Home / رمضان سپیشل / رمضان سے استفادہ کا کلیدی نسخہ

رمضان سے استفادہ کا کلیدی نسخہ

اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو ایک تربیتی کورس  کی مانند بنایا ہے۔جس کا صحیح فہم حاصل کر کے اسے گزاریں تو یقینا ہماری آئندہ زندگی  تبدیل ہو سکتی ہےاس مہینےسے استفادے کی بنیادی کلید “عظمت” ہی ہے اور اس سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ “استخفاف” یعنی اس ماہ کے احکامات کو ہلکا اور معمولی سمجھنا ہے۔

اس کلید کو سمجھ کر جب ہم بخیر و خوبی اس تربیتی کورس سے گزریں گے تو اس کے خاص اسباق یعنی روزے ، تراویح، اعتکاف، ذکر، تسبیح، تلاوت سے ہمارے اندر نورِمعرفت پیدا ہو گا جس کو رمضان کے بعد بھی تمام سال برقرار رکھا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس کی تقویت کے لیے اگلے سال” ریفریشر کورس ” کے طور پر یہ اس ماہ کی مبارک ساعتیں پھر آ موجود ہوں گی بشرطیکہ ہماری زندگی نے مہلت دی ۔اس بنیادی چیز کو سمجھ کر مندرجہ ذیل  باتوں  کے ذریعے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہماری عملی زندگی میں رمضان کا مہینہ کیا  اہمیت  رکھتا ہے ۔

سیرت طیبہ کے اوراق بتلاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام سال اس ماہ مبارک کا انتظار فرماتے اور پورے اہتمام کے ساتھ رمضان کا استقبال کیا کرتے تھے۔شعبان میں ہی روزوں کا آغاز فرما دیتے،رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھتے،”اللہ سب سے بڑا ہے،اے اللہ یہ چاند ہمارے لیے امن و ایمان ،سلامتی اور اسلام کا چاند بنا کرطلوع فرمائیے،ان کاموں کی توفیق کے ساتھ جو آپ کو محبوب اور پسند ہیں،اے چاند!ہمارا  اور تیرا رب اللہ ہے۔”(ہر مہینے میں نیا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہیے)اس مہینے کی کچھ خصوصیتیں اور آداب ہیں۔

قرآن پاک سے خصوصی مناسبت کا مہینہ

اس مہینے کو قرآن پاک سے خصوصی مناسبت ہے۔قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا۔قرآن پاک زیادہ سے زیادہ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کثرتِ تلاوت سے کہیں زیادہ مقصد یہ ہو کہ اسے سمجھ کر اثر لیا جائے۔

صبر کا مہینہ

یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔مشقتوں کو مصیبتیں نہ سمجھیں،یہ سخت محرومی کی بات ہے۔ہم لوگ دنیا کے معمولی فائدوں کی خاطر کھانا پینا،آرام و سکون چھوڑ دیتے ہیں تو کیا رضائے الہی کے مقابلہ میں ان چیزوں کی کوئی وقعت ہو سکتی ہے؟

غم خواری کا مہینہ

اس مہینے میں لوگوں کے ساتھ غم خواری کا درس ملتا ہے۔غربا و مساکین کے ساتھ مدارات کا برتاؤ،افطار کے لیے جو کچھ تیار کریں کچھ حصہ غربا کا نکالیں اس کی جس قدر بھی ہمت  ہو سکے اپنے عمل کا حصہ بنائیں۔ غریبوں ،بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کریں،یہ خبر گیری مالی ہمدردی بھی ہو سکتی ہے اور زبانی ہمدردی بھی۔ایثار و سخاوت کے ضمن میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےصد ہا واقعات ہیں جن کو دیکھ کر سوائے حیرت کے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ میری امت میں ہر وقت پانچ سو برگزیدہ بندے رہتے ہیں۔جب کوئی شخص ان میں سے مر جاتا ہے تو فورا دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے،صحابہ نے عرض کیا کہ ان لوگوں کے خصوصی اعمال کیا ہیں؟تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ظلم کرنے والوں سے درگزر کرتے ہیں اور برائی کا معاملہ کرنے والوں سے بھی احسان کا برتاؤ کرتے ہیں اور اللہ کے عطافرما ئے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کا برتاو کرتے ہیں۔اس مہینے میں خصوصیت کے ساتھ اپنے گفتار اور سلوک میں اہتمام کے ساتھ نرمی پیدا کرنی چاہیے۔ملازمین کو  بھی رعایت دیجیےاور اسے پھر آئندہ پورے سال کے لیے اپنا معمول بنا لیں۔

نیکیوں کی لوٹ سیل کا مہینہ

اگر ہم کسی ایسی لوٹ سیل سے بھرپور مستفید ہونا چاہتے ہیں جس کا نفع ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہو تو وہ ہے ماہ رمضان المبارک میں نیکیوں کی لوٹ سیل۔اس ماہ مبارک  میں  ہر نیکی کا اجر ستر گنا زیادہ ملتا ہے ۔رمضان میں نوافل کا ثواب فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے اور ایک فرض  کا اجر ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں،نیکی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔اس لیے اس لوٹ مار سے فائدہ اٹھائیے اور فرائض و نوافل کی ادائیگی میں لگ جائیے۔

رحمتِ خداوندی کی برسات

اس ماہ رحمتِ خداوندی کی برسات ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔پہلے عشرے میں خصوصی رحمتوں کا نزول جاری رہتا ہے،دوسرے عشرے میں مغفرت  و بخشش کا دربار عام لگ جاتا ہے،تیسرے عشرے میں جہنم سے نجات کے سرٹیفیکٹ جاری کیے جاتے ہیں۔یہ سب کچھ اللہ کے ان خاص  بندوں کو حاصل ہوتا ہے جو خواہ  اہل دنیا کی نظروں میں بے حد عام ہوں۔یہ خاص الخاص بندے اس نور ِمعرفت کو رمضان گزرنے کے بعد بھی محسوس کرتے ہیں۔

ان تمام رحمتوں ،برکتوں اور مغفرتوں کا حصول اسی وقت تک ہے جب تک ہم اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے کی بھی پوری کوشش کریں۔یہ نہ ہو کہ دیدہ دانستہ اور بے خوف و خطر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے رہیں،ایسی صورت میں تو اجر و ثواب کی بجائے خدشہ ہے  کہ کہیں ہماری گزشتہ نیکیاں بھی ڈوب نہ جائیں۔

دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ

بلا شبہ یہ مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔خاص طور پر افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رَد نہیں کی جاتی۔دو دعائیں  اللہ سے بطور خاص  اپنے لیے بھی کریں  اور اپنے والدین،اہل و عیال اور تمام مسلمانوں کے لیے کریں ۔ایک یہ کہ اللہ ہم سب  کو اپنی رضا اور جنت عطا فرمائیں اور دوسرے یہ کہ ہم سب کو اپنی ناراضگی  اور دوزخ سے پناہ میں رکھیں ۔

اللہ پاک ہم سب کو اس ماہ مبارک کی کماحقہ قدر کرنا نصیب فرمائیں  اور ہمارے لیے اس رمضان کو اگلے رمضان تک گناہوں کا کفارہ بنادیں۔آمین

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *