Home / شمارہ جون 2018 / رمضان اور ہماری ڈسچارج روحیں

رمضان اور ہماری ڈسچارج روحیں

تحریر: آمنہ آفتاب

آج کل مہمان کی آمد پر اہتمام والی باتوں نے شاید لوگوں پر اثر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب کہاں مہمانوں کی آمد پر اہتمام اور صفائیاں ہوتی ہیں، سوائے ہم جیسے لوگوں کے گھروں میں کہ جہاں چھوٹے بچوں کی موجودگی میں گھر کاٹھ کباڑ کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اب تو صرف ایک ڈرائینگ روم ہوتا ہے، جسے مہمان کی آمد سے قبل سجا سنوار کر دروازہ بند کر دیا جاتا ہے کہ بالکل صاف ستھرا رہے۔ واضح رہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے، رحمتوں کا کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے۔ مہمان خصوصی کی آمد پر تو دگنا تگنا اہتمام کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ماہ رمضاں رحمتوں کا مہینہ ہم پہ سایہ فگن ہے جو رب العالمین کی طرف سے ہمارے گھر مہمان بن کر آتا ہے۔ اس کے استقبال سے لے کر اختتام تک بہترین انداز اپنانا چاہیے۔

 آئیں ذرا کوئی اور استعارہ تلاش کریں، جو مہمان کی مثال سے بہتر تو نہیں مگر حسب حال ضرور ہو۔

فرض کیجئے، ایک گھر میں سب کے پاس موبائل موجود ہیں، کچھ اچھے، کچھ خراب، کسی کا مہنگا فون ہے تو کسی کا سستا، کوئی پرانا لیے پھرتا ہے تو کوئی نیا۔ ایک اپنا فون بہت احتیاط سے رکھتا ہے تو دوسرا بس گراتا پڑاتا ہی رہتا ہے۔ مگر گھر میں یہ اصول طے ہے کہ موبائل دن میں صرف  دو گھنٹے ہی چارج کیا جاسکتا ہے تو اب کیا صورتحال ہوگی؟ یوں کہہ لیجئے کہ ایک بہترین قسم کا چارجر ہے جس پر جلد چارجنگ ہوگی اور موبائل بھی دیر سے ڈسچارج ہوگا۔ جن دو گھنٹوں میں موبائل چارجر پر لگے ہوں گے اس وقت سب لوگ اپنے موبائلوں کو بس چارج کرنے پر ہی دھیان دیں گے کہ محدود وقت میں موبائل چارج کر کے اسے بقیہ گھنٹوں میں استعمال کرنا ہے، اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ لہٰذا چارجنگ کے دوران وہ اپنے موبائل پر بہت ضروری کال اور پیغامات کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے، ہے نا؟

اس کے علاوہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ چارجنگ ڈیوائس کتنی بھی اچھی ہو، موبائل فون کی کارکردگی تو اس کی اپنی ذات یعنی کوالٹی پر ہی منحصر ہے۔اسی طرح چارجر خواہ کتنا ہی عمدہ ہو، وہ دو ہزار والے فون کو بیس ہزار والے جیسا نہیں بنا سکتا۔

 اب آتے ہیں اصل بات کی طرف،  غور کیجئے، ہماری روحیں ڈسچارج ہیں ہمارے موبائل کی طرح۔ ایک رمضان کا مہینہ آتا ہے ان

کو چارج کرنے کا، اللہ سے کنیکشن مضبوط کرنے کی نوید لے کر۔ ہمیں ان تیس دنوں کو ضائع نہیں کرنا کہ وقت محدود ہے، اس کا لمحہ لمحہ کشید کرنا ہے۔ اپنے ایمان کو تازہ کرنا ہے، تاکہ اگلے سال تک کی شیطانی لوڈشیڈنگ کا مقابلہ کر سکیں- اس پورے ماہ میں ہم نے بھی اپنے جسم و روح سے صرف وہی کام لینے ہیں جو لازمی نوعیت کے ہوں تاکہ توجہ  بھٹکے نہیں، عبادت پہ ارتکاز قائم رہے۔

اور ہم نے یہ بھی سمجھنا ہے کہ ہر ایک کا دل ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر قلب پر وارد ہونے والی کیفیات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اس پر ملول ہونے کے بجائے صرف تقویٰ اور تقویتِ قلب میں کمال حاصل کرنے کی کوشش کریں- یہ وقت نیکی و اجر کا ایسا قیمتی خزانہ ہے جو ہر سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے لیکن صرف خوش نصیب لوگ ہی اس خزانے سے خود کو مالا مال کرتے ہیں۔ بقیہ بے خبر پڑے ایمان کی حلاوت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اور جس طرح دو گھنٹے موبائل چارج کر کے اگلے کئی گھنٹوں تک اسے استعمال کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہماری ڈسچارج روحیں ماہ رمضان میں روزے سے تقویت حاصل کرتی ہیں اور اگلا سارا سال گناہوں سے بچتے ہوئے نیکی کی راہ پہ چلنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ اس مقصد کو قطعاً نظرانداز مت کریں کہ رمضان صرف عبادت ایک مہینے تک محدود رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بونس مہینہ ہے جس میں آپ کی نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور اگلے پورے سال کے لیے تربیت بھی ہوجاتی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اس رمضان المبارک میں ہمیں اپنے ایمان کو سو فیصدی چارج کرنے والا باعمل مسلمان بنائے اور ہمیں وہ بنا دے جس میں اس کی رضا ہے۔ آمین

About آمنہ آفتاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *