Home / رمضان سپیشل / رمضان اور اُخروی ہلاکت

رمضان اور اُخروی ہلاکت

دین اسلام محبت ، سلامتی اور خیر خواہی کا مذہب ہے ۔ اپنے پیروکار سے اس کا یہی مطالبہ ہے کہ وہ خیرخواہی کا ہی منبع بنے۔مجموعی طور پر اس خیرخواہی کا کمال  ظہورِ رمضان المبارک میں ہوتا ہے جب  ہر سو رحمتیں ہی رحمتیں نظر آتی ہیں۔ نیکیوں کا ایک سمندر  اس ماہ مبارک میں جوش مارتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر فرد پورے معاشرے کے ساتھ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا  ہونے  کی کوشش کرتا ہے اور یہ سب کچھ محض اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ یہ ماہ مبارک ہماری نجات کا ضامن بن جائے۔ لیکن  ایک نگاہ اس تلخ حقیقت پر بھی ڈال لینی چاہیے کہ یہ ماہ مبارک جہاں کئی لوگوں کے  لیے جہنم کی آگ سے خلاصی کا ضامن بنتا ہے تو کئی ایسے بد نصیب بھی ہیں جنھیں اس ماہ مبارک سے ہلاکت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔صحیح حدیث میں یہ  واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب جبرائیل امین علیہ السلام پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے  اور بد دعا فرمائی کہ ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کرالے۔ اس دعا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی۔

یہ تصور ہی بحیثیت مسلمان ہم پر لرزہ طاری کردینے کے لیے کافی ہے  کہ فرشتوں کے سردار کی بد دعا پر  نبیوں کے سردار آمین کہہ دیں  جس کے بعدہمارے لیے نجات کی کوئی بھی راہ باقی نہیں رہتی۔ہم گناہ گاروں کے لیے تو یہ اندیشہ ہر آن موجود ہے کہ کہیں ہم بھی خدا نخواستہ اس بد دعا کی زد میں تو نہیں آرہے؟  فی الواقع ہمارے روزے ہمارے لیے  نجات کا سامان بن رہے ہیں یا  ہلاکت کا؟

کروڑوں سلام ہو اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، جس نے ہمیں بتا دیا کہ کس طرح ہم  رمضان میں اس اخروی ہلاکت  خیزی سے بچ  سکتے ہیں۔پیارے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

جو شخص (روزے کی حالت میں) لغو و باطل کلام اور بے ہودہ افعال نہ چھوڑے گا تو اللہ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہو گی کہ اس نے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ (صحیح بخاری)

اس  جامع فرمان میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے   ہمیں دو چیزوں کا ذکر کرکے  بتا دیا کہ وہ کون سے امور ہیں جنھیں روزے کی حالت میں ملحوظ خاطر نہ  رکھا گیا تو یہ روزہ ہمارے لیے  کوئی فائدہ نہیں دے گا۔بالفاظ دیگر ہمیں اپنے روزے میں کن دو باتوں کا خاص خیال رکھنا ہے  جس سے ہم نبی اور فرشتے  کی بدعا کی زد میں آنے سے بچ سکتے ہیں۔

باطل  کلام:    لغو و باطل کلام سے مراد وہ باتیں ہیں جن کو اپنی زبان سے نکالنے میں گناہ لازم آتا ہے یا جس سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہو۔رمضان المبارک میں اس حوالے سے ہماری کوتاہی بالعموم تلخ کلامی، غیبت اور جھوٹ سے متعلق ہوتی ہے۔

باطل افعال: باطل افعال سے مراد ہماری ذات سے سرزد ہونے والے وہ تمام افعال ہے جس کی ممانعت  شریعت میں کی گئی ہے اور جس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف پہنچے۔ بالعموم دیکھا جاتا ہے کہ رمضان کے روزوں کے ساتھ دھوکہ دہی، چیزوں کو مہنگا فروخت کرنا، بات بات پر لڑائی جھگڑا  کرنا،  ٹریفک سگنل توڑنا، غلط پارکنگ ،سے لوگوں کو  تکلیف دینے کا عمل جاری رہتا ہے ۔ یہ تمام باطل افعال ہمارے لیے رمضان کو ہلاکت کا باعث بناسکتے ہیں۔

ایک سادہ سی بات/ذہن نشین کرلیں

اگر آپ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کو اپنے قلب و ذہن کے ہر ایک گوشے میں بٹھا لیں تو   آپ اس بد دعا سے بچ سکتے ہیں جس پر پیغمبر صلی اللہ وسلم نے آمین کہی۔ فرمانِ رسول ہے:

المسلم من سلم المسلمون من السانہ ویدہ

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔(متفق علیہ)

اس  فرمانِ مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے باطل کلام اور باطل افعال کے برعکس   مومن کا ایک صحیح رویہ  واضح کردیا ہے جو صرف رمضان المبارک نہیں بلکہ پورے سال ایک مسلمان  کی زندگی کا اصول رہنا چاہیے۔ تاہم رمضان میں  تو اس حوالے سے خاص طور پر ہمیں  احتیاط کرنی چاہیے۔ ہم  اپنے روزوں کے وسیلے سے اخروی نجات کے خواہش مند ہیں اور    اس خطرناک بد دعا سےبچنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف یہ سادہ سا اصول  اختیار کرلینا ہے کہ ہمارے قول و فعل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اس حوالے  سے سب سے اہم  بات لڑائی جھگڑے سے پرہیز اور درگزر کرنا  ضروری ہے کیونکہ  یہی وہ شنیع عمل ہے جس میں ہم بیک وقت اس بددعا  کی زد  میں لانے والے اعمال یعنی باطل کلام اورباطل افعال کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ خواہ کسی معاملے میں غلطی دوسرے شخص کی ہی کیوں نہ ہو، ہمیں ہر موقع پر، رستے میں، ٹریفک میں، سامان لیتے ہوئے قطار میں،  کاروبار اور آفس میں، درگزر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور اتنی سی بات یاد رہنی چاہیے کہ

’’ہمارے زبان اور ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے‘‘

اگر ہم یہ کام نہیں کرسکتے تو ہمیں  یقین کرلینا چاہیے کہ یہ روزے ہمارے لیے خیر و سلامتی کے بجائے ہلاکت خیزی کا سبب بنیں گے۔

 

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *