Home / رمضان سپیشل / روزہ اور صحت

روزہ اور صحت

روزہ  اسلام کا تیسرارکن ہے ۔اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے اور یہ   تقوی کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ  بھی روزہ سے ایک مسلمان بے شمار روحانی ،اخلاقی فوائد اور اللہ تعالی کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں حاصل کرتا ہےاور ان ہی روحانی فوائد کو حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے۔روزہ سے کچھ جسمانی اور صحت کے حوالے سے بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس مضمون میں انہی فوائد پر بات کی جائے گی کہ روزہ ہمارے جسم اور صحت پر کیسے اثرات مرتب کرتا ہے ؟

روزہ کے بارے میں یہ غلط فہمی عام تھی کہ روز ہ جسمانی کمزوری کا سبب بنتا ہے یا جسم و صحت پر اس کے منفی اثرات  مرتب ہوتے ہیں جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے اور نئی تحقیقات سامنے آرہی ہیں روزہ کے طبی فوائد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ روزہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ بذات خود ایک طریق علاج ہے اور کمزوری کی بجائے توانائی کا سبب بنتا ہے۔

روزہ کھانا کھانے کا ایک فطری ٹائم ٹیبل دیتا ہے یہ توازن نظام ہضم کو درسست کرتا ہےاور معدے کے امراض میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

روزے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ روزہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے جسم کے تمام اعضاءکی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہےروزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیں، جس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ دماغی صلاحیتوں کو بھی جلا ملتی ہے۔

دور حاضر میں صحت کے بہت سے مسائل سامنے آ رہے ہیں جن میں بلڈ پریشر ،شوگر ،کو لیسٹر و ل اور موٹاپے جیسے امراض عام ہیں روزہ ان امراض کو کنٹرول کرنے کا سبب بنتا ہے۔روزہ سے خون میں شوگر کی مقدار کم اور نارمل رہتی ہے،اور اسی طرح بلڈ پریشر بھی نارمل سطح پر رہتا ہےچربی کا ذخیرہ توانائی میں تبدیل ہونا شروع  ہو جاتا ہے چنانچہ جسم میں چربی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے جو کہ کولیسٹرول کو اور موٹاپے کو  کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

روزہ رکھنے کے نتیجے میں قوت مدافعت بہتر ہو جاتی ہے انسان صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہتا ہے تو اس کے جسم کے اندر وہ خلیے متحرک ہوجاتے ہیں جو اس کے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر اس کو طرح طرح کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔

رمضان جسمانی فٹنس اور ورزش کے لحاظ سے بھی مفید ثابت ہوتا ہےتراویح کی بدولت ہر رکعت میں 10کلوریز خرچ ہوتی ہیں۔

روزہ اینٹی الرجی عمل کو فعّال کرتا ہے۔

روزے کا ایک اور طبی فائدہ سوجن کم کرنے کے (anti inflammatory) اثرات ہیں۔ روزے کے نتیجے میں جو ہارمون جسم میں خارج ہوتے ہیں ان میں بالخصوص کورٹی سول (cortisol) ہارمون ہے جس سے جسم میں ورم کم ہو جاتا ہے۔ جوڑوں کے درد اور گٹھیا (arthritis) کے مریضوں کی تکلیف روزہ رکھنے سے بہتر ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں کے پیروں پر یا جسم میں کسی اور جگہ ورم ہوتا ہے، یاfluidجمع ہوجاتا ہے انھیں روزے کے نتیجے میں افاقہ ہوتا ہے۔

ماہرِ دندان (ڈینٹسٹ) بتاتے ہیں کہ روزہ رکھنے والوں میں دانت اور مسوڑھوں کے امراض کم ہو جاتے ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا تعلق بھی غذاؤں کے استعمال سے ہے۔ روزہ رکھنے کا عمل دانت اور مجموعی صحت کو بہتر کر دیتا ہے۔روزے کا بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ انسان کی قوتِ ارادی (motivation) کو بڑھاتا ہے۔ جو لوگ قوتِ ارادی کی کمزوری کی بنا پر تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں، دماغی اور ذہنی کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں، روزہ ان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر سکیں۔

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *