ذکر اس مہوش کا

تحریر:زارا مظہر

سوشل میڈیا پر اپنے بہت سے ساتھیوں کی درد بھری تحاریر پڑھتی رہی ہوں ۔ سب بڑے بڑے نام ہیں ۔ دل میں ظلم کے خلاف سچا درد رکھتے ہیں ۔ سوشل میڈیا کے بڑے جنگجو ہیں ۔ لفظی تیر اور توپ و تفنگ سے گھنٹوں میں سیاسی فیصلے بدلوا لیتے ہیں کتنے ہی سوموٹو ایکشن چیف جسٹس نے اس طاقتور میڈیا کے کہنے پر لئیے اور مجرم سلاخوں کے پیچھے نظر آ نے لگے ۔ مگر میرا دل ایسا پتھر ہے کہ نہیں پگھلا ۔میں نے دو لائینوں کا شرمندگی کا یا تعزیت کا اسٹیٹس تک نہیں ڈالا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مہوش کیوں اتنی چھوٹی سی عمر میں کمائی کرنے نکل پڑی ۔ اس کے صاف شفاف کم عمر مجبور چہرے پر تو ابھی نقوش بھی پوری طرح نہیں جم پائے کہ وہ یونیفارم پہنے بازو میں بیگ لٹکائے اپنی چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا عزم لیئے کمانے کے لیئے نکل پڑی ۔ اور بدلے میں ایک دو ٹانگوں والا بھیڑیا اس سہمی بچی کو ایک سیکنڈ میں نگل گیا کیونکہ وہ اس کی ہوس کی پیاس بجھانا نہیں چاہتی تھی ۔ کیونکہ اس کے پیشِ نظر سوکھی روٹی کے وہ چند نوالے بہت اہم تھے جو وہ رزقِ حلال کے طور پر کماتی تھی ۔ اور ، اور یہ ہے ایک مہذب معاشرہ ۔ جنگل نہیں ہے جنگل میں بھی کچھ قوانین چلتے ہیں جو کہیں لکھے نہیں جاتے مگر وہاں کے رہنے والے انکی پاسداری کرتے ہیں ۔

ابھی بول رہی تھی ۔سانس لے رہی تھی، بھری بس میں اپنے حق کے لیئے اپنی عزت کے لیئے چیخ رہی تھی مگر اگلے لمحے نہیں تھی ۔ کیا قیامت ایسے ہی نہیں آ تی ۔اور قیامت کسے کہتے ہیں قیامت تو ہر روز آ تی ہے مگر ہم بے حس ، ٹھس لوگ اتنی غفلت میں پڑے ہیں کہ صورِ اسرافیل بھی ہمیں اٹھانے میں ناکام رہتا ہے ۔ بس میں سفر کرنے والے اتنے بے حس تھے کہ بڑھ کر ایک معمولی سے گارڈ کو روک نہیں سکے ۔ اسے للکار نہیں سکے ۔ کسی کو اس لڑکی میں اپنی بیٹی دکھائی نہیں دی ۔ پھر کہتے ہیں کہ عورت طوائف ہے حرام کاریاں کرتی ہے ۔ معاشرے میں گند پھیلاتی ہے ۔ جو حرام کاری نہیں کرنا چاہتی اسے کیڑے کی طرح مسل دیتے ہیں اسے طوائف بننے پر یوں ہی مجبور کیا جاتا ہے ۔ کتنے ہی ہوں گے جو بچی پر پڑی افتاد سے حظ اٹھا رہے تھے ۔ ابھی خوشی خوشی اس کے ساتھ چل پڑتی تو سانس بھی لے رہی ہوتی ۔ زندگی کے مزے بھی لوٹ رہی ہوتی اور ، اور یقینا اپنے گھر والوں کی ضروریات اچھے طریقے سے پوری کر رہی ہوتی ۔

میں ایسی پتھر دل ہوں کہ ایسی ویڈیوز دیکھنے سے ہمیشہ گریز کرتی ہوں مجھے اپنے دل کی بہت پرواہ ہے کہیں سیال بن کر بہہ نا جائے میرے بچوں کو کون دیکھے گا ، میری ذمہ داریاں ، میرے خواب جو بچوں کے حوالے سے دیکھ رکھے ہیں انہیں پورا ہوتے دیکھنے کے لیئے مجھے اپنا حصہ ڈالنا ہے ان کی مدد کرنی ہے ۔  مگر صبح صبح مہوش سے کچھ ہی سال چھوٹی لاڈلی بیٹی نے اپنی موٹی موٹی آ نکھوں میں آ نسو بھر کر جب یہ ویڈیوز دیکھنے پر اصرار کیا ویڈیو دیکھتے دیکھتے ایک لمحاتی کیفیت میں بیٹی کو وہاں دیکھا تو اسکے گالوں پر پھسلتے آ نسوؤں سے میرا پتھر دل خود بخود سیال بن گیا ۔ اب اس سیال کو کیسے سنبھالوں ۔ اب معلوم ہوا میرے درد مند کولیگ کیوں چیخ رہے ہیں اتنے دنوں سے ۔ اسی ڈر سے میں ویڈیوز نہیں دیکھ رہی تھی کہ پتھر دل کہیں پھٹ نا جائے ۔ آ نسوؤں میں بہہ نا جائے مگر ۔ ان آ نسوؤں میں مہوش کی وہ ساری مجبوریاں اور بے بسیاں تھیں جو اس بچی نے اس بھیڑیوں کے غول میں سہی ہوں گی ۔ میں ہوتی چیف جسٹس تو ایک ایک سواری کو شریکِ جرم ہونے کی سزا سناتی اور فوری عمل درآمد کرواتی ۔ کسی عوامی چوک کے بیچ میں سرِ عام پھانسی لگواتی ۔ اسلام کے نام پر بنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا اندھیر ۔

نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔

 

About زارا مظہر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *