Home / شمارہ اگست 2018 / رسائل و مسائل

رسائل و مسائل

سوال: السلام علیکم

ہمارا قومی فریضہ ٹیکس کی ادائیگی ہے جبکہ مذہبی فریضہ ادئیگی زکوٰۃ بھی ہے۔ یہ تو دوہرا ٹیکس ہے۔ اس صورتحال میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

زکوۃ سے ٹیکس کو منہا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ زکوۃ اور ٹیکس میں کئی طرح فرق ہے۔ مثلا زکوۃ اور ٹیکس کے مصارف کئی جگہ مختلف ہوجاتے ہیں، جبکہ  زکوۃ کے بارے میں واضح  ہے کہ وہ صرف آٹھ مصارف میں خرچ کی جاسکتی ہے، جو قرآن مجید نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے زکوۃ کی فرضیت سال گزرنے پر ہوتی ہے جبکہ ٹیکس کی ادائی کے اوقات کار کئی اعتبار سے   مختلف ہوجاتے ہیں۔ تیسرے دونوں کے نصاب میں فرق ہے۔ پھر کئی امور میں یہاں یعنی ٹیکس میں صاحب نصاب وغیرہ کو بھی  نہیں دیکھا جاتا۔  دونوں کی مقدار میں فرق ہے۔  ایک مشہور اختلافی فرق بھی یہاں ہے کہ زکوۃ میں مین اسٹریم کے نزدیک تملیک ضروری ہے جبکہ ٹیکس میں اس طرح کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا۔ ایک اور بات کہ  زکوۃ میں  مقصود تزکیہ نفس ومال ہوتا ہے  جبکہ یہاں عموما یہ چیز مفقود ہوتی ہے۔

اس کے جواز کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ حکومت امانت دار ہو، وہ یقین دلائے کہ عوام کے ٹیکس کی رقم انہی مدوں میں خرچ کی جائے گی جو زکوۃ کے لیے مختص ہیں۔ اور ساتھ میں صاحب نصاب کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ٹیکس سے زکوۃ کی ادائی کی نیت نہیں کی جاسکتی۔ مستحقین کو زکوۃ دے کر الگ سے اپنے مال کو پاک کیا جائے گا۔

والسلام

مفتی شکیل عاصم

About مفتی شکیل عاصم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *