Home / رمضان سپیشل / رمضان میں کرنے والے اور نہ کرنے والے کام

رمضان میں کرنے والے اور نہ کرنے والے کام

عروسہ کچھ دنوں سے دل ہی دل میں پریشان اور بوکھلائی سی رہتی تھی ۔ گھر کی ذمہ داریاں تو اچھے سے پوری کر رہی تھی ۔کسی کو کوئی شکایت نہیں تھی ۔ لیکن اماں جانی کی دور اندیش نگاہیں محسوس کر رہی تھیں کہ عروسہ کسی الجھن میں ہے لیکن پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ہو سکتا ہے صائم نے کچھ کہہ دیا ہو ، میاں بیوی کا کوئی معاملہ ہوگا خود ہی ایک دن بعد ٹھیک ہو جائے گی ۔ یہ سوچ کر اماں جانی نے نظر انداز کر دیا ۔انہیں اپنے بیٹے کا مزاج معلوم تھا ، غصہ جلدی آ جاتا تھا اس معاملہ میں وہ اپنے باپ پر گیا تھا ۔

اماں جانی اپنے کمرے میں نماز اور اذکار میں مصروف رہتیں اور قرآن بھی ترجمہ سے پڑھتی رھتی ۔ انہیں اپنی بہو عروسہ اور بیٹے صائم سے بہت پیار تھا اور اپنی ایک سال کی پوتی  “حمنہ” میں تو اماں جانی کی جان تھی ۔ کہتے ہیں نا کہ اپنی اولاد کی اولاد زیادہ پیاری لگتی ہے ۔ اماں جانی اکثر چھوٹے بیٹے کو یاد کرکے اداس ہو جاتی تھیں جو” بی ایس ” کرنے کے لئے  اسلام آباد گیا ہوا تھا ، روزانہ فون پر بات ہو جاتی تھی۔

جب عروسہ کھانا بنانے کچن میں جاتی تو اماں جانی حمنہ کو اسٹرولر میں بٹھا کر باہر لان میں لے جاتی ، گملوں اور پودوں کو دیکھتی رہتی کہ مالی بابا نے پودوں کو پانی دیا ہے ؟ اور مرجھائے ہوئے پھولوں کو صاف بھی کیا ہے یا نہیں؟  اماں کو گلاب اور موتیے کے پھول بہت پسند تھے ان کا خاص خیال رکھتیں ۔

آج اتوار کا دن تھا اور صائم گھر میں تھا ۔ چھٹی کے دن کھانا اسپیشل صائم کی پسند پر بنتا تھا ، عروسہ اماں جانی کے کمرے میں آئی اور کہا ! کہ:” آج کھانے میں بریانی کی فرمائش ہے آپ کے بیٹے کی ، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں آپ کے لئے کھچڑی کے ساتھ ہلکی مرچ والا مٹن کری کا سالن بنا لوں” ؟

اماں جانی کو اب بھی بہو کا لہجہ اداس اور بجھا سا لگا ۔اب ان سے رہا نہ گیا ۔ انہوں نے کہا:” ٹھیک ہے بیٹی کھانا بنا لو اور حمنہ کو میرے کمرے میں بٹھا جاؤ اور آج فارغ ہو کر ذرا میرے کپڑوں کی الماری ٹھیک کر دینا ، سب کپڑے اوپر نیچے ہو گئے ہیں ۔”

“ٹھیک ہے میں کر دوں گی ، یہ کہہ کر عروسہ کچن میں چلی گئی ۔”

 شام کی چائے سے فارغ ہو کر عروسہ اماں جانی کے کمرے میں آئی اور بڑے پیار سے اماں جانی سے پوچھنے لگی کہ:” اب تو موسم بدل رہا ہے زیادہ گرم سوٹ اور سویٹرز وغیرہ بیگ میں بند کر کے رکھ دوں ۔”

اماں جانی نے کہا :”عروسہ بیٹی یہ سارا کام کل کر لینا ۔ابھی میرے پاس بیٹھو ۔ بہت دن ہو گئے تم میرے پاس نہیں بیٹھی اور میں دیکھ رہی ہوں تم کچھ الجھی الجھی لگ رہی ہو ۔ بتاؤ صائم نے کچھ کہا ۔”

 اب تو عروسہ کی برداشت بھی جواب دے گئی تھی اور پھر اماں جانی کے پیار بھرے انداز نے سارے بند توڑ دیئے ۔ عروسہ نے اماں جانی کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا ۔اماں بھی اسے پیار سے تھپکی دیتی رہی جب غبار چھٹ گیا تو عروسہ نے اپنے دل میں پیدا ہونے والے سارے خدشات اماں جانی کے گوش گزار کر دیے ۔

 “اب اماں جانی آپ ہی بتائیں شعبان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے اور رمضان کے لئے ابھی تک کوئی تیاری نہیں ہوئی ۔صائم سے بات کی ہے لیکن وہ کہتے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو ۔ اماں جانی صائم کو اپنے آفس کولیگز کو افطاری کروانی ہوتی ہے تو بہت اچھے ریسٹورنٹ میں ، روزانہ افطاری میں ٹیبل پر پکوڑے ، فروٹ چارٹ ، فرنچ فرائز اور نوڈلز بھی چاہیے اور کبھی سکنجین اور کبھی فالسہ کا جوس اور کبھی ملک شیک ۔ اس کے علاوہ کھانے میں بھی مٹن یا چکن کڑاھی یا بریانی اور کبھی پلاؤ وغیرہ ۔رات کو انہیں سویٹ ڈش بھی ضرور چاہیے ، کبھی پڈنگ اور کبھی لب شیریں کی فرمائش اور کبھی پائن ایپل کیک ۔ آپ کو تو پتہ ہے وہ بازار کی چیزیں نہیں کھاتے سب کچھ گھر میں بنے ۔ میرا تو سارا دن کچن میں ہی گزرے گا ، سخت گرمی میں میرا بھی روزہ اور دوسرے گھر کے کام ، اسکے علاوہ ننھی حمنہ کے سارا دن کام ۔ عروسہ پھر رونے لگی اماں جانی میں تھک کے عبادت کیسے کروں گی ؟ قرآن کیسے پڑھوں گی ؟ اور جب میں کتابوں میں پڑھتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلتی ہواؤں سے بھی زیادہ رمضان میں صدقہ اور خیرات کرتے تھے ۔ تو مجھے ڈر لگتا ہے۔ ہم تو اپنا سارا بجٹ خراب کرکے قرضہ چڑھا لیتے ہیں ۔ عید کی شاپنگ بھی صائم چاند رات کو کرواتے ہیں ۔ چاند رات کو بہت رش ہوتا ہے اور ہر چیز کی قیمت دوگنی ہوتی ہے اور غیر محرم لوگوں سے ٹکرانے کا ڈر لگا رہتا ہے ۔شاپنگ بھی صحیح سے نہیں ہوتی اور لگتا ہے سارے روزوں کا اجر ضائع ہو گیا ۔ جب کہ اللہ کی طرف سے چاند رات تو مزدور کو اجرت دینے کی رات ہے ۔”

 اماں جانی نے عروسہ کی بات سن کر اسے پیار کیا اور حوصلہ دیا کہ:” آپ پریشان نہ ہوں ، میں ضرور اللہ کی مدد سے  اس کا کوئی اچھا سا حل سوچتی ہوں ۔”

دوسرے دن اماں جانی نے عشاء کی نماز پڑھ کے نہایت خشوع و خضوع سے دعا مانگی اور جائے نماز رکھ کر صائم اور عروسہ کو اپنے کمرے میں بلایا ۔ صائم کچھ حیران ہوا ، عروسہ سے پوچھا:”اماں کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ، بلڈ پریشر چیک کیا تھا کہیں ہائی تو نہیں” عروسہ نے کہا:” ایسی کوئی بات نہیں اماں تو اپنی دوا کا بھی خیال رکھتی ہیں اور میں بھی ان کے لئے کم نمک والا سالن تیار کرتی ہوں،   آپ ان کے پاس کئی دنوں سے بیٹھے نہیں ہیں آفس سے آتے ہی لیپ ٹاپ پر سارا حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتے ہیں ۔چلیں آج اماں جانی کے کمرے میں بیٹھتے ہیں ، اماں کو بھی آپ ٹائم دیا کریں۔”

دونوں اماں جانی کے کمرے میں آئے تو اماں کے ہاتھ میں ایک نوٹ بک اور پنسل دیکھ کر صائم بے اختیار مسکرا کے بولا :”اماں آپ آج کیا حساب لے کر بیٹھ گئی ہیں ، لائیں میں آپ کا کام کر دوں “۔

 “اسی لئے تو بیٹا تم دونوں کو بلایا ہے ، اب مجھ سے اس عمر میں کہاں لکھا جاتا ہے ۔”

صائم نے کاپی اور پنسل سنبھالی تو اماں نے کہا : “بیٹا ایک طرف لکھو رمضان میں کرنے والے کام اور دوسری طرف لکھو رمضان میں نہ کرنے والے کام ۔”

 صائم نے سوچا تھا اماں گروسری کا سامان لکھوائیں گی اور یہ کیا ؟   اماں جانی بیٹے اور بہو کے تاثرات سے بے نیاز لکھوانے لگ گئیں

 کرنے کے کام :

  1. رمضان کی تیاری کے لئے شعبان سے ہی عمل شروع کریں اور سادگی کو اپنائیں ۔
  2. روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھ ، کان ،دل، زبان اور ہاتھ کا بھی روزہ ہے ان سب سے اللہ کی رضا کے کام کرنے ہیں۔
  3. اپنے گناہوں پر نادم ہو کرغلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں خصوصا رات کے پچھلے پہر سحری سے پہلے ، وہ دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے۔
  4. سحری اور افطاری اعتدال سے کریں کیونکہ یہ صرف طعام کا مہینہ نہیں بلکہ صیام کا مہینہ ہے ۔ بہت مرغن اور پیٹ بھر کر کھانے سے پرہیز کریں ۔
  5. افطاری میں سادہ غذا کھائیں اور اپنے بجٹ میں سے بچا کر ان رشتہ داروں اور ضرورتمند لوگوں کو بھی یاد رکھیں جو تنگدست ہیں اور ایک وقت میں کھانے میں ایک ڈش بنائیں تاکہ بنانے والے کی بھی آسانی ہو اور پیٹ بھر کے کھانے سے بچیں کیونکہ پھر نماز تراویح میں کھڑے ہونے کی ہمت پیدا ہو ، زیادہ کھانے سے سستی پیدا ہوتی ہے ۔
  6. ساری نمازیں با جماعت پڑھیں اور تراویح میں قرآن کا ایک دور ضرور ہونا چاہیے ۔اور گھر میں قرآن کو جتنا آسانی سے ہو سکے ترجمہ اور تفسیر سے پڑھیں تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہمارے رب کے ہم سے کیا تقاضے ہیں اور زندگی شعور سے گزارنے کے کیا اصول بتائے ہیں ۔
  7. افطاری کروانے کا بہت ثواب ہے لیکن نمود و نمائش سے بچتے ہوئے سادگی سے افطاری کروانے کا انتظام کریں ، خصوصا فقرا، مساکین اور ضروتمندوں کو بھی یاد رکھیں۔
  8. ہر کام مسنون طریقہ سے کریں ، مسنون طریقہ سے کئے گئے عمل ہی قبول ہوتے ہیں ، فرائض، نوافل ، اذکار ، اعتکاف ، تلاوت قرآن اور اسلامی لٹریچر ، اسوء حسنہ پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ کریں اور غور و فکر میں اپنا وقت گزاریں ۔ اس سے دل میں اچھے خیالات پیدا ہونگے اور ایک مومن کے لئے یہی اصل طاقت اور روح کی تازگی کا سبب بنتے ہیں۔
  9. عید کی شاپنگ رمضان سے پہلے ہی کرلیں تو بہتر ہے ۔ اپنا بجٹ دیکھتے ہوئے، تاکہ قرضہ لینے کی نوبت نہ آئے اور جب اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے نئے کپڑے اور چیزیں خریدیں تو اپنے قریبی غریب رشتہ دار یا ہمسایہ کے لئے بھی ضرور خریدیں ۔
  10. جو رشتہ دار ناراض ہیں انہیں رمضان سے پہلے ضرور ملنے جائیں ورنہ فون پر خیریت پوچھیں اور عید کے دن تحفہ تحائف بھیجیں اور ملنے بھی جائیں ۔

صائم نے پوچھا اماں اتنا کچھ بتا دیا آپ نے ، ان شاء اللہ میں اور عروسہ ضرور ان باتوں پر عمل کریں گے ۔اماں جانی نے ان کو ڈھیروں دعائیں دی اور کہا کہ میں نے وہ کام تو ابھی بتائے نہیں جن سے ہمیں بچنا ہے ۔ عروسہ نے کہا :”اماں جانی بہت اچھا لگا ، آپ نے تو دل خوش کر دیا ہے اب حمنہ کو سلانا بھی ہے ۔ ہم کل ان شاء اللہ آپ کے پاس ضرور بیٹھیں گے تاکہ رمضان میں بچنے والے کاموں کے بارے میں معلوم کر سکیں ۔”

دوسرے دن اماں جانی کے بلانے سے پہلے ہی صائم اور عروسہ اماں کے کمرے میں پہنچ گئے ۔عروسہ نے حمنہ کو اماں کی گود میں دے کر کہا :”اماں آج صبح سے ہی حمنہ کو ہلکا سا بخار لگ رہا ہے ، میں نے سیرپ بھی پلایا ہے آپ اس کو دم کر دیں ۔”

 اماں جانی نے محبت سے حمنہ کا ماتھا چوما اور آیت الکرسی اور آخری سورتیں اور مسنون دم کی آیات پڑھ کر یقین کے ساتھ پھونک مار دی اور اسے اپنی گود میں ہی سلا لیا ۔پھر بیٹے اور بہو کی طرف دیکھا تو وہ کاپی اور پنسل لئے بڑے شوق سے اماں سے پوچھنے لگے۔رمضان میں کون سے کاموں سے بچا جائے؟

  1. اپنا وقت غیر ضروری کاموں سے بچا کر عبادت پر لگائیں ۔جس میں فون پر لمبی لمبی باتیں نہ کریں ، غیبت سے بچیں ،جھوٹ نہ بولیں
  2. کسی سے جھگڑا نہ کریں گالی گلوچ یا بری بات منہ سے نہ نکالیں ، اگر کوئی دوسرا آپ سے جھگڑا کرے تو فورا کہہ دیں میں روزے سے ہوں اور خاموشی اختیار کریں
  3. روزہ رکھ کر سارا دن سو کر یا ڈائجسٹ پڑھ کر نہ گزاریں۔
  4. روزہ کی حالت میں غصہ نہ کریں ، غصہ حرام ہے اور رمضان کے علاوہ باقی دنوں میں بھی اس بات کا خیال رکھیں۔
  5. اگر کھانے میں کوئی نمک وغیرہ کم یا زیادہ ہو تو چیخنے سے پرہیز کریں ، کھانا بنانے والے نے گرمی اور روزے کی حالت میں بنایا ہے یہ سوچ لیں اور درگزر کریں ۔
  6. اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت بخل نہ کریں اور جو چیز اپنے لئے خریدیں ویسی ہی اپنے مستحق بھائی کے لئے خریدیں
  7. بدگمانی ، تجسس اور عیب جوئی سے بچیں ۔ان کاموں سے روزہ چھلنی ہو جاتا ہے۔
  8. قطع رحمی سے بچیں اللہ نے صلہ رحمی کی بہت تاکید کی ہے۔
  9. اگر ضرورت سے زیادہ حلال کھانا صحت کے لئے مضر ہے تو سوچیں حرام کے بارے میں کیا حکم ہے ، حرام کھانا تو زہر ہے جو دین کو برباد کرتا ہے اور حرام کھانے والے کا کوئی بھی نیک عمل قبول نہیں ہوتا ۔ صدقات ، نماز ، روزہ ، قربانی حتی کہ حرام کھانے والے کا حج بھی قبول نہیں ہوتا اس لئے حرام سے بچنا ہے۔
  10. عقیدہ توحید پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہیں کیونکہ جس میں عقیدہ توحید نہیں اس کے بھی سارے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ، شرک بذات خود ایک بہت بڑا ظلم ہے اس سے بچنا دین اسلام کا پہلا حکم ہے۔
  • اپنے دل اور دماغ کو برے خیالات سے بچانا ہے ، بے شک رمضان میں شیاطین بند کر دئیے جاتے ہیں لیکن بہت ساری غلط عادات ہمارے نفس میں پختہ ہو چکی ہوتی ہیں ، اس لئے اپنا احتساب کرتے رہنا ہے کہ دل میں برے خیال بھی نہ آئیں اس کے لئے چلتے پھرتے اللہ کی بڑائی کے کلمات سبحان اللہ ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کے علاوہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہیں تو برے خیالات نہیں آئیں گے ۔

اچھا بچوں!    اب آپ آرام کریں اور ان تمام باتوں پر عمل آج اور ابھی سے شروع کر دیں اور ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی جہاں تک ہو سکے بتائیں اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے ، ہر بات بآسانی ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہے ۔اپنے لئے صدقہ جاریہ  بنائیں ۔

وما توفیقی الا باللہ العظیم

About ام حمزہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *