Home / رمضان سپیشل / رمضان المبارک کے فضائل

رمضان المبارک کے فضائل

 رمضان مسلمانوں کے لئے مقدس اور متبرک مہینہ ہے۔اسی مہینے میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی رہنمائی کے لئے قرآن نازل فرمایا۔اس مہینے میں مسلمان روزہ رکھتے ہیں،ہر مسلمان نمازوں کاپابند ہونے کی کوشش کرتا ہے۔اس ماہ مبارک میں کئے جانے والے اعمال کثرت سے تلاوت ِ قرآن ، نماز تراویح، اعتکاف، زکوة،صدقہ فطرہ وغیرہ ہیں۔ اسی ماہِ مبارک میں ایک رات وہ بھی ہے جوہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے جسے ہم شبِ قدر کہتے ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہ مہینوں میں سے صرف رمضان کاہی نام لیا ہے۔ اس ماہ کو ماہِ صیام (صوم کی جمع ) کہتے ہیں۔ صوم عربی میں روزہ کو کہتے ہیں، روزہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ روزے کی فضیلت میں بہت احادیث وارد ہوئی ہیں۔

 روزے کی فضیلت

(1) حضرت ابوامامہ باہلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ رکھا کرو کیونکہ اس کے برابرکوئی عمل نہیں ہے۔“(سنن نسائی:2224)

(2) اسی طرح حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”انسان کے ہر نیک عمل پر اسے دس گنانیکیاں ملتی ہیں۔ مگر روزہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں اس کا اجر (بے حساب) دوں گا۔“(سنن نسائی:2221)

(3) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام”باب الریان“ ہے، قیامت کی دن اس میں سے صرف روزے دار داخل ہوں گے اور کوئی نہیں داخل ہوگا۔ اعلان کیا جائے گا:”روزے دار کہاں ہیں؟“ جب سب روزے دار داخل ہوجائیں گے تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گا اور دوسراکوئی بندہ وہاں سے داخل نہیں ہوگا۔“ (صحیح بخاری:1896)

(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو قید کردیا جاتا ہے۔ جہنم کے تمام دروازے بند کردیے جاتے ہیں، کوئی دروازہ کھلا نہیں رکھا جاتا اور جنت کیےتمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور کوئی دروازہ بند نہیں رکھا جاتا اور ہر رات ایک منادی اعلان کرتا ہے:”ائے نیکی کی متلاشی! تو آگے بڑھ۔ ائےگناہوں کی طلبگار!اب تو بازآجا۔“(جامع ترمذی:682)

(5) ارشاد نبویﷺ ہے: پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سےدوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، اگر بڑے گناہوں سیےاجتناب کیا جائے تو یہ سب درمیانی عرصے کے گناہوں کوختم کردیتی ہیں۔“(صحیح مسلم:233)

(6)رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:”قیامت کے دن روزہ اور قرآن مجید دونوں بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہےگا:ائے اللہ!میں نےاس کو کھانےپینے اور خواہش نفسانی سے روکے رکھا تھا، تو اس کی حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن مجید کہے گا:ائے اللہ! میں نےاس کو رات کی وقت نیند سے روکےرکھا تھا (یہ رات کو قرآن کی تلاوت کرتا رہتا تھا،) تو اس کی حق میں میری سفارش قبول فرما۔ (آپ ﷺنےفرمایا:) ان دونوں کی سفارش منظور کرلی جائے گی۔“ (مسند احمدبن حنبل :355/3)

About ڈاکٹر سید بلال ارمان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *