Home / شمارہ اکتوبر 2017 / رویے اہم ہیں

رویے اہم ہیں

کہا جاتاہے کہ ا نسا ن خطا کا پتلا ہے،شاید اس لیے کہ ہر انسا ن ہی کوئی نہ کوئی غلطی کر جا تا ہے، کیو نکہ کچھ فطری کمزوریا ں اور انسا نی خوا ہشا ت ہیں جن کی وجہ سے کبھی ارادتاً اور کبھی غیر ارادتا ًغلطیاں ہو جاتی ہیں اور سب سے ہو جا تی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسان غلطی کرنے کے بعد ساری توجہ اس کو چھپا نے اور جواز ڈھونڈنے پہ رکھتے ہیں۔

 ہمارے معا شرے میں ایک سوچ ایسی جنم لے گی ہے کہ معتبر وہ ہے جو غلطیاں نہیں کرتا اور یہ تو نا ممکن ہے کہ ا نسان کوئی غلطی نہ کرے اس لیے ہم سب اپنی غلطیو ں کو چھپانے اور جواز ڈھونڈنے کی فکر میں لگے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں اپنے مقام پہ کھڑا  تو اسی طر ح ر ہا جا سکتا ہے لیکن یہاں ہم ایک چیز بھول گئے ہیں کہ غلطی سے ز یادہ  اہم غلطی کے بعد کا رویہ ہے۔ کیو نکہ مقا م کا فیصلہ تو یہ رویہ ہی کر تا ہے۔ ہم معتبر ٹھہریں گے یا  دھتکار دئیے جائیں گے اس کا فیصلہ اسی سے ہو گا۔

 آغا زٖ انسانیت کو دیکھیں تو دو کردار سا منے آتے ہیں آدم اور عزازئیل ۔آدم انسان تھے لیکن عزازئیل انسان تھا  نہ فر شتہ ۔ وہ جنا ت میں سے تھا لیکن اپنی عبادت کی وجہ سے فر شتوں کے سا تھ بیٹھتا تھا۔ جب آدم کی تخلیق ہوئی تو فر شتوں کو حکم ملا کہ آدم کو سجد ہ کریں، سب نے سجدہ کیا سوائے عزازئیل کے۔ اس نے جواز پیش کیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اس لیے مٹی سے بنے انسان سے بہتر ہوں۔ یہ تکبر تھاجس کی وجہ سے وہ دھتکار دیا گیا۔سجدہ  نہ کر نا اس کی غلطی تھی لیکن اس کے متکبرانہ رویے نے اسے عزازئیل سے ابلیس بنا دیا اور وہ قیامت  تک کے لیے دھتکار دیا گیا۔ دوسرا کردار آدم تھے ۔انہیں پیدا کر کے جنت میں بھیجا گیا جہاں ہر نعمت تھی لیکن ایک پابندی لگا ئی گئی کہ ایک درخت سے دور رہنا ہے اس کا پھل نہیں کھانا۔ شیطان نے بہکا دیا اور اس درخت کا پھل آدم نے چکھ لیا۔ غلطی ہو گئی لیکن احساس ہو تے ہی توبہ کر لی ، سا ڑھے تین سو سال روتے رہے۔اور اس عاجزی سے انہیں اعلی مقام مل گیا۔ معافی بھی مل گئی اور حضر ت آد م  پیغبر بن گئے۔

یہ دو کردار  در اصل دو راستے ہیں جن کی منزلیں بالکل مختلف ہیں۔لیکن آج کے انسان نے آدم کی اولاد ہو کے راستہ شیطان کا چن لیا ہے۔غلطیا ں قبول کر نے اور اصلاح کرنا تو عادات کا حصہ بنا ہی نہیں چاہے ماں باپ ہوں یا  استاد جن  پہ نئی نسل کی تربیت کی  ذمہ دار ی ہے سب غلطی کو اپنے حصے میں ڈالنے سے ڈرتے ہیں اور اس طرح بچے کبھی اتنے بہادر نہیں بنتے کہ وہ اپنے قصور مان سکیں۔ ملکی سطح پہ بھی یہی حال ہے کہ ہر آنے والی حکومت یہی بتاتی ہے کہ ان سے پہلے کیا غلطیاں ہوئی ہیں ، کبھی یہ نہیں بتایا کہ ہم سے کیا غلط ہوا ۔اس طرح معاشرے میں سب ہی اپنی غلطی قبول کر کے راستہ بدلنے کے بجائے ، جواز پیش کرنے میں لگے ہیں۔اپنی غلطیاں قبول کر نا مضبوط لوگوں کا کام ہے اور مضبوط لوگ ہی اعلی مقام تک پہنچتے ہیں۔ جب حضرت آدم نے خود کو مضبوط ثابت کر دیا تو وہ  پیغبر بن گئے۔حضرت آدم کو فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا جو ان کی فرشتوں پہ فضیلت کو ظاہر کرتا ہے ۔

ذرا سوچئے کہ غلطی کر کے معافی مانگنے والا ، غلطی نہ کرنے والے سے افضل ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حضرت آدم سے بھول شیطان کے بہکانے سے ہوئی تھی لیکن جب احساس ہوا تو شیطان کو الزام نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ میں نے اپنی جان پہ ظلم کیا ان کے برعکس شیطان نے اللہ سے کہا کہ تو نے مجھے بہکایا۔ اپنی غلطی کا الزام  دوسروں کو دینا  شیطان کا رویہ ہے۔  اس لیے غلطی ہو جائے تو مان کر معافی مانگ لیں اور دوسروں کو معا ف کر دیں گھر، رشتے اور معاشرے اسی سے خوبصورت بنتے ہیں۔

About رومانہ گوندل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *