Home / صحت سیریز / روزہ اور انسانی صحت

روزہ اور انسانی صحت

تحریر:عظمیٰ عنبرین

ماہ رمضان کے بابرکت مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔اس روزے کی وجہ سے نہ صرف نیکیاں سمیٹتے ہیں بلکہ اپنے لیے روحانی،ذہنی اور جسمانی صحت و تندرستی کا سامان بھی کرتے ہیں۔ انسانی جسم پر روزہ کے بے شمار مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔زیر نظر مضمون میں انہی چند مفید اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے

روزہ اور بلڈ پریشر

ذہنی تناؤ،تفکرات و پریشانیوں کو کم کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔چونکہ  روزہ سے انسان کو قلبی و روحانی سکون ملتا ہے،لگاتار روزے رکھنے سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثرہ افراد  کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

روزہ اور ترک تمباکو نوشی

روزہ کی حالت میں انسان کو خود پر اس قدر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ نشہ آور  چیزوں سے دور رہتا ہے،تمباکو نوشی کرنے والے  حضرات عموما رمضان المبارک میں اس موذی عادت سے جان چھڑوا لیتے ہیں۔نکوٹین ایک نشہ ہے اس لیے شروع میں اس سے جان چھڑوانا مشکل لگتا ہے۔لیکن اگر قوت ارادی سے کام لیا جائے تو یہ کیفیت چند ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہے

روزہ اور دمہ

ماہ رمضان دمے کے مریضوں کے لیے بھی آئیڈیل مہینہ ہے۔کیونکہ دمے کی ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی کے ذریعے پھیلنے والی آلودگی ہے۔ایسے مریض جو دن کے وقت کسی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں وہ روزے کی حالت میں انہیلر کے ذریعے اپنی طبیعت بحال کر سکتے ہیں۔علما کے نزدیک انہیلر کے استعمال سے روزہ  نہیں ٹوٹتا۔علاوہ ازیں روزہ الرجی کے لیے بھی مفید ہے۔

روزہ دار کے لیے چند احتیاطیں

دین اسلام کا ہر حکم انسانی صحت کی نشوونماکے لیے ہی ہے۔مثلا نماز ،روزہ،کھانے پینے کے آداب اور لباس پہننے سے متعلق احکامات

میں انسانی صحت و تندرستی کے راز پنہاں ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات میں بہت بڑی اور عظیم نعمت صحت ہے۔اگرانسان صحت مند ہے تو وہ   عبادت الہی میں پورے نشاط و انبساط کے ساتھ مشغول رہ سکتا ہے۔نیز اپنے روز مرہ کام کاج،اہل خانہ کی ضروریات اور قوم کی خدمت بحسن و خوبی انجام دے سکتا ہے۔الغرض تندرستی کی بدولت ہی انسان کو  خوبصورتی و رعنائی ملتی ہے اور تندرستی ہی کے عالم میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں سمیٹنے کا موقع ملتا ہے اگر صحت کی یہ نعمت نہ ہو تو دل میں چاہے کتنے ہی طلاطم کیوں نہ ہوں وہ کسی بھی کام میں دلجمعی اور یکسوئی حاصل نہ کر پائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات کے ذریعے جا بجا انسانی صحت کی فلاح کا اہتمام رکھا ہے جس سے اندازہ  ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں کی صحت و تندرستی انتہائی عزیز ہے۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے اس میں روح کی بالیدگی اور بہتر جسمانی نشوونما کے لیے واضح خطوط کا تعین کیا گیا ہے۔عموما تندرست افراد میں روزے کے دوران جسم کا اندرونی توازن برقرار رکھنے والی کارگزاری پر کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑتا اور یہ افراد صورتحال سے کماحقہ عہدہ بر آ ہو جاتے ہیں۔ایسے افراد جو سحری و افطاری میں متوازن غذا کھاتے ہیں اور بہت پر خوری سے بچے رہتے ہیں وہ نہ صرف جسمانی طور پر روزے کے فوائد حاصل کرتے ہیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی طور پر بھی مطمئن رہتے ہیں۔

لیکن افطار  میں تلی ہوئی غذائیں،چکنائی اور حیوانی لحمیات سے پر کھانا اور اس کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں  کے فقدان کے سبب فوائد کے بجائے نقصانات ظاہر  ہونے لگتے ہیں۔ان نقصانات میں عموما تیزابیت،سینے میں جلن،ڈکار،تھکاوٹ اور موٹاپا قابل ذکر ہیں

طبی نقطہ نگاہ سے  بھی ماہ رمضان انتہائی بابرکت مہینہ ہے۔بس اس دوران اپنے معمولات پر ذرا سا غور کرنے اور چند سادہ طریقوں پر عمل پیرا ہونے سے تمام فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔دوران رمضان ان چند باتوں کا خیال رکھ لیں تو یہ  خاص مہینہ  کافی بہتر اور سہل اندازسے گذرے گا اور عبادت کا  صحیح لطف بھی حاصل ہو گا

سحری کی چند احتیاطیں

سحری کھانا مبارک عمل ہے۔اس میں برکت رکھی گئی ہے اس لیے یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ رمضان کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سحری بھی ہے۔روزے کی نیت سے سحر کے وقت کھانا پینا نہ صرف سنت ہے بلکہ اس سے صحت و تندرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔صحت و تندرستی کے لیے کھانے پینے کی شرط یہ ہے کہ سنت رسول ﷺ کو مد نظر رکھا جائے اور ایسی غذائیں نہ کھائی جائیں جو بھاری بھر کم ہوں اور انسان کے لیے وبال کا باعث بنیں۔

  • بہت ذیادہ چکنائی والی غذائیں سحری میں کھانے سے معدہ بھاری ہو جاتا ہے اس لیے ہلکی پھلکی غذائیں مثلا دلیہ ،ڈبل روٹی،کارن فلیکس اور چپاتی وغیرہ بہتر ہیں۔سحری میں دودھ،دہی اور پھلوں کا رس بھی لیا جا سکتا ہے۔اس سے عموما کمزوری کی شکایت کرنےوالےافراد بہتر محسوس کرتے ہیں۔
  • سحری کے لیے عمدہ غذا وہ   ہے جس میں مرچ مسالے اور چکنائی کی مقدکم ہو۔عموما افرادسحری میں انڈے کا آملیٹ اور پراٹھا پسند کرتے ہیں لیکن یہ بھاری غذاؤں کے زمرے میں شامل ہے۔گرم کھانے کی خواہش ہو توبغیر چھانے ہوئے آٹے کی چپاتی کم مسالے والے سالن کے ساتھ کھائی جا سکتی ہے۔
  • عموما سحری میں پھل کھانے سے گریز کیا جاتا ہے لیکن خصوصا گرمیوں کی سحری میں پھلوں کا استعمال سود مند ہے۔
  • اکثر افراد سحری میں زیادہ سے زیادہ پانی پیتے ہیں تاکہ دن بھر کی پیاس کو کم رکھا جا سکے۔لیکن واضح رہے کہ مائع غذا جسم میں ذیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔اس لیے سحری مین جتنا بھی پانی پی لیا جائے وہ سارے دن کے لیے کافی نہیں ہوتا۔
  • پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دودھ،دہی اور لسی کا استعمال بہتر ہے،بلکہ سحری کے وقت روٹی کے ساتھ لسی لی جائے یا دہی کھائی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
  • سحری کے بعد یا دن کے ابتدائی حصہ میں زیادہ دوڑ دھوپ یا ورزش کرنا مناسب نہیں،کیونکہ اس کی وجہ سے بھوک پیاس ستائے گی اور دن بھر روزہ رکھنا مشکل ہو جائے گا
  • اکثر افراد سحری کھانے اور نماز پڑھنے کے فورا بعد سو جاتے ہیں۔فورا سونے سے پرہیز کرنا چاہیے اور چند لمحے چہل قدمی کرنی چاہیے،بعد ازاں اگر ضرورت محسوس ہو تو سستا لیا جائے۔
  • سحری میں پلاؤ اور دیگر اس طرح کے مرچ مسالوں والے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے سارا دن معدہ بوجھل رہتا ہے اور کھٹی ڈکاریں آتی رہتی ہیں۔
  • سحری میں نہاری،سری پائے،بینگن اور گوبھی سے بنے سالنوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان سے بد ہضمی اور تیزابیت کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔

افطار کی چند احتیاطیں 

افطار کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کرنے سے نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ روزہ رکھنے کا مقصد بھی حاصل ہوتا ہے

  • افطاری ہمیشہ کھجور سے کرنی چاہیے کیونکہ کھجور میں ایسی خاصیت ہے کہ یہ فوری طور پر توانائی بحال کرنے کا سبب بنتی ہے۔نیز مذہبی
  • طور پربھی کھجور سے افطار کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔جدید تحقیق کے مطابق کھجور میں ایسی غذائیت شامل ہوتی ہے جو معدے کے عضلات کو مضبوط کرتی ہے اور دوران خون کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
  • افطار میں ڈیپ فرائی اشیا کی بجائےکم تیل میں تلی ہوئی،گرل یا بیک کی ہوئی غذائیں استعمال کیجیے۔
  • سموسوں اور پکوڑوں کے مقابلے میں فروٹ چاٹ،چنا چاٹ یا دہی بڑوں کو فوقیت دینی چاہیے۔اگرچہ دہی بڑے تلے ہوئے ہوتے ہیں لیکن انہیں پانی میں بھگونے سے ان کی چکنائی کم ہو جاتی ہے اور دال سے بنے ہونے کے سبب یہ پروٹین اور فائبر یعنی ریشہ سے بھرپور ہوتے ہیں۔
  • موسم گرما کے روزوں میں دہی کو خصوصی طور پر افطاری کا حصہ بنائیے کیونکہ دہی پروٹین اور کیلشم کا بہترین ماخذ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی بھی ہوتی ہے اور معدے کو معتدل رکھتی ہے۔
  • گوشت سے زیادہ پھل،سبزیاں اور دالیں استعمال کیجیے۔پھل سبزیاں اضافی حیاتین اور معدنیات فراہم کرتی ہیں جو روزے کی وجہ سے ہونے والی کمزوری کو بخوبی رفع کر دیتی ہیں۔
  • افطار کے وقت کھانے کا تناسب اس طرح رکھیے کہ پانی کی بھی گنجائش رہے کیونکہ دن بھر پانی کی کمی کو افطار کے بعد وقفے وقفے سے پانی پی کر پورا کیا جا سکتا ہے۔
  • ایسے افراد جو موٹاپا کم کرنا چاہتے ہیں انہیں افطار سے چند لمحے پہلےہلکی پھلکی ورزش کرنی چاہیے۔اس کے مثبت نتائج نکلتے ہیں۔
  • افطار ہمیشہ ہلکا پھلکا ہی ہونا چاہیے جس میں اگر ممکن ہو تو پھل زیادہ سے زیادہ ہوں۔بعد ازاں کچھ دیر چہل قدمی بھی کیجیے۔اس کے بعد نمازتراویح ادا کرنے جائیں۔سونے سے قبل ہلکا پھلکا کھانا کھائیے۔معدے کے امراض سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ افطاری کے ساتھ کھانا نہ کھایا جائے بلکہ دو گھنٹے بعد حسب طبیعت کھانا کھائیے۔
  • عام دنوں میں بھی رات کا کھانا ہلکا پھلکا ہی ہونا چاہیے لیکن ماہ رمضان کے دنوں میں رات کا کھانا بالخصوص ہلکا پھلکا ہونا چاہیے کونکہ چند گھنٹوں بعد سحری کا وقت ہو جاتا ہے اور اگر رات کا کھانا پیٹ بھر کر کھایا جائے تو سحری کھانے کو دل نہیں کرتا۔
  • رات کے کھانے میں اگر رائتہ،سلاد اور کچی سبزیاں کھائی جائیں تو بہتر ہے کیونکہ عام طور پر لوگ رات کے کھانے میں دالیں اور سبزیاں کھانا پسند نہیں کرتے بلکہ مرغن غذائیں کھاتے ہیں۔چونکہ سونا بھی جلدی ہوتا ہے اس لیے بعد ازاں سینے کی جلن اور دیگر ہاضمے کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں
  • افطار میں یا بعد از افطار کیفین ملے مشروبات،مثلا چائے ،کافی،کولا مشروبات اور چاکلیٹ وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ دن میں روزے کی حالت میں جب ان اشیا کی قلت پیدا ہوتی ہے تو سردرد جیسی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *