Home / رمضان سپیشل / روزہ اور تقوی

روزہ اور تقوی

قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں پر یہ بات اچھی طرح عیاں ہے کہ قرآن میں سینکڑوں آیات ہیں جو صرف تقویٰ کے موضوع پر وارد ہوئی ہیں۔ یہ تقویٰ ہی ہے جسے قرآن میں بے شمار مقامات پر تمام نظری و فکری معاملات کا منشاء و مقصود بتایا گیا ہے سورۃ البقرۃ  کی آیت 21 کے مطابق انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا میں تقویٰ اختیار کرے۔ حتیٰ کہ قرآن مجید کی رُو سے جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو کسی نہ کسی درجے میں تقویٰ کی صفتِ حمیدہ سے متصف ہوں۔ لیکن یہ تقویٰ کیا ہے؟

بد قسمتی سے ہمارے ذہنوں میں آج تقویٰ کا تصور حالات و واقعات کے دبیز پردوں میں مبہم ہوچکا ہے۔ آج ہمارے نزدیک تقویٰ کا معیار صرف ظاہری حال کی اصلاح ہے۔ ہمارے نزدیک تقویٰ کا معیار کُرتا، پاجامہ، جبہ اور عمامہ ہے یا پھر ہمارے زعم میں متقی کے بارے میں کسی صوفی کا خاکہ ہے جو دنیا سے بے پرواہ ہو کر کسی کونے کھدرے میں حق اللہ کی صدائیں بلند کرتا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے تقویٰ کے یہ تمام تصورات میزانِ شریعت میں اس بنا پر باطل ٹھہرائے جائیں گے کہ یہ اسوۂ رسول ﷺ اور آیاتِ قرآنی سے ہرگز میل نہیں کھاتے۔قرآن مجید تقویٰ کو تصور پیش کرتا ہے وہ کسی نہ درویشی کا نام ہے اور نہ ہی ظاہر کو سنوارنے کا۔بلکہ یہ مکمل احساسِ ذمہ داری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا نام ہے۔خدا کی ناراضگی سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے پرہیز کرنا۔ تقویٰ یہی وہ اصول ہے جو بندہ مومن کی زندگی  کا محور ہونا چاہیے۔ یہ تقویٰ کس طرح حاصل ہو؟ کلامِ  الٰہی کے  آغاز  میں اس بات کا جواب دے دیا ہے کہ حصول ِتقویٰ کا نصاب قرآن ہے۔ فرمایا:

“یہ وہ کتاب ہے  جس   (کے کتاب الٰہی ہونے) میں کوئی شک نہیں۔   یہ متقین کے لیے (صحیفۂ) ہدایت ہے۔”

گرتو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن بجز قرآن زیستن

ترجمہ:اگر تم حقیقی مسلمان کی زندگی جینا چاہتے ہو تو یہ قران کے بغیر ممکن نہیں ہے

حصولِ تقویٰ کا بنیادی نصاب قرآن ہے اور اس نصاب پر عمل کرنے کا بہترین  موقع رمضان المبارک ہے جو درحقیقت تقویٰ کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے معاون حیثیت رکھتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے  کہ رمضان وہ مقدس مہینہ ہے جس  میں ہدایتِ انسانی کا صحیفہ ’’القرآن‘‘ نازل کیا گیا  ۔مزید فرمایا کہ یہ روزے اقوامِ سابقہ کی طرح تم بھی فرض کیے گئے  ہیں تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

چنانچہ اس تفصیل کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد حصولِ تقویٰ ، اس کا نصاب قرآن اور اس کی عملی مشق کے لیے رمضان ہے۔یہ مہینہ تزکیہ و تربیت کا مہینہ ہے ، ہر جانب نیکیوں کا ماحول ہوتا ہے اور ہم باسانی اس  ماحول سے جڑ کر اپنے نفس کی تربیت کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے،  یہی روزہ کا مقصد ہے ۔ اگر رمضان  میں بھی تقویٰ  کی روشنی نہ جلائی   اور اپنی روح کو زیورِ تقویٰ سے آراستہ نہ  کیا تو رمضان بے مقصد گزر گیا    اور ہم نے اس کی روح کی قربت پا کر بھی اسے حاصل نہ  کیا ۔  یاد کیجیے! روح القدس جبرائیل امین کے اس جملے پر امام الانبیاء نے آمین کہا ہے!

اے محمد! آپ کی امت میں سے وہ آدمی ہلاک ہو جائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی بخشش نہ کروائے۔ حدیث

اس رمضان یہ عہد کرلیں کہ قرآن  سے تعلق جوڑنا ہے،اسے اپنی زندگی کا محور بنانا ہے۔ روزانہ قرآن کا مطالعہ معمول بنانا ہے اور یہ مطالعہ محض علمی مطالعہ نہ  ہو کہ آپ کو واقعات کا علم ہوجائے بلکہ برائے ہدایت  ہو ، یہ معلوم ہوسکے کہ قرآن آپ  کو عملی زندگی میں کیا ہدایات دیتا ہے۔وہ کون سے رویے ہیں جن کی قرآن مخالفت کرتا ہے اور کون سے اعمال کی تلقین قرآن کرتا ہے۔  اس کے لیے استاد محترم محمد مبشر نذیر کی کتاب پیغامِ قرآن یا راقم کی کتاب قرآن مجید اور ہماری شخصیت کارآمد ہوسکتی ہے جس میں قرآن مجید سے عملی اسباق مہیا کیے گئے ہیں۔

یاد رکھیں، ابھی رمضان ہے تو ہمارے پاس وقت ہے، ورنہ اُس وقت سے ڈرنا   چاہیے کہ کفِ افسوس مَلنے کی توفیق بھی نہ ملے اور زندگی کے اوراق بوسیدہ ہوجائیں۔ فرشتہ اجل یہ اعلان  کردے کہ تم رحمۃ اللعالمین کی  بارگاہ سے دھتکار دیے گئے ہو۔ تم پر اللہ، اس کے رسول اور ملائکہ کی بددعائیں ہیں!

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *