Home / 2018 / رسائل و مسائل

رسائل و مسائل

سوال و جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

محترم بھائی آپ سے سوال یہ   ہے کہ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاه کا کیا مطلب ہے اور اس آیت کی روشنی میں کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرنافرمانی شرک ہے؟ اگر ہے تو انسان کو ایک محال کا مکلف کیوں بنایا گیا؟ اور اگر اس آیت مبارکہ کا یہ مفہوم نہیں تو ان الفاظ کا کیا تقاضا ہے؟ براہ کرم اس کی وضاحت کردیں ۔ اللہ آپ کو جزائے خیرسے نوازیں۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا احوال ہیں؟ آیت کریمہ کی یہ تفسیر کہ جو شخص بھی خواہشات کے پیچھے لگ جائے، ایک نہایت ہی شدت پسندانہ تعبیر ہے اور یہ طریقہ خوارج ہی کا رہا ہے۔

آیت کریمہ کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ یہاں وہ شخص زیر بحث ہے جس نے خواہشات کو اس درجے میں ترجیح دے دی ہے کہ گویا یہی اس کی معبود ہیں۔ اسے کسی اور چیز کی پرواہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے نزدیک اپنے حقیقی خدا کی اہمیت ہی نہیں ہے۔

ہمارے جیسے عام لوگوں کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم ایسا نہیں کرتے کہ خواہشوں کو معبود بنا لیں بلکہ کبھی ان سے مغلوب ہو کر گناہ کر بیٹھتے ہیں اور پھر جب ہوش آتا ہے تو اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کا اطلاق عام آدمی پر نہیں ہوتا۔ یہ صرف اسی شخص پر ہوتا ہے جو گناہوں کی دلدل میں پوری طرح دھنس جائے۔

آیت کریمہ کا یہ مفہوم اخذ کر لینا کہ ہر نافرمانی شرک یا کفر ہے، وہ نقطہ نظر ہے جو پہلی صدی ہجری میں خوارج نے اختیار کیا اور اس کی بنیاد پر حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما جیسے نہایت  القدر صحابہ کو بھی کافر قرار دے کر ان کے قتل کو جائز قرار دیا۔ خوارج کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے آیات کریمہ کی انتہا پسندانہ تشریح کر کے ہر گناہ گار کو کافر قرار دے دیا اور پھر کفر کے فتوے پوری امت پر صادر کر دیے۔ ہمیں آیات کریمہ اور احادیث نبویہ کی انتہا

 پسندانہ تعبیر سے گریز کرنا چاہیے بلکہ پورے سیاق و سباق کو دیکھ کر ہی نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔

والسلام

مبشر نذیر

About محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *