Home / شمارہ دسمبر 2017 / رسالت ِ نبوی کا ثبوت۔۔۔ ایک استفسار

رسالت ِ نبوی کا ثبوت۔۔۔ ایک استفسار

تحریر: محمد مبشر نذیر

سوال:  تاریخ میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے جن میں سے بہت سوں کو مسلمان سچا اور بہت سوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ کیا ایسا کوئی معیار (Criteria)   موجود ہے جس کی بنیاد پر یہ جانچا جاسکے کہ حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں؟

جواب:   نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ منصب ہیں جن پر اس نے اپنے منتخب بندوں کو فائز کیا ہے۔ نبی و رسول کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مدد (Support)   حاصل رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے ۔ رسول کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم پر اللہ کی برہان قاطع بن کر آتا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر اس کی قوم نے خدا کی طرف رجوع نہ کیا تو اس پر اسی کی زندگی میں ایک عذاب آئے گا  جس میں نہ ماننے والے تہس نہس کر دیے جائیں گے۔ یہ سلسلہ حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔

تاریخ عالم گواہ ہے کہ سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم، لوط، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام نے اسی دعوے کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب کیا۔ جب ان کی قوموں نے ان کی بات نہ مانی تو ایک مخصوص وقت کے بعد ان کی قوموں کو تہس نہس کر دیا گیا۔ یہ عذاب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کے سچے رسول ہیں کیونکہ ان انبیا کے علاوہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے سے خبردار کرکے کوئی آسمانی یا زمینی آفت کسی قوم پر مسلط کی گئی ہو۔

 حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آپ نے اپنے مخاطبین کو اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کے اقرار کی دعوت دی۔ جن لوگوں نے انکار کیا، ان پر یہ عذاب آسمانی آفت کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تلواروں کے ذریعے آیا۔  مشرکین عرب کو موت کی سزا دی گئی اور یہود و نصاریٰ پر محکومی اور جزیہ کا عذاب مسلط کیا گیا۔ اس پورے واقعے کی تفصیل قرآن میں درج کر دی گئی جس کے تاریخی وجود میں اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔  ا س واقعے سے یہ حقیقت مبرہن ہوتی ہے کہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے رسول ہیں اور آپ کی رسالت واقعتا اللہ ہی کی جانب سے ہے۔

          دل چسپ بات یہ ہے کہ نبوت و رسالت کے وہ دعوے دار ،جنہیں امت مسلمہ نے دجال اور کذاب قرار دیا ہے، کے ہاں ایسی کسی واضح نشانی کے آثار نہیں ملتے۔ ان کی زیادہ تر تعلیمات  کا منبع ان کے اپنے خواب اور الہام ہوتے ہیں ۔ اپنی ذات سے باہر کی دنیا میں وہ کوئی ایسی نشانی پیش نہیں کرسکتے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ وہ واقعتا اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا رسول ہیں۔

About محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *