Home / رمضان سپیشل / روزے کا انتظار کیوں اور کیسے کیا جائے؟

روزے کا انتظار کیوں اور کیسے کیا جائے؟

استقبال رمضان کے لئے ہمیں اپنے اسلاف کی زندگیوں کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ان کے نقش قدم پر چل کر ہم بھی رمضان کی اہمیت اور فضیلت سے واقف اور مستفید ہوں ۔ ہمارے اسلاف عظام یعنی صحابہ کرام ، تابعین عظام اور تبع تابعین کا رمضان الکریم کے بارے میں شوق اور تمنا نبی ﷺ کی اتباع میں ہی تھا ۔

آپ ﷺ ماہ رجب اور شعبان میں ہی رمضان المبارک کا انتظار کرنے لگتے ۔ اور پورا شعبان کا مہینہ رمضان المبارک کے کیف و سرور کو محسوس کرنے کے لئے حالت صوم میں گزارتے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

 آپ ﷺ ( اس ماہ میں اتنے روزے رکھتے کہ )شعبان کو رمضان سے ملا دیتے ۔( ابو داؤد : 243 ، کتاب الصیام )

لیکن امت کے لئے شفقت تھی کہ نصف شعبان کے بعد نفلی روزوں سے منع کر دیا ۔ رمضان المبارک کو باقی مہینوں پر فضیلت اس لئے ہے کہ اس کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے کہ اس ایک رات میں ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت کے خزانے لٹائے جاتے ہیں ۔ اس مبارک رات میں ہمارے رب نےاپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے لئے نازل کی ۔

اِنَّاۤ  اَنۡزَلۡنٰہُ  فِیۡ  لَیۡلَۃٍ  مُّبٰرَکَۃٍ  اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿ سورہ الدخان :۳﴾

یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ۔

 اِنَّاۤ  اَنۡزَلۡنٰہُ  فِیۡ  لَیۡلَۃِ  الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ سورہ القدر :۱﴾

 یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔

اس عظیم اور بابرکت رات کو کتاب مبین ، قرآن مجید کو ” لوح محفوظ ” سے پورے کا پورا اتار کر جبریل علیہ السلام کے سپرد کر دیا گیا۔  پھر اللہ کے حکم سے حالات کے مطابق جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس وحی الہی کی صورت میں لاتے رہے اور  قرآن کا نزول تئیس سال میں مکمل ہوا ۔

رمضان کا مہینہ قرآن کی سالگرہ کا مہینہ ہے (صحیح بخاری: ۱۹۰۲)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے رمضان میں ملتے، جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے تو آپ ﷺ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے۔

ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آخری سال ( وفات سے پہلے ) جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو دو بار قران سنایا۔ (صحیح بخاری: 3624)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ ﷺ نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال قرآن مجید کو ایک بار سنایا کرتے تھے، لیکن اس سال انہوں نے دو مرتبہ سنایا، مجھے یقین ہے کہ اب میری موت قریب ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی تم ہو گی۔ میں ( آپ کی اس خبر پر ) رونے لگی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ جنت کی عورتوں کی سردار بنو گی یا ( آپ ﷺنے فرمایا کہ ) مومنہ عورتوں کی، تو اس پر میں ہنسی تھی۔

گویا کہ اس ماہ میں رب رحیم کی بے پایاں رحمت نے ہم جیسے انسانوں کی راہنمائی کا سامان فرمایا ۔ اس کی حکمت لامتناہی نے ہماری سوچ اور عمل کی راہیں روشن کیں ۔صحیح اور غلط کو پرکھنے کے لئے وہ کسوٹی عطا کی جو ہر قسم کی غلطی ، کجی ، اور تغیر و تبدل سے پاک ہے۔ قرآن پاک کے اس ماہ میں نزول نے ہی اس ماہ کو عظیم اور جلیل القدر بنا دیا کہ یہ عظیم الشان مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے دنوں کو روزوں کے لئے اور راتوں کو قیام اور تلاوت کے لئے مخصوص کر دیا جائے ۔

بنی نوع انسان کے لئے یہ ماہ انتہائی قابل تکریم ہے ۔ اس ماہ میں ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے ۔ پہلی امتوں کی زندگیاں بہت لمبی ہوتی تھیں ۔ ان کو عبادت کے مواقع بھی زیادہ مل جاتے تھے ۔سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی ۔اسی سے اندازہ کر لیا جائے ۔ نبی ﷺ کی عمر مبارک تریسٹھ سال تھی ۔ اس لحاظ سے رمضان کی ایک رات ایسی ہے جس کی عبادت کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔اس لئے یہ اللہ رب العزت کا اس آخری نبی ﷺکی امت پر بے پایاں انعام و اکرام ہے ۔ویسے تو ہم اللہ کی بے حد و حساب نعمتوں کے خزانے دن رات لوٹ رہے ہیں ۔ لیکن یہ ساری نعمتیں فانی ہیں ۔ ہماری زندگی کے خاتمہ کے ساتھ یہ ساری دنیا کی لذتیں اور نعمتیں ختم ہو جائیں گی ۔لیکن قرآن کریم ہمارے لیےقبر میں ، حشر میں اور پل صراط پر بھی روشنی کا باعث ہو گا ۔ اگر ہم اس کو غور و فکر سے سمجھ کر پڑھیں اور اس کے احکام پر عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں تو یہ ہماری سفارش کرنے والا اور ہمارے حق میں حجت ہو گا ورنہ دوسری صورت میں قرآن ہمارے خلاف گواہی دے گا کہ اللہ اس نے اس قرآن کاحق ادا نہیں کیا۔رمضان المبارک کی خصوصی فضیلت بھی قرآن کی نسبت سے ہے۔اس ماہ مبارک کی ہر ساعت میں رحمت و برکت کا اتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمال صالحہ ، فرض اعمال صالحہ کو پہنچ جاتے ہیں ۔ اور فرائض ستر گنا زیادہ وزنی اور بلند ہو جاتے ہیں۔

روزہ کا مقصد انسان کو بھوکا پیاسا رکھنا نہیں بلکہ اس میں تقوی پیدا کرنا ہے ۔رمضان المبارک میں نیکی کی رغبت کا ایک ماحول بنا ہوتا ہے اور نیکی کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ جو باقی گیارہ مہینوں میں مشکل ہوتا ہے ۔ پھر شیاطین بھی بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کی عظمت اور فضیلت جاننے کے لئے احادیث

✔جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرمﷺراتوں کو جاگتے اور (عبادت کے لیے) کمربستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ (سنن ابی داؤد ، جلد دوم ،حديث: 1372صحيح)

✔ رسول ﷺ ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔  ( سنن ابى داؤد ، جلد دوم ،حديث : 2323صحيح)

✔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اس ماہ ( رمضان ) سے ایک یا دو دن پہلے ( رمضان کے استقبال کی نیت سے ) روزے نہ رکھوسوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آ پڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو  اور ( رمضان کا ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور ( شوال کا ) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو مہینے کے تیس دن شمار کر لو، پھر روزہ رکھنا بند کرو“۔

 امام ترمذی کہتے ہیں:

 ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں بعض صحابہ کرام سے بھی احادیث آئی ہیں،  اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ آدمی ماہ رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کے استقبال میں روزے رکھے، اور اگر کسی آدمی کا ( کسی خاص دن میں ) روزہ رکھنے کا معمول ہو اور وہ دن رمضان سے پہلے آ پڑے تو ان کے نزدیک اس دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ( جامع الترمزى ، جلد اول ، حديث 684، باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک  دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان)

 ✔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔ ( صحیح بخاری شریف ، حدیث1896،باب: روزوں کی فرضیت کا بیان)

✔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، (یہ الفاظ) دو مرتبہ (کہہ دے) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔  ( صحیح بخاری ، حدیث : 1894 )

✔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 1899)

اب سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک کا انتظار کیسے کیا جائے 

اس ماہ بابرکت کی تیاری کے لئے رجب سے ہی کمر کس لیں تاکہ رمضان آنے پر سہولت رہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ گنتی کے چند دن پتہ ہی نہ چلے اور گزر جائیں:

õنماز پانچ وقت کی اول وقت میں اور رکوع ، سجود کی اطمینان سے مسنون طریقہ پر ادائیگی کریں ۔

 õقرآن کی تلاوت مع ترجمہ اور تفسیر کریں۔

õ گذشتہ رمضان کے قضا روزے اور نفلی روزے بھی پندرہ شعبان تک رکھیں اور نصف شعبان کے بعد روزہ نہ رکھیں تاکہ جسم کی قوتیں رمضان کے فرض روزوں کے لئے بحال رہیں ۔

õ ایسی کتب کا مطالعہ یا لیکچر سنیں جس میں آداب رمضان کے بارے میں معلومات ہوں ۔

õ گھر کے غیر ضروری کام سمیٹ لئے جائیں اور ضروری کام نمٹا لئے جائیں تاکہ وقت کی بچت ہو اور یکسوئی بھی حاصل ہو ۔

õجب بارش ہوتی ہے تو مختلف ندی اور نالے اپنی اپنی وسعت اور گہرائی کے مطابق فیض یاب ہوتے ہیں ۔ حالانکہ بارش سب پر یکساں برستی ہے ۔ رمضان کی آمد سے پہلے ہی زمین کی طرح اپنے دل نرم اور آنکھیں اللہ کے خوف سے نم کیجئے ۔ ایمان کا بیج اپنے اندر ڈالیں ،تعلق باللہ سے اور پھر اپنی صلاحیت اور استعداد سے اللہ سے مدد مانگتے ہوئے، تلاوت قرآن اور مسنون اذکار کے علاوہ اپنے تمام رشتوں سے خیر خواہی کے ذریعہ اس بیج کی آبیاری میں لگ جائیں تاکہ رمضان کی پر کیف گھڑیوں میں یہ بیج پودا اور پودے سے تناور درخت اور اعمال صالحہ کے پھل ، پھول اور لہلہاتی کھیتی بن جائے جو رمضان کے بعد بھی بارآور رہے  اور اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا اور آخرت کے انعام کے مستحق قرار پائیں۔

توفیق الٰہی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ۔اس لئے اللہ سے مدد بھی مانگیں اور اپنے عقیدوں کی اصلاح بھی بہت ضروری ہے ۔اگر عقیدہ میں کمزوری ہے یا نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق نہیں ہے تو ساری محنت ضائع ہو جائے گی ۔اس لئے سب سے پہلے عقیدہ توحید پر ہر عمل کی جانچ ضروری ہے۔

وما علینا الا البلاغ ، وما توفیقی الا باللہ ۔

About فاطمہ نور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *