روزہ

مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کی گئی عبادات میں سے ایک روزہ بھی ہے۔قرآن کریم میں روزے کی فرضیت اور تفصیلات کا ذکر سورہ بقرہ میں آیا ہے۔اس مضمون میں قرآن کریم میں روزے سے متعلق آیات کی تشریح اور اس حوالے سے سامنے آنے والے چند اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ روزے سے متعلق قرآن کریم کی آیات کچھ اس طرح ہیں۔

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو لکھا گیا اوپر تمہارے روزہ جیسا لکھا گیا تھا اوپر ان لوگوں کے جو پہلے تم سے تھے تو کہ تم پرہیز گاری کرو‘‘ (2:183)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مسلمان پہلی قوم نہیں جن پر روزہ فرض کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی روزہ پچھلی امتوں پر فرض ہوا تھا ۔اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے روزے کو مسلمانوں پر بحال رکھا ہے۔ روزے کی فرضیت کا مقصد پرہیز گاری ہے۔ اب اگر کوئی روزہ بھی رکھتا ہواور پرہیز گار نہیں تو وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے اور ریا کاری کرتا ہے۔

’’ روزے دن گنتی کے پس جوکوئی ہو تم میں سے مریض یا اوپر سفر کے پس گنتی ہے دنوں اور سے اور اُوپر ان لوگوں کے کہ طاقت رکھتے ہیں اس کی بدلا ہے کھانا ایک فقیر کا پس جو کوئی کرے زیادہ نیکی پس وہ بہتر ہے واسطے اسکے اور یہ کہ روزہ رکھو تم بہتر ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم جانتے‘‘ (2:184)

روزے کن لوگوں پر فرض ہے؟

روزے مقیم پر فرض ہیں یعنی جو اپنے شہر میں مقیم ہو ۔صحت مند افراد پر بھی روزے فرض ہیں۔صحت مند وہ ہے جو بیمار نہیں اور یہاں بیمار وہ ہوگا جو روزے کی وجہ سے کسی طبی عارضے میں مبتلا نہ ہوسکے۔ بھوک کو برداشت کر سکے۔ بھوک سے بے ہوش ہونے والا نہ ہو۔

روزے کن لوگوں پر فرض نہیں ہیں؟

مسافر

مسافر پر رمضان میں روزے فرض نہیں ہیں۔ا س بات کا فیصلہ مسافر خود کرے گا کہ وہ کتنے سفر کو روزے کے ساتھ برداشت کر سکتا ہے اور کتنے سفر کو برداشت نہیں کر سکتا۔اب ایک شخص سارے سال صبح تیس کلومیٹر سفر کر کے کام پر جاتا ہے اور شام کو واپس اپنے گھر آ جاتا ہے تو میرا خیال یہ ہے وہ مسافر نہیں ہو گا ہاں بین الاضلاعی، بین صوبائی یا بین الاقوامی سفر آج بھی بعض لوگوں کے لیے کافی مشکل ہوتے ہیں ایسے حالات میں ان کو چھوٹ ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں بلکہ اس کی گنتی دوسرے دنوں میں پوری کریں۔

بیمار

بیمار پر بھی رمضان میں روزہ فرض نہیں۔یہ بیمار کون ہوتاہے؟ بیمار ہوتا ہےNot in full health یعنی جس کی صحت مکمل نہ ہو۔ یہاں بیمار سے مراد وہ شخص ہے جو کسی بھی جسمانی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے اگررکھے گا تو روزے کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ ایسے لوگ جو بمشکل روزہ رکھ سکیں یعنی یہ کہ اگر روزہ رکھیں گے تو کسی طبی عارضے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، بے ہوش ہونے کا اندیشہ ہو، بہت زیادہ عمر رسیدہ افراد، وہ افراد جو بظاہر تو صحت مند ہو مگر اپنی صحت بحال رکھنے کے لیے ادویات کھاتے ہو، نہ کھانے کی صورت میں بیمار ہونے کا اندیشہ ہو ، بمشکل یعنی اپنی جان کوجوکھم میں ڈال کر روزہ پورا کریں۔ ان پر بیمار والے احکام لاگو ہونگے۔

یُطِیْقُونَہ

یُطِیْقُونَہ یعنی طا قت ہونے سے متعلق مختلف مترجمین نے مختلف ترجمہ کیا ہے کسی نے کہا ہے کہ اگر روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہو مگر نہیں رکھتے تو ایک مسکین کو ایک روزہ کے حساب سے کھانا کھلاؤ۔ کچھ نے لکھا ہے کہ اس سے مراد ایسے افراد ہیں جو بمشکل روزہ رکھ سکے وہ روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے، کچھ لوگوں نے اس سے مزدور مراد لی ہے۔ مگر میری رائے میں اس طاقت کو روزے کے رکھ سکنے یا بمشکل رکھ سکنے سے غلط مشروط کیا جا رہا ہے۔ یہاں طاقت کا تعلق مسکین کو کھانا کھلانے کی معاشی طاقت سے ہے نہ کہ روزہ رکھنے کی طاقت سے یا بمشکل روزہ رکھنے سے۔ بیمار پر روزے ویسے معاف ہے جب تک کہ وہ بیمار ہو۔ جو بمشکل روزہ رکھ سکے وہ صحت مند تو نہیں ہو گا ۔ جو مسکین کو کھانا کھلانے کی طاقت نہ رکھے اس پر کوئی کفارہ نہیں لیکن اگر کوئی زیادہ امیر ہے تو اسے کہا جا رہا ہے کہ بے شک وہ زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا اور زیادہ نیکی کرے۔

مزید یہ کہ اگر اس آیت میں طاقت رکھنے سے مراد بمشکل روزہ رکھنے والے لیے جائیں کہ جو بمشکل روزہ رکھ سکیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں تو ایسی صورت میں جو مسکین بمشکل روزہ رکھ سکے گا اس کے لیے کیا حکم ہو گا؟ اگر یہاں طاقت سے کا مطلب بمشکل روزہ رکھنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے آخر میں کیوں کہا جا رہا ہے کہ روزہ رکھنا بہتر ہے کیا اللہ تعالیٰ بمشکل روزہ رکھنے والوں کی جان کو مشکل میں ڈالنے والا مشورہ د ے رہے ہیں ؟ (نعوذ باللہ) بالکل نہیں کیونکہ اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ ارادہ کرتا ہے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا اور نہیں ارادہ کرتا ہے ساتھ تمہارے دشواری کو‘‘ ۔ آسانی یہ کہ فدیہ یا کفارہ کا حکم نازل کر دیا۔ بمشکل روزہ رکھنے والا بیمار تصور ہو گا جو اور دنوں میں اگر ٹھیک ہو گیا تو روزہ رکھے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا جیسا کہ عمر رسیدہ حضرات تو وہ بیمار افراد کے زمرے میں ہی آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیمار لوگوں پر کوئی تنگی نہیں۔یہاں طاقت رکھنے سے مرادکفارے یا فدیے کی طاقت ہے نہ کہ بمشکل روزہ رکھنے والے۔

کچھ علماء کے مطابق اگر کوئی صحت مند شخص بھی روزہ نہیں رکھتا تو وہ کفارہ دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف بیمار اور مسافر کو روزے میں چھوٹ دی ہے۔تمام صحت مند مسلمانوں پر روزہ فرض ہے اور فرض کا مطلب ہوتا ہے کہ اسے مجبوری میں ہی چھوڑا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو بیماروں اور مسافروں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ روزے کی گنتی بعد میں پوری کریں تو صحت مندکیسے خود کو فرضیت سے باہر رکھ سکتے ہیں؟

سورۃ البقرہ کی آیت 184میں بتا یا گیا ہے کہ اگر کوئی مریض ہو یا سفر کر رہا ہوتو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ رمضان میں روزہ نہ رکھے بلکہ جتنے روزے رہ جائیں اتنے اور دنوں میں رکھ لے۔ آگے لکھا ہے کہ اُوپر ان لوگوں کے جو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی معاشی طاقت رکھتے ہیں یعنی جو بیماراور مسافر مجبوری کی وجہ سے چھوٹ جانے والا روزہ اور دنوں میں نہ رکھ سکے تو ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے مگرساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے نصیحت بھی کر دی ہے کہ روزہ چھوٹنے کے بدلے روزہ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک جگہ اور مخصوص شرائط کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دینے کے ساتھ ہی یہ مشورہ دیا ہے کہ شادی صرف ایک کرنا چاہیے یعنی ’’پس ایک ہے‘‘۔ اگر کوئی مسکین جو کسی دوسرے کو کھانا کھلانے کی طاقت نہیں رکھتا وہ مجبور ہو اور روزہ چھوٹ جائے تو وہ اگر روزہ نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ تم روزہ رکھو یہ روزہ رکھنا ہی بہتر ہے۔

اس آیت کو اس طرح بھی سمجھیں کہ رمضان کا مہینہ ہے اور کوئی بیمار ہے یا سفر پر ہے اس کو روزوں کی گنتی بعد میں پوری کرنی ہے۔’’ روزے دن گنتی کے پس جوکوئی ہو تم میں سے مریض یا اوپر سفر کے پس گنتی ہے دنوں اور سے‘‘ یہاں تک آیت ماہ رمضان سے متعلق ہے۔اب ماہ رمضان ختم ہو جاتا ہے مگر جس شخص نے مجبوری کی وجہ سے روزے چھوڑے تھے(صرف مجبوری کی وجہ سے)اور اس میں اتنی معاشی طاقت ہے کہ وہ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا سکے تو وہ روزے نہ رکھے مسکینو ں کو کھانا کھلا دے اگر اپنی خوشی سے کھلا سکتا ہے تو ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھلائے یا اور نیکی کرے۔’’ اور اُوپر ان لوگوں کے کہ طاقت رکھتے ہیں اس کی بدلا ہے کھانا ایک فقیر کا پس جو کوئی کرے زیادہ نیکی پس وہ بہتر ہے واسطے اسکے‘‘

مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرما رہا ہے کہ روزہ رکھنا ہی بہتر ہے اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔’’ اور یہ کہ روزہ رکھو تم بہتر ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم جانتے‘‘

مہینہ رمضان کا وہ جو اتارا گیا ہے بیچ اس کے قرآن مجید ہدایت واسطے لوگوں کے اور دلیلیں ہدایت کی سے اور معجزے پس جوکوئی حاضر ہو تم میں سے اس مہینے میں پس چاہیے کہ روزہ رکھے اس کو اور جو کوئی بیمار ہو یا اُوپر سفر کے پس گنتی ہے دنوں اور سے ارادہ کرتا ہے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا اور نہیں ارادہ کرتا ہے ساتھ تمہارے دشواری کو اور توکہ پورا کرو گنتی کو اور تو کہ بڑائی کرو اللہ کی اوپر اس کے کہ ہدایت کیا تم کو اور توکہ تم شکر کرو‘‘ (2:185)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اور دنوں میں روزوں کے پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیمار وںاور مسافروں کے لیے آسانی ہے ۔ آسانی یہ کہ اگر روزے گرمیوں کے ہیں تو ان کو سردیوں میں رکھ لیا جائے۔ اب اگر جو کوئی سردی گرمی ہی بیمار رہتا ہو اور روزہ نہ رکھ سے تو وہ خود بخود اس حکم سے مستشنیٰ ہو گیا۔وہ اگر چاہے تو ضرورت مندوں کو کھانا کھلا دے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی ہے ۔

اب جیسے مسافر کو سفر میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے ویسے ہی معاشرے میں کچھ اور لوگ ہیں جن کو محنت مشقت کے کام کرنا پڑتے ہیں جیسے مزدور اور دیگر محنت کش وغیرہ میرے خیال کے مطابق ان پر بھی یہی حکم لاگو ہو گا کہ جب بھی جس دن بھی مشقت سے فارغ ہوں،  روزوں کی گنتی پوری کریں۔اگر گنتی پوری کرنے کے لیے روزہ نہیں رکھ سکتے تو روزوں کے حساب سے مسکینوں(ضرورت مندوں) کو کھانا کھلائے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ روزے پورے کرے۔

’’ حلال کی گئی واسطے تمہارے رات روزے کی رغبت کرنا طرف بی بیوں اپنی کے وہ پردہ ہیں واسطے تمہارے اور تم پردہ ہو واسطے ان کے جانا اللہ نے یہ کہ تم تھے خیانت کرتے جانوں اپنی کو پس پھر آیا اوپر تمہارے اور معاف کیا تم سے پس اب ملا کرو اُن سے اور ڈھونڈو جو لکھ دیا ہے اللہ نے واسطے تمہارے اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو واسطے تمہارے تاگا سفید تاگے کالے سے فجر سے پھر پورا کرو روزے کو رات تلک اور مت ملو اُن سے اور تم اعتکاف کرنے والے ہو بیچ مسجدوں کے یہ ہیں حدیں اللہ کی پس مت نزدیک جاؤ ان کے اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ نشانیاں اپنی واسطے لوگوں کے تو کہ وہ بچیں‘‘ (2:187)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ پچھلی امتوں پر رمضان کی راتوں میں بھی  بیویوں کے پاس جانا حرام تھا جسے اللہ تعالیٰ اس آیت سے حلال کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ اس آیت میں روزے کے اوقات لکھے ہیں ۔ اختتام سحری تک ہی کھانا کھاکر روزہ رکھا جائے پھر اسے افطار تک پورا کیا جائے۔اس آیت کے مطابق سحری کے اختتام کا وقت وہ ہے، جب انسان سیاہ اور سفید رنگ میں پہچان کر سکے۔

دوسرا حصہ اگلے ماہ پڑھیے

About محمد امین اکبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *