خود کو بدلنا آسان ہوتا ہے۔ وہ بھی نہ ہو تو خاموش رہنا تو بولنے سے زیادہ آسان ہے۔

 ٹورنٹو کے نواحی خوبصورت علاقے ملٹن ، ایک خوبصورت گھر، ایک خوبصورت شام، چند خوبصورت لوگوں کے درمیان مختلف موضوعات پر باتیں کرتے کرتے ، تیس بتیس سالہ اس پیاری سی بچی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ہم لوگ پاکستان میں ملازمین کے بغیر کیوں نہیں رہ سکتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کس طرح انھیں قابو کیا جا سکتا ہے، ان پر یوں اعتبار کیسے کر لیتے ہیں کہ اپنے گھروں میں ہر کونے کھدرے تک انھیں رسائی دے دیتے ہیں، ان پر اندھا اعتماد کر لیتے ہیں۔

یہاں زندگی اتنی مشکل ہے، میرے ماں باپ دونوں بوڑھے بھی ہیں اور کسی نہ کسی بیماری کے مریض بھی، مگر اس عمر میں بھی وہ کسی ملازم کے بغیر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اس پیاری سی بچی نے پھر سوال کیا۔’’ بیٹا، یہ سمجھو کہ ایک ایسا اسٹائل ہم لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گیا ہے، ہمارے شاہی خاندان تو ختم ہو گئے مگر ہم لوگ غربت میں بھی ان شاہانہ عادات کو چھوڑ نہیں سکے۔ ہماری آبادی کی اکثریت میں اب بھی ان پڑھوں کی تعداد ، پڑھے لکھوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ وہ گھریلو کاموں کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتے، گھر کے کام وہ کام ہیں جن کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت ہے نہ ٹریننگ کی۔‘‘ میں نے وضاحت کی ( یوں تو سارا ملک ہی ان لوگوں سے چل رہا ہے جن کی اہلیت ان کے شاہی عہدوں سے مماثلت نہیں رکھتی) ، ’’ اس طرح ان لوگوں کو بھی کام مل جاتا ہے اور ہمیں کام کرنےوالے۔ ہاں آپ کے سوال کا دوسرا حصہ، ہم انھیں کیسے رکھتے ہیں، کس طرح برداشت کرتے ہیں اور کس طرح ان پر اعتماد کرتے ہیں، یہ سب ہماری مجبوریاں ہیں بیٹا ‘‘

’’ یہی تو پوچھنا ہے کہ ایسی کون سی مجبوری ہے کہ آپ اپنے گھروں کے کام خود نہیں کر سکتے اور ان لوگوں کی اتنی محتاجی ہوتی ہے ‘‘ اس نے سوال کیا، ’’ میری ساس امی تو ہر وقت اپنے ملازمین کے ناراض ہو جانے یا ملازمت چھوڑ کر چلے جانے کے ڈر سے انھیں کچھ نہیں کہتیں، ان کی کئی غلط حرکتوں کو برداشت کرتی ہیں ‘‘

’’ ملازم تو ملازم ہے ‘‘ کسی اور نے دخل اندازی کی، ’’ ایک ملازم اگر اچھا کام نہیں کرتا یا اس کا کام کرنے کا انداز درست نہیں، وہ

ملازمت چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے یا بد دیانتی کرتا ہے تو اسے نکال کر کسی اور کو ملازم رکھ لیں ‘‘

’’ بہت آسان حل ہے مگر یہ بات وہی کر سکتا ہے جس نے ہمارے ہاں ملازموں کا قحط نہ دیکھا ہو یا جسے یہ اندازہ نہ ہو کہ ہم ملازموں کے بغیر اپنے گھر نہیں چلا سکتے، گھر ہم بڑے بڑے بنا لیتے ہیں، گھروں میں مہمانداری کا نہ کوئی وقت ہے نہ موقع۔ مرد ہمارے ہاں کام نہیں کرتے کہ ان کے شایان شان نہیں اورعورتوں میں شروع سے ہی کام نہ کرنے کی عادات کے باعث ان کے وزن بڑھ گئے ہیں ، کئی طرح کی بیماریو ں کی وجہ سے کام کرنے کی ہمت نہیں اور اسی لیے ملازمین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘ میں نے بتایا’’ میری بیٹی تو وہاں جا کر رل گئی ہے، آپ کے ہاں تو بہو کا مطلب شاید ایک ملازمہ ہی ہوتا ہے۔‘‘ اس کی ماں نے شکوہ کیا۔’’ ایسا ہر جگہ ہر گز نہیں ہے ‘‘ میں نے فوراً دفاع کیا ، ’’ جہاں لوگوں میں شعور ہے وہ لوگ بہو کو گھر کا نیا فرد سمجھتے ہیں ‘‘

’’ اور یہ شعور ہے کہاں آنٹی؟ ‘‘اس بچی کے منہ سے سوال پھسلا، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں سے پاکستان جانے کے باعث اس کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا۔

’’ ہماری بیٹی کو یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے دوران اپنا ایک کلاس فیلو پسند آ گیا ‘‘ اس کی ماں نے وضاحت کی، ’’ اس بچے کو اس نے ہم سے ملوایا، ہم نے اس سے بات کی اگر وہ یہاں رہ جائے تو ہم اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دیں گے۔‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رکیں، ’’ مگر اس کی ضد تھی کہ اسے بہرحال واپس جانا ہے، اس کا اپنا ملک ہے ، اس کا خاندان ہے ، وہ سب اس کے لیے اہم ہے۔ جب وہ نہ مانا تو ہم نے اپنی بیٹی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ وہ بچہ واپس اپنے ملک جانا چاہتا تھا، ہم تو جانتے تھے کہ ہم تو وہیں سے تین دہائیاں پہلے اس ملک میں آئے تھے، ہمیں علم تھا کہ ہماری بچی کے لیے راہ بہت خار دار ہو گی۔ ایک ایسی بچی جو ایک محفوظ اور سادہ ماحول میں پروان چڑھی، خاندانوں کی سیاست اور منافقت سے اس کا کوئی پالا نہ تھا، رشتہ داروں کی مداخلت اور آزادانہ رائے کو وہ جانتی نہ تھی، ایک ایسی بچی جسے کوئی لڑکا باہر سے پسند کر کے بیاہ کر لائے۔ اس کا اسٹیٹس اس خاندان میں کیا ہوتا، ہم سب جانتے تھے،اسے سمجھایا مگر اس کا ایک ہی اصرار تھا کہ اگر وہ اچھا ہو گا جس سے میرا بیاہ ہو گا تو میں سب سہہ لوں گی۔ ‘‘ ان کی دکھ کی داستان، ان ہزاروں ماؤں سے مختلف نہ تھی جس کا سامنا بیرون ملک سے بیاہ کر آنیوالی لڑکیوں کو ہوتا ہے۔’’ لڑکا تو اچھا ہے نا، آپ کا داماد؟ ‘‘ میں نے ان سے سوال کیا۔’’ لڑکا ‘‘ ان کے لہجے میں ہلکی سی خفگی تھی، ’’ شادی کے دس سالوںمیں، اکتیس سال کی عمر میں میری بیٹی چوتھا بچہ پیدا کرنے کے لیے یہاں آئی ہے ‘‘

’’ آپ کی بیٹی بچے پیدا کرنے کے لیے یہاں کیوں آتی ہے؟ ‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا، ’’ پاکستان میں ہر روز ہزاروں بچے پیدا ہوتے ہیں ‘‘

’’ ہاں مگر ان بچوں کو کینیڈا کی یا کسی اور ملک کی شہریت تو نہیں ملتی نا ‘‘ انھوں نے استہزائیہ لہجے میں کہا۔

’’ تو آپ کی بیٹی کے بچوں کو یہاں کی شہریت کیوں چاہیے۔ ابھی تو آپ نے بتایا کہ آپ کا داماد یہاں پڑھ کر واپس لوٹ گیا تھا کیونکہ اسے واپس اپنے ملک اور خاندان میں لوٹ کر جانا تھا!!‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔

’’ ہمارا داماد واپس تو چلا گیا مگر اس نے ہماری بیٹی سے شادی کے بعد اس ملک کی شہریت بھی حاصل کر لی تھی اس کی مطلوبہ شرائط پوری کر کے اور اب اپنے بچوں کو بھی یہیں پیدا کروا رہا ہے! ‘‘ انھوں نے بتایا۔

’’ اس کی کیا وجہ ہے؟ ‘‘ میں نے پوچھا-۔

’’ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات کا کچھ علم نہیں کس وقت کیا ہو جائے اس لیے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنا چاہتے ہیں‘‘ اس بچی نے وضاحت کی، ’’ آپ سمجھتی ہیں کہ صرف آپ لوگوں کے حکمرانوں کی یہ سوچ ہے کہ اپنا سرمایہ بیرون ملک رکھیں یا اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کریں!!‘‘ وہ رکی، ’’ جن جن لوگوں سے میرا واسطہ اپنے شوہر کے حلقہء احباب میں ہوا ہے، ان سب کی یہی سوچ ہے۔ وہ سب ایسا ہی کر رہے ہیں، انھوں نے غیر ممالک کی شہریت لے رکھی ہے ، چاہے ان کے بچوں کی شادیاں غیر ممالک کی شہریت رکھنے والی لڑکیوں سے ہوں یا نہیں، وہ کسی نہ کسی طرح ان ممالک کی شہریت لیتے ہیں اور اپنے بچوں کی پیدائش، پرورش اور تعلیم کے لیے انھیں ملکوں کو محفوظ سمجھتے ہیں ‘‘

اس نے مجھے وہ حقیقت بتائی جو کسی آئینے کی طرح شفاف ہے مگر ہم اس سے نظریں چراتے ہیں۔

’’ اب بھی میرا داماد اپنے بچوں کی سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیاں یہاں گزارتا ہے، اس کا اپنا کاروبار ہے، اگر اسے خود چھٹی نہ ملے کہ کام کا بوجھ زیادہ ہو تو وہ ہماری بیٹی اور نواسے نواسیوں کو بھیج دیتا ہے۔ اس ملک میں اس نے اپنا گھر بھی لے رکھا ہے، پاکستان میں اس نے ایک ایڈوائزر رکھا ہوا ہے جو اسے ٹیکس چوری کے طریقے بتاتا ہے مگریہاں یہ ٹیکسز بھی دیتا ہے کیونکہ اسے ریٹائرمنٹ کی عمر کی پنشن بھی لینا ہے اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے مفت علاج اور تعلیم کی سہولیات بھی ‘‘ بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں تک پہنچ گئی تھی۔’’ اسے آپ ہماری بد قسمتی کہہ لیں زیادہ ترلوگ ہمارے ملک میں ٹیکس دیتے نہیں اور ہم جو دیتے ہیں وہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ٹیکس کہاں جاتے ہیں،ا ن کا کیا مصرف ہوتا ہے؟ ہمیں نہ اچھا علاج میسر ہے نہ تعلیم!!‘‘ میں نے دکھ سے کہا، ’’ بات ملازموں سے شروع ہوئی تھی کہ ہڈ حرامی کرتے ہیں اور چوری چکاری کرتے ہیں اور ہر وقت چھوڑ کر چلے جانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ آپ دیکھ لیں ایسا وہ ہمارے ساتھ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم سب بھی تو ویسے ہی ہیں۔ کام نہ کرنیوالے،  توقعات کے بڑے بڑے کشکول لیے ہوئے،  جہاں داؤ چلے وہاں چوری کرنیوالے اور جہاں اس ملک میں ذراسی تکلیف اٹھانی پڑے، اسے چھوڑ کر جانے کو تیار!! ہمارے جیسے دوغلے اور منافقوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ مکافات عمل کہلاتا ہے ‘‘ میں نے بات مکمل کر کے اجازت چاہی کہ اب بات کرنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا۔

About شیریں حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *