رسائل و مسائل

سوال و جواب

سوال: السلام علیکم میں نے اپنی کوشش سے اپنے والد کے لیے  عربی میں دعا بنائی ہے۔برائے مہربانی اس کا گرامر چیک کرکے جواب دیں۔ دعا یہ ہے۔اللہم یغفر والدی واعطوا مکاناً فی الجنہ

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہمارے یہاں دعا پڑھنے کا رواج ہوگیا ہے  اور رب تعالی سے مانگنا کہیں پس پشت چلا گیا ہے۔ کیونکہ ہم عموما منقول الفاظ کو بغیر سمجھے ہی دہراتے رہتے ہیں تو جب تک سمجھے بغیر ہم مانگیں تو اس میں وہ تاثیر پیدا نہیں ہوسکتی جو ہونی چاہیے۔ ایک اور بات مد نظر رہے کہ عربی میں دعا مانگنا ضروری نہیں ہے بلکہ دعا کے لیے کسی بھی زبان کے الفاظ استعمال کرنا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ زبان حال سے جو دعا نکلتی ہے اس کے بارے میں ہم رب تعالی سے بہت امید رکھتے ہیں اور اس کی ایک اپنی ہی کیفیت ہوتی ہے۔

اس ضمن میں ایک اور اہم بات کہ منقول ومسنون دعائیں یعنی دعا کے لیے وہ الفاظ کو قرآن مجید سے لیے گئے ہوں یا رسول کریم ﷺ سے منقول ہوں، ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ رب تعالی کی معرفت جس قدر رسول کریم ﷺ کو ایک امتی کے نصیبے میں اس قدر نہیں ہوسکتی۔ تو اگر منقول الفاظ دعا کے لیے استعمال کیے جائیں لیکن ساتھ میں ان کے معانی ومطالب کا بھی علم ہو تو پھر سونے پہ سہاگہ ہے۔اس لیے آپ اپنے والدین کے لیے یہ دعا مانگ سکتے ہیں جو قرآنی الفاظ بھی ہیں:

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

اسے اللہ مجھے، میرے والدین اور تمام مؤمنوں کو معاف فرمانا اس دن جب حساب قائم ہوگا۔

جو الفاظ آپ نے بنائے ہیں یعنی  (اللہم یغفر والدی واعطوا مکاناً فی الجنہ ) تو اس میں یغفر استعمال نہیں ہوگا کیونکہ یہ مضارع کا لفظ ہے اور اس کے بعد آپ نے ”اعطوا” جمع کا لفظ استعمال کیا ہے۔امید ہے بات واضح ہوگئی ہوگی۔

مفتی شکیل عاصم

About مفتی شکیل عاصم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *