Home / شمارہ جون 2018 / رسائل ومسائل

رسائل ومسائل

سوال:جو چاہوں ملتا نہیں کیا یہ ناکامی تقدیر ہے؟تقدیر کے مسئلے کی وضاحت درکار ہے

جواب: تقدیر کے مسئلے کو بجا طور پر تاریخ انسانی کا پیچیدہ ترین مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ فلسفہ، مذہب، سائنس، منطق سب اس موضوع پر طبع آزمائی کرتے رہے ہیں اور کسی متفقہ مدلل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ متکلمین بھی ایک زمانے تک جبریہ یعنی مکمل جبر اور قدریہ یعنی مکمل اختیار جیسی انتہاؤں میں مبتلا رہے ہیں۔ لہٰذا یہ سوچنا درست نہیں کہ اس کی باریکیوں کو آپ سوشل میڈیا پر سمجھ لیں گے۔ بہرحال میری سمجھ کا ایک اجمالی خاکہ درج ذیل پانچ حقیتوں میں مذکور ہے۔جو تمام ایک دوسرے سے منسلک تو ضرور ہیں مگر اپنا جداگانہ وجود رکھتی ہیں اور جنہیں اگر آپ جدا جدا سمجھ لیں تو مسئلہ تقدیر کو کسی حد تک جان پائیں گے ان شاء للہ!

١: علم الٰہی

یعنی اللہ کو ہر بات کا بناء ماضی، حال اور مستقبل کی تفریق کے علم ہے لیکن کسی بات کا رب کو علم ہونا اور کسی پر رب کا جبر کرنا دو علیحدہ حقیقتیں ہیں۔رب کا علم کیسے کام کرتا ہے؟ یہ ہم اپنی انسانی عقل سے کبھی نہیں جان سکتے کہ محدود غیر محدود کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ زمان و مکان میں مقید مخلوق زمان و مکان سے آزاد خالق کے علم کو نہیں جان سکتی۔

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جانتا ہے جو کچھ زمین میں اور دریا میں ہے، اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ کتاب روشن میں ہیں۔” (سورہ الانعام 59)

٢: تقدیر مبرم حقیقی

تقدیر دو حصوں میں منقسم ہے۔اس کا پہلا حصہ وہ ہے جس میں ہم مجبور محض ہیں اور جسے بدلا نہیں جاسکتا۔جیسے ہمارا مرد یا عورت

ہونا یا ایک خاص ملک و گھر میں پیدا ہونا، ہمارا ‘ڈی این اے کوڈ’ وغیرہ۔اسی طرح کسی کی موت کا یا عذاب کا حتمی فیصلہ بھی اسی میں شامل ہے۔

 (فرشتوں نے کہا:) اے ابراہیم! اس (بات) سے درگزر کیجئے، بیشک اب تو آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آچکا ہے، اور انہیں عذاب پہنچنے ہی والا ہے جو پلٹایا نہیں جا سکتا۔‘‘ (سورہ الهود 11)

٣: تقدیر مبرم غیر حقیقی

تقدیر کا وہ دوسرا حصہ جس میں دعا اور کوشش سے تبدیلی ممکن ہے جیسے دعا اور دوا کرو گے تو فلاں بیماری سے نجات پاؤ گے ورنہ نہیں۔

صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے۔ (ترمذی)

٤: آزادی ارادہ و اختیار

دین کا سارا مقدمہ اسی پر قائم ہے کہ انسان اس دنیا میں آزادی ارادہ و اختیار کے ذریعے جو فیصلے کرے گا، روز آخرت اسی کی جزاء پائے گا۔ لہٰذا اس سے بڑا کوئی مغالطہ نہیں کہ کوئی عقلمند یہ سوچے کہ وہ مطلق مجبور ہے۔ یہ بات ہم پر دین اور تجربے دونوں سے ثابت ہے کہ انسان زندگی کے اچھے برے فیصلے اکثر اپنی مرضی سے لینے پر قادر ہوتا ہے۔یہ اختیار ‘تقدیر مبرم غیر حقیقی’ کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے۔

ہم نے تو اسے راہ دکھائی تو اب وہ خواہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا” (سورہ الدھر3 )

یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدل دیا جائے۔ (سورہ النجم)

٥: نتیجہ

کوشش انسان کے ہاتھ میں ہے مگر موافق و مخالف نتیجہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اسی لئے شریعت میں ہم صرف کوشش کے مکلف ہیں نتائج کے نہیں۔ گو عموم میں اس دارالا متحان کا اصول یہی ہے کہ اچھے برے دونوں اقدام کو انسان کے مطلوبہ نتیجے تک پہنچنے دیا جائے۔ مگر دو صورتوں میں قادر المطلق نتیجہ انسانی ارادے کے برخلاف کردیتے ہیں۔پہلا جب کی گئی کوشش رب کے مجموعی نظام و مشیت یعنی اس کے کائناتی گرینڈ پلان سے ٹکراتی ہو۔ دوسرا جب کسی کی دعا اس عمل کے خلاف مقبول ہوچکی ہو۔ چنانچہ بعض اوقات ایک قاتل اپنے ارادہ و اختیار سے گولی چلاتا ہے مگر گولی اسی بندوق میں اٹک جاتی ہے اور یوں اس کا ارادہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرپاتا۔

اور پھر اس کے باغ کے پھل آفت میں گھیر دیئے گئے تو وہ ان اخراجات پر ہاتھ ملنے لگا جو اس نے باغ کی تیاری پر صرف کئے تھے جب کہ باغ اپنی شاخوں کے بل اُلٹا پڑا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش میں کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بناتا (سورہ الکہف42)

عظیم الرحمٰن عثمانی

About عظیم الرحمٰن عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *