ذہنی ارتقاء

ذہنی ارتقاء

منصور الہیٰ

کچھ لوگ ہوتے ہیں. جو معاملات کو نہیں سمجھتے لیکن اپنے فہم کے احاطے میں، دوسرے کی بات سمجھ نا آنے کی صورت میں کوشش کر کے بھی اس تک اپنا فہم نہیں لے کر جاتے. حیات کا اکثر حصہ اور نصف توانائ اختلافات میں گزارتے ہیں. جس سے اختلاف کیا. اسکا جواب نا پاکر چپکے سے اندر ہی اندر خود کو فاتح. نہیں تو سامنے والے کو ناسمجھ سمجھ رہے ہوتے ہیں. ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقاء ایک مخصوص دائرہ خیال میں مقید رہتا ہے. ارتقاء اندرونی ہوتا ہے. بہر حال ہوتا ہے، لیکن specific circle of thought میں. وہ مخالف کے بارے میں خود ساختہ رائے قائم کر لیتے ہیں. پھر اسی پر ڈٹ جاتے ہیں. ایک قسم کی بدگمانی کا شکار. لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مخالف کس جنگ کی تیاری کر رہا ہے، وہ ان عام اصولی یا جبلی مکالموں یا مباحثوں کیلئے نہیں بنا. اسکا مقصد فطری ہے. وہ فطرت میں گم رہتا ہے. اسکے خوابوں میں مخصوص اشاروں کی صورت میں پیغامات کے ذریعے راہ نمائ کی جاتی ہے. اقبال ایک دن کسی کے خواب میں آئے. اسی دن شکوہ و جواب شکوہ زندگی میں حادثاتی طور پر آیا تھا، قبلہ اقبال محترم نے فرمایا تم ہر کسی کو مطمئن نہیں کر سکتے. خیالاتی نرمی سب کی میراث نہیں.

 سقراط کی جماعت میں افلاطون نے بیس سال گزارے. ان بیس سالوں میں وہ کئ اختلافی، خیالی اور فطری مباحثوں اور کمزور خیالوں کی کشمکش میں رہا. ایک طبقہ اسے حقیر سمجھتا تھا. بہر حال ایک وقت آیا جب اسکے منتشر خیالات ایک جگہ اکھٹا ہوگئے اور بیس سال فلسفی رویہ کے ‘حامل کل’ کے دانت کھٹے ہو گئے.

 یاد رکھو اختلاف صغیر ‘حق کل’ ہو سکتا ہے. لیکن اختلاف کبیر اہل جنوں و علم کا شیوہ ہے. جو ایک مقصد کے لئے خود کو فنا کردیں. فنا کی گہرائیوں میں مزید سے مزید کیطرف جائیں. قدرت کی بہت سی باتیں معمہ ہیں، ایک ہی منزل کو مختلف راستے جاتے ہیں. دوران سفر ایک وقت آپکو چپ کا روزہ رکھنا پڑ جاتا ہے، راستے میں آنے والے کسی نخلستان کو اپنی منزل جان کر کچھ بے چارے زندگی وہیں گزار دیتے ہیں. سمندر کا ماہر ریگستانی فہم و فراست کا مالک نہیں ہو سکتا. کنویں کے مینڈک والی کہانی تو سنی ہوگی. سو سال ایک ہی کنویں میں گزارنے والا مینڈک سمندری سات سالہ مینڈک کو احمق جانتا ہے. لیکن بوڑھے مینڈک نے شاید ‘رسل’ کے خیالات کے بارے میں سنا نہیں ہوگا.

 ایک پیچیدہ حقیقت جو شخصی رویہ سے متعلق ہے. وہ یہ کہ ایک انسان چاہتا ہے کہ سب کو خوش رکھے. لیکن حضور یہ آپکی سب سے بڑی بے وقوفی ہے کہ آپ سب کو خوش رکھنا چاہتے ہو. آخر میں استاد محترم جناب ڈیل کارنیگی کی بات یاد آگئ. خلاصہ یہ کہ تنہائ میں محنت کرو. کامیابی شور مچائے گی. جناب استاد شاہد خان صاحب نے فرمایا کہ اس پروسس میں تین چیزوں کا سامنہ رہے گا. قلت، علت اور آخر ذلت. ان تینوں کو خوش آمدید کرنے کو تیار ہوجاو. لیکن ہم نے سوچا ایک وقت آئے گا جب قلت کو قلت، علت کو علت اور ذلت کو ذلت محسوس ہوگی ایک ایسا شاہکار تیار ہوگا. خود سے بس یہ جنوں خارج مت کرنا. اور سڑک پر بھونکنے والے ہر کتے پر غوروفکر مت کرنا. گدھے کو گھوڑے سے اس بات پر اختلاف ہے کہ اسے ہی میدان جنگ میں کیوں بھیجا جاتا ہے جالانکہ گدھا زیادہ محنتی. لیکن امام ابن جوزی نے لکھا کہ گدھا دراصل عقل والا ہے. اب یہ آپ خود جاننے کی کوشش کریں. میری تو طبیعت ٹھیک نہیں. دعاوں کی درخواست.

About منصور الٰہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *